| 82262/63 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ! میں ایک فری لانسر ہوں اورمجھے اپنے متعلقہ گاہکوں تک پہنچنے کے لیے ان کے رابطہ نمبرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے میں گوگل پر مختلف ویب سائٹس اور بہت سارے سٹورز کو وزٹ کرتا ہوں ،جہاں مجھے کوئی ایک آدھ رابطہ نمبر ملتا ہے ،لیکن جس کا رابطہ نمبر ملتا ہے وہ کسی کمپنی یا ادارے کا ایک عام فرد ہونے کی وجہ سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، لہذا میں ادارے یا کمپنی کے سی ای او تک پہنچنے کے لیے ایک تکنیک استعمال کرتا ہوں اور تکنیک یہ کہ میں مختلف ٹولز مثلاHunter.io کو استعمال کرکے مختلف ویب سائٹس یا کمپنیوں کے اچھے عہدوں پر فائز لوگوں کے رابطہ نمبرز یا جی میل اکاؤنٹس تلاش کرتا ہوں۔ اور پھر جب ان سے رابطہ ہو جاتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا ،حالانکہ ان کے ایسے رابطہ نمبر تلاش کرکے ہم ان تک پہنچتے ہیں جو انہوں نے ظاہر نہیں کیے ہوتے ۔پھر اگر وہ راضی ہوں تو میرے متعلقہ کام کے لیے سروس حاصل کر لیتے ہیں۔
اس سلسلے میں میرے دوستوں نے کہا کہ یہ چونکہ پرسنل ڈیٹا کے زمرے میں آتا ہے اور کسی کا پرسنل ڈیٹا استعمال کرنا شرعا اور قانونا جائز نہیں ہے،لہذا آپ مفتیان کرام سے رابطہ کریں، لیکن میں نے جب اپنے اساتذہ سے بات کی تو انہوں نے یہ کہا کہ"Hunter.io ، سافٹ ویئر میں ایک اچھی خصوصیت ہے جو بڑی ویب سائٹس پر بڑی تعداد میں صفحات کو کرال کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اور یہ صرف وہ ای میل پتے تلاش کرتا ہے جو ویب ماسٹرز کے ذریعہ ان بڑی یا چھوٹی ویب سائٹس کے صفحات میں سے کسی ایک پر رکھے گئے ہیں۔ بصورت دیگر اس قسم کی ویب سائٹس امریکہ میں انٹرنیٹ کرائمز پراسیکیوشن کے تابع ہیں،لہذا پراعتماد اور مطمئن رہیں، ای میل پتے تلاش کرنے کے لیے ہنٹر نما ایپ استعمال کرنا اخلاقی طور پر بالکل ٹھیک ہے۔ کسی ویب سائٹ پر تمام عوامی ڈیٹا کو تلاش کرنا پہلے سے ہی عوامی ہے اور بطور ڈیفالٹ استعمال کرنے کی اجازت ہے۔
ہنٹر لاکھوں صفحات کو کرال کرتا ہے اور کسی بھی ویب سائٹ پر ای میل کے مالک کے ذریعے شیئر کردہ رابطہ کی معلومات تلاش کرتا ہے، بشمول اس کی اپنی یہ لنکڈ، ٹویٹر، اور دیگر مہمان پوسٹ بلاگز کا حصہ ہے۔ ہنٹر انٹرنیٹ پر کئی صفحات رینگتا ہے اور پھر کچھ رابطے کی معلومات تلاش کرتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کے ٹولز کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ ایکسپرٹس کے مطابق اگر یہ انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی ہوتا تو ایسے ٹولز کا استعمال ہی ممنوع ہوتا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی بھی شخص کا نمبر ویب سائٹ سے کاروباری رابطے کی غرض سے اٹھانے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں :
1۔اس شخص نے اگر اپنے آپ کو محدود رکھا ہے تو اس کا ڈیٹا لینا اور رابطہ کرنا درست نہیں ہونا چاہیے ۔
2۔اگر اس نے کوئی پابندی نہ لگائی ہو تو درست ہونا چاہیے بشرطیکہ اس کو بار بار کالز یا میسجز کر کے ایذا رسانی کا باعث نہ بنے ،نیز اس میں مزید تین شرطوں کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے:
1۔ کوئی ایسی دخل اندازی نہ کی جائے جو کمپنی کے قواعد و ضوابط کے خلاف ہو ۔
2۔رابطہ نمبر یا ای میل آئی ڈی وغیرہ کے ذریعے غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کرے۔
3۔ ملکی قوانین کی خلاف ورزی نہ لازم آتی ہو۔
حوالہ جات
قال العلامة الكاساني رحمه اله تعالى:إن الاستئذان ليس للسكان أنفسهم خاصة، بل لأنفسهم ولأموالهم؛ لأن الإنسان كما يتخذ البيت سترا لنفسه يتخذه سترا لأمواله، وكما يكره اطلاع الغير على نفسه يكره اطلاعه على أمواله..... هذا إذا كان البيت مسكونا بأن كان له ساكن ،وأما إذا لم يكن كالخانات والرباطات التي تكون للمارة والخربات التي تقضى فيها حاجة البول والغائط، فلا بأس أن يدخله من غير استئذان؛ لقوله سبحانه وتعالى: {ليس عليكم جناح أن تدخلوا بيوتا غير مسكونة فيها متاع لكم} أي منفعة لكم .وهي منفعة دفع الحر والبرد في الخانات والرباطات ومنفعة قضاء الحاجة من البول والغائط في الخربات .والله سبحانه وتعالى أعلم.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:٥/١٢٥)
احسن ظفر قریشی
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید،کراچی
05 جمادی الآخرۃ 1445 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسن ظفر قریشی بن ظفر محمود قریشی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


