| 83451 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
مرحوم کے بھائیوں نے مرحوم کی بیوی اور بیٹیوں کو گھر سے بھی نکالا ہےاب مرحوم کی بیوی اپنے بھائی کے ساتھ رہ رہی ہے اور مرحوم کے بھائی ان کو حصہ بھی نہیں دے رہے ہیں،اور کہہ رہے ہیں کہ مرحوم کی بیوہ بیوی پہلے اپنے بھائیوں سے اپنا حصہ لے لے پھر ہم سے مطالبہ کرے۔نیز مرحوم کے بھائی کا کہنا ہے کہ میں اس بات کا تو اقرار کرتا ہوں کہ مرحوم وسیم کی بیوہ بیوی کو ان کا حق جو میراث میں سے بنتا ہے نقدی(روپے) کی صورت میں دینے کو تیار ہوں البتہ جائیداد کی صورت میں دینے کے لیے تیار نہیں ہوں،کیا مرحوم کے بھائی کا یہ فعل شرعاً درست ہے؟اور اس طرح کرنے کی گنجائش ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم کے ترکہ پراس کے بھائیوں کا قبضہ کرکے بیوہ اور مرحوم کی بیٹیوں کو ان کے شرعی حصے سے محروم کرنا جائز نہیں ،یہ سخت گناہ ہے۔ حدیثِ مبارک میں اس پر بڑی وعیدیں آئی ہیں: حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (کسی کی) بالشت بھر زمین بھی بطورِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پر ڈالی جائے گی۔ (صحیح مسلم:1610)
لہذا مرحوم کے بھائیوں پر لازم ہے کہ بھابھی اور بھتیجیوں کو شریعت کے مطابق ان کا حق دے دیں۔
باقی مرحوم کے بھائی کا یہ کہنا کہ میں صرف نقدی کی شکل میں حصہ دوں گا ،جائیداد کی صورت میں دینے کے لیے تیار نہیں ہوں تو چونکہ مالِ میراث میں سارے شرکاء کا شرعی حق متعین ہے، اور اگر کوئی وارث اپنا حقِ میراث کسی دوسرے وارث کو فروخت کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ لہٰذا اگر مرحوم وسیم کی بیوہ اور بیٹیاں مالِ میراث میں سے اپنا حق چھوڑ کر اُس کا عوض لینے پر راضی ہیں تو اس کے بدلے میں قیمت و صول کرسکتی ہیں۔ اگر وہ اس پر راضی نہیں تو ان سے جبرا ان کا حصہ خریدنا جائز نہیں۔
حوالہ جات
حدثنا يحيى بن أيوب وقتيبة بن سعيد وعلي بن حجر قالوا حدثنا إسمعيل وهو ابن جعفر عن العلاء بن عبد الرحمن عن عباس بن سهل بن سعد الساعدي عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من اقتطع شبرا من الأرض ظلما طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين.
) صحیح مسلم :1610)
كل يتصرف في ملكه كيفما شاء، لكن إذا تعلق حق الغير به، فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال.(مجلة الأحكام العدلية:230)
مال المتوفى المتروكة مشتركة بين الورثة على حسب حصصهم.(مجلة الأحكام العدلية:210)
"(أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة، وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له، (أو) أخرجوه (عن) تركة هي (ذهب بفضة) دفعوها له، (أو) على العكس، أو عن نقدين بهما، (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه، (قل) ما أعطوه (أو كثر)، لكن بشرط التقابض فيما هو صرف. (وفي) إخراجه عن (نقدين) وغيرها بأحد النقدين لا يصح، (إلا أن يكون ما أعطى له أكثر من حصته من ذلك الجنس) تحرزا عن الربا. ولا بد من حضور النقدين عند الصلح وعلمه بقدر نصيبه. شرنبلالية وجلالية. ولو بعرض جاز مطلقا، لعدم الربا، كذا لو أنكروا إرثه؛ لأنه حينئذ ليس ببدل، بل لقطع المنازعة. الدر المختار (5/642):
محمد مفاز
دارالافتاء، جامعۃ الرشید،کراچی
2 شعبان 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد مفاز بن شیرزادہ خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


