| 83626 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
لڑکی والوں کا بیان:
میری بہن کےشوہر 13شوال 1445ھ کو ہمارے گھر آئے، ان دنوں میاں بیوی کے درمیان کچھ مسائل چل رہے تھے، انہوں نے ہمارے گھر آ کر کافی شورمچایا کہ میرا بچہ مجھے دے دو، ہم نے کافی سمجھانے کی کوشش کی، مگر وہ اس پر بضد تھے کہ مجھے اس لڑکی کے ساتھ نہیں رہنا، مجھے اپنا بچہ چاہیے فقط۔ جب میری بہن نے بچہ نہ دیا تو وہ گھر سے باہر نکل گئے اور غصے میں تین مرتبہ کہا کہ میں اسے طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔ یہ الفاظ میں نے اور دو بھائیوں اور والد صاحب نے بھی سنے، لہذا میں اور میرا بھائی حلفیہ بیان دیتے ہیں کہ اس نے یہ الفاظ تین مرتبہ کہے ہیں، نیزہمارے بعض پڑوسیوں نے بھی یہ الفاظ سنے ہیں ، اس کے بعد چند دن گزرے تو ہم نے اپنی بہن کے سامان کا مطالبہ کیا تو شوہر نے سرے سے طلاق دینے کا انکار کر دیا کہ میں نے طلاق نہیں دی، بلکہ یہ کہا تھا کہ میں طلاق دے دوں گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہو گئی؟ جبکہ میری بہن کو بھی طلاق واقع ہونے کا یقین ہے۔
لڑکے والوں کا بیان:
لڑکی کے شوہر علی رفیق خان نے حلفیہ بیان دیا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی، بلکہ گھر میں لڑائی جھگڑا ہونے کے بعد میں باہر آیا اور میں نے کہا کہ میں اسے طلاق دے دوں گا،اسی طرح اس کے بھائی عثمان رفیق خان نے بھی یہی بیان دیا کہ علی رفیق نے یہ کہا تھا کہ میں اسے طلاق دے دوں گا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید جاننا چاہیے کہ میاں اور بیوی کے درمیان طلاق کے معاملے میں اختلاف کی صورت میں اگر عورت کے پاس اپنے دعوی پر شرعی گواہ موجود ہوں تو ان گواہوں کے بیان کے مطابق حکم لگتا ہے اورسوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق چونکہ لڑکی کے دو بھائیوں نے حلفیہ بیان دیا ہے کہ علی رفیق نے تین مرتبہ یہ الفاظ کہے ہیں کہ میں اسے طلاق دیتا ہوں۔ اس لیے اب شرعی اعتبار سے تین طلاقیں ثابت ہو چکی ہیں اور اس کے خلاف شوہر کے حلفیہ بیان کا اعتبار نہیں ہو گا، کیونکہ جب مدعی/مدعیہ گواہوں سے اپنے موقف کو ثابت کر دے تو دوسرے فریق یعنی مدعی علیہ کی قسم کا اعتبار نہیں ہوتا۔
لہذا صورتِ مسؤلہ میں لڑکی کے بھائیوں کے حلفیہ بیان کے مطابق عورت پر تین طلاقیں واقع ہوکر فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو چکا ہے اور اس پر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، حرمتِ مغلظہ کا مطلب یہ ہے کہ اب فریقین کے درمیان رجوع نہیں ہو سکتا اور موجودہ صورتِ حال میں دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا اور یہ اہلِ السنة والجماعت یعنی حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا متفقہ مسئلہ ہے، جس پر قرآن وسنت میں واضح دلائل موجود ہیں، اس لیے اب ان دونوں کا اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں۔ اور عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، البتہ اگر یہ عورت اپنے سابقہ خاوند (جس نے تین طلاقیں دی ہیں ) سے ہی نکاح کرنا چاہے تو اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ عورت عدت گزارنے کے بعد غیرمشروط طور پرکسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ خاوند عورت سے ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدے یا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، ورنہ کسی صورت میں نکاح جائز نہیں۔
یہ بات بھی یاد رہے کہ اب عورت کا اسی حالت میں مرد کے ساتھ رہنا ہرگز جائز نہیں، کیونکہ صلح کے ذریعہ حرام چیز حلال نہیں ہو سکتی، فقہائے کرام رحمہم اللہ نے یہاں تک تصریح کی ہے کہ اگر بالفرض عورت کے پاس تین طلاق کے وقوع پر گواہ نہ ہوں، لیکن اس کو کسی نیک اور صالح آدمی کے خبر دینے سے شوہر کی طرف سے تین طلاق دینے کا یقین ہو جائے اور معاملہ عدالت میں چلا جائے تو عورت کے پاس گواہ نہ ہونے کی وجہ سے عدالت مرد سے قسم لے کر تین طلاق کے عدمِ وقوع کا فیصلہ کر دے تو بھی عورت مرد کے لیے دیانتاً حلال نہیں ہو گی اور اس کا مرد کو ہمبستری وغیرہ کے لیے اپنے اوپر قدرت دینا ہرگز جائز نہیں ہو گا، چنانچہ فقہ حنفی کے ماخذ اور معتبر ترین کتاب "الاصل" میں امام محمدرحمہ اللہ نے اس کی صراحت کی ہےاورحنفیہ کی دیگر کتب میں بھی یہ مسئلہ اسی طرح بیان کیا گیا ہے کہ عدالت کے فیصلہ کے بعد بھی عورت مرد کے لیے شرعاً حلال نہیں ہو گی۔ کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے یہ اصول بیان فرمایا ہے:"المرٲة کالقاضی" یعنی عورت کا حکم قاضی کی طرح ہے، مطلب یہ کہ جس طرح قاضی ظاہری صورتِ حال کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند ہوتا ہے، اسی طرح عورت پربھی خاوند کے ظاہری الفاظ کے مطابق عمل کرنا لازم ہے، اگرچہ عدالت گواہی نہ ہونے کی وجہ سے خاوند کے حق میں فیصلہ کردے۔[1]
[1] البتہ اس پر سوال ہوتا ہے کہ قاضی کے مرد کے حق میں فیصلہ کرنے کی صورت میں عورت مرد سے کیسے علیحدہ رہے گی؟ تو فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اس کی دو
صورتیں ذکر کی ہیں:
ایک یہ کہ عورت مرد کو کچھ مال دے کر اپنی جان چھڑالے۔
دوسری یہ کہ اس کے گھر سے بھاگ کر اپنے والدین یا کسی محرم رشتہ دار کے ہاں پناہ لے لے۔
اگر عورت ان میں سے کسی پر بھی قادر نہ ہو اور مرد اس سے زبردستی ہمبستری کرنے کی کوشش کرے تو ایسی صورت میں بعض فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ گناہِ کبیرہ سے بچنے کی خاطرعورت مرد کو قتل کر سکتی ہے، لیکن اس قول پر فتوی نہیں ہے، اسی لیے دیگر فقہائے کرام رحمہم اللہ نے قتل کی اجازت نہیں دی، بلکہ یہ کہا کہ ایسی صورت میں سارا گناہ مرد کو ہو گا، بشرطیکہ عورت ہمبستری پر راضی نہ ہو، ورنہ وہ بھی گناہگار ہو گی۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (3/ 168، رقم الحدیث: 2639) دار طوق النجاة:
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها: جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: كنت عند رفاعة، فطلقني، فأبت طلاقي، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب، فقال: «أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك»
حاشية ابن عابدين (3/ 304)ايچ ايم سعيد، كراچي:
(قوله فواحدة ديانة) لاحتمال قصده التأكيد كأنت طالق طالق فتح (قوله وثلاث قضاء) لأنه يكون ناويا بكل لفظ ثلث تطليقة، وهو مما لا يتجزأ فيتكامل فيقع الثلاث بحر عن المحيط. قال في الفتح: والتأكيد خلاف الظاهر، وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه. اهـ.
تبيين الحقائق (2/ 198) دار الكتب الإسلامي:
لو قال لها أنت طالق ونوى به الطلاق عن وثاق لم يصدق قضاء ويدين فيما بينه وبين الله تعالى لأنه خلاف الظاهر والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها۔
الأصل المعروف بالمبسوط للشيباني (3/ 157) إدارة القرآن والعلوم الإسلامية، كراتشي:
إن سمعته طلقها ثلاثا ثم جحد وحلف أنه لم يفعل فردها القاضي عليه لم يسعها المقام معه ولا يسعها أن تعتد وتتزوج لأن الحاكم حكم بأنها زوجته فلا ينبغي لها أن تتزوج غيره فتركب بذلك أمرا حراما عند المسلمين تكون به عندهم فاجرة ولا يشبه هذا فيما وصفت لك قضاء القاضي به فيما يختلف فيه مما يرى الزوج فيه خلاف ما يرى القاضي.
التنبيه على مشكلات الهداية (3/ 1207) لصدر الدين عليّ بن عليّ ابن أبي العز الحنفي (المتوفى 792 هـ) مكتبة الرشد ،المملكة العربية السعودية:
هذه المسألة من فروع القضاء بالشهادة الزور في العقود والفسوخ وأنه ينفذ ظاهرًا وباطنًا عند أبي حنيفة رحمه الله، وخالفه فيها أصحابه الثلاثة أبو يوسف، ومحمد، وزفر، وبقية الأئمة رحمهم الله. وقالوا: ينفذ ظاهرًا فقط، وكان الشيخ أبو الليث السمرقندي وغيره يأخذ بقولهما في الفتوى.
ويرجع قولهم حديث أم سلمة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إنما أنا بشر مثلكم، وإنكم تختصمون إلي ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض فأقضى (له علي) نحو ما أسمع فمن قضيت له من حق أخيه شيئًا فلا يأخذه؛ فإنما أقطع له قطعة من النار» رواه الجماعة، وهو يشمل العقود والفسوخ وغيرهما.
الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 376) دار احياء التراث العربي – بيروت:
قال: "ولو أن امرأة أخبرها ثقة أن زوجها الغائب مات عنها، أو طلقها ثلاثا أو كان غير ثقة وأتاها بكتاب من زوجها بالطلاق، ولا تدري أنه كتابه أم لا. إلا أن أكبر رأيها أنه حق" يعني بعد التحري "فلا بأس بأن تعتد ثم تتزوج"؛ لأن القاطع طارئ ولا منازع.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/421)دارالكتب العلمية، بيروت:
(لها قتله) بدواء خوف القصاص، ولا تقتل نفسها. وقال الأوزجندي: ترفع الأمر للقاضي، فإن حلف ولا بينة فالإثم عليه، وإن قتلته فلا شيء عليها. والبائن كالثلاث، وفيها شهدا أنه طلقها ثلاثا لها التزوج بآخر للتحليل لو غائبا انتهى. قلت: يعني ديانة. والصحيح عدم الجواز قنية، وفيها: لو لم يقدر هو أن يتخلص عنها ولو غاب سحرته وردته إليها لا يحل له قتلها، ويبعد عنها جهده (وقيل: لا) تقتله، قائله الإسبيجابي (وبه يفتى) كما في التتارخانية وشرح الوهبانية عن الملتقط أي، والإثم عليه كما مر.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 62) دار الكتاب الإسلامي،بيروت:
إن سمعته طلقها ثلاثا ثم جحد، وحلف أنه لم يفعل، وردها القاضي عليه لم يسعها المقام معه، ولم يسعها أن تتزوج بغيره أيضا. والحاصل أنه جواب شمس الإسلام الأوزجندي ونجم الدين النسفي والسيد أبي شجاع وأبي حامد والسرخسي يحل لها أن تتزوج بزوج آخر فيما بينها وبين الله تعالى، وعلى جواب الباقين لا يحل انتهى، وفي الفتاوى السراجية إذا أخبرها ثقة أن الزوج طلقها، وهو غائب وسعها أن تعتد وتتزوج، ولم يقيده بالديانة، والله أعلم.
قال المصنف - رحمه الله - وقد نقل في القنية قبل ذلك عن شرح السرخسي ما صورته طلق امرأته ثلاثا، وغاب عنها فلها أن تتزوج بزوج آخر بعد العدة ديانة ونقل آخر أنه لا يجوز في المذهب الصحيح اهـ.
قلت إنما رقم لشمس الأئمة الأوزجندي، وهو الموافق لما تقدم عنه، والقائل بأنه المذهب الصحيح العلاء الترجماني ثم رقم بعده لعمر النسفي، وقال حلف بثلاثة فظن أنه لم يحنث، وعلمت الحنث، وظنت أنها لو أخبرته ينكر اليمين فإذا غاب عنها بسبب من الأسباب فلها التحلل ديانة لا قضاء قال عمر النسفي سألت عنها السيد أبا شجاع فكتب أنه يجوز ثم سألته بعد مدة فقال إنه لا يجوز، والظاهر أنه إنما أجاب في امرأة لا يوثق بها اهـ.
كذا في شرح المنظومة، وفي البزازية شهد أن زوجها طلقها ثلاثا إن كان غائبا ساغ لها أن تتزوج بآخر، وإن كان حاضرا لا لأن الزوج إن أنكر احتيج إلى القضاء بالفرقة، ولا يجوز القضاء بها إلا بحضرة الزوج. اهـ.
وفيها سمعت بطلاق زوجها إياها ثلاثا، ولا تقدر على منعه إلا بقتله إن علمت أنه يقربها تقتله بالدواء، ولا تقتل نفسها، وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة تحلفه فإن حلف فالإثم عليه، وإن قتلته فلا شيء عليها، والبائن كالثلاث. اهـ. وفي التتارخانية. وسئل الشيخ أبو القاسم عن امرأة سمعت من زوجها أنه طلقها ثلاثا، ولا تقدر أن تمنعه نفسها هل يسعها أن تقتله في الوقت الذي يريد أن يقربها، ولا تقدر على منعه إلا بالقتل فقال لها أن تقتله، وهكذا كان فتوى الإمام شيخ الإسلام عطاء بن حمزة أبي شجاع، وكان القاضي الإمام الإسبيجابي يقول ليس لها أن تقتله، وفي الملتقط، وعليه الفتوى في فتاوى الشيخ الإمام محمد بن الوليد السمرقندي في مناقب أبي حنيفة عن عبد الله بن المبارك عن أبي حنيفة أن لها أن تقتله، وفي المحيط في مسألة النظم، وينبغي لها أن تفتدي بمالها، وتهرب منه فإن لم تقدر قتلته متى علمت أنه يقربها، ولكن ينبغي أن تقتله بالدواء، وليس لها أن تقتل نفسها قلت قال في المنتقى، وإن قتلته بالآلة يجب عليها القصاص. اهـ.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
13/شوال 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


