| 83635 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم !گزارش یہ ہے کہ میری فیملی یعنی میرے ماں باپ اور میرے بہن بھائیوں سے میں بہت زیادہ پریشان ہو گیا ہوں، گزشتہ 34 سال سے اپنے والد کی شوق گٹلک ڈائنگ سینٹر میں شاپ نمبر 20، 21 پر بغیر سیلری کے کام کر رہا ہوں،اس کےباوجود یہ سب لوگ الگ الگ جگہ جا کر تعویذ، گنڈے، کالا جادواور سفلی عملیات کر رہے ہیں مجھے اور میری فیملی کو جان سے مارنے کے لیے، گزشتہ 34 سال میں نے محنت مشقت کی ہے ،پچھلے رمضان المبارک میں سب لوگوں نے مجھے میری فیملی کے ساتھ رات کو تین بجے یعنی آدھی رات کوگھر سے باہر نکال دیا تھا اور اب دکان سے بھی نکال رہے ہیں، اب آپ بتائیں کہ میں اپنی فیملی کو زہر دے کر جان سے مار دوں یا نہیں؟ پلیز اللہ کے واسطے میرا یہ مسئلہ حل کریں، میرے والد کی دکان پر میں نے دن رات محنت مشقت کر کے ان لوگوں کو کروڑوں روپے کی پراپرٹی بناکردی تھی،جس سے ان لوگوں کے پاس ماہانہ لاکھوں روپے کرایہ آرہا ہے ۔
میری بہن سائمہ نے اپنے شوہر کو بھی تعویذ سفلی عملیات کر کر کے جان سے مار دیا اور سن 2015 میں ہمارے گھر آکرہماراپوراگھربربادکردیاہے، میرے والد اور والدہ کو بھی اس نے پیٹ میں گندا عمل اتارکر اپنی طرف کر لیا ہے، اللہ کے واسطے میرے لیے کچھ حل نکالیں،ورنہ میری اور میری فیملی کی موت کے ذمہ دار میرے سب گھر والے ہوں گے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں آپ نےعرصہ 34 سال والد کے کاروبار میں محنت کی ، جس سے کروڑں کی جائیدادیں بنائی گئی ہیں، اگر چہ اصولی طور پر کچھ طے نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو کاروبار میں شریک اور حصہ دار نہیں سمجھا جا سکتا ، لیکن اتنا عرصہ بغیر معاوضہ کے عرفاً کوئی شخص کا روبار نہیں کرتا ، لہذاآپ کی محنت کو ضائع قرار نہیں دیا جا سکتا ، بلکہ یہ قرار دیا جائے گا کہ آپ نے بحیثیت ملازم اتنے سال محنت کی ہے،چونکہ تنخواہ مقرر نہیں کی گئی تھی، اس لئےیہ اجارہ فاسدہ ہوگا،اورجارہ فاسدہ کاحکم یہ ہوتاہےکہ ملازم کو اجرت مثل ملتی ہے،ایسی صورت میں بھی کاروبارسارا والد کاہی ہوگا ،آپ کوآپ کی محنت کی اجرت مل جائےگی۔
اجرت مثل یہ ہے کہ اتنے سال ایسے کاروبار کو اتنی ترقی تک پہنچانے کے لئے محنت کرنے کا عام عرف میں کیا معاوضہ بنتا ہے۔ چند کا روباری ماہرین کے محتاط اندازے سے اس کو متعین کیا جاسکتاہے،لہذآپ اپنی محنت کی اجرت مثل کےمستحق ہونگے ، اجرت مثل دیےبغیر والد اور دوسرے رشتہ داروں کاآپ کوکار وبار سے بے دخل کرنا شرعاجائزنہیں ہوگا۔
حوالہ جات
"الدر المختار" 6/ 42:
وفي الأشباه: استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم، وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعمل له. وفي الدرر: دفع غلامه أو ابنه لحائك مدة كذا ليعلمه النسج وشرط عليه كل شهر كذا جاز ولو لم يشترط فبعد التعليم طلب كل من المعلم والمولى أجرا من الآخر اعتبر عرف البلدة في ذلك العمل۔
"رد المحتار علی الدر المختار"6/ 42:
قوله ( فالعبرة لعادتهم ) أي لعادة أهل السوق، فإن كانوا يعملون بأجر يجب أجر المثل وإلا فلا. قوله ( اعتبر عرف البلدة الخ ) فإن كان العرف يشهد للأستاذ يحكم بأجر مثل تعليم ذلك العمل، وإن شهد للمولى فأجر مثل الغلام على الأستاذ ، درر۔
"المحيط البرهاني "8/ 390:
في «مجموع النوازل»: رجل يبيع شيئاً في السوق فاستعان بواحد من أهل السوق على بيعه، فأعانه، ثم طلب منه الأجرفإن العبرة في ذلك لعادة أهل السوق، فإن كان عادتهم أنهم يعملون بأجر يجب أجر المثل، وإن كان عادتهم أنهم يعملون بغير أجر فلا شيء له۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
12/شوال 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


