03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سوتیلی والدہ کا اپنے سوتیلے بیٹے زکوة دینے کاحکم
83656زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میری ایک سوتیلی ماں ہے، اس کے پاس زیورہے جس کی زکوة ادا کرنےکےلیے اس نے اپنے شوہریعنی میرے والدکو رقم دی تاکہ وہ مستحقین کودیدے،میں مستحقِ زکوة تھا تومیرے والدنے وہ رقم مجھے دی اورکہاکہ قبول کرکے واپس والدہ کو دو،میں نے قبول کرکے واپس والدہ کو دی ،تو کیا میری سوتیلی والدہ کی زکوة ادا ہوگئی ہے یانہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والدہ کا اپنے حقیقی بیٹے زکوة دینا تو جائزنہیں ،مگرسوتیلی والدہ کا اپنے مستحق سوتیلےبیٹے کو زکوة دینا جائزہے ،لہذا مسئولہ صورت میں جب آپ  کےوالدنے جوکہ آپ کی والدہ کی طرف سے زکوة کی ادائیگی کے وکیل تھے آپ کو زکوة کی رقم دی اورآپ نے قبول کرکے پھراپنی سوتیلی والدہ کواپنی مرضی سے دی تو اس سے اس کی زکوة ادا ہوگئی ۔

حوالہ جات

وفی البدائع( 2/143):

ولا یدفع إلیٰ والدہ وإن علا ولاإلیٰ ولدہ وإن سفل ، لأنہ ینتفع بملکہ ،فکان الدفع إلیہ دفعاً إلیٰ نفسہ من وجہ ، فلا یقع تملیکا مطلقاً.

وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 346):

ويجوز دفعها لزوجة أبيه وابنه وزوج ابنته تتارخانية.

وفی الفتاوى الهندية (1/ 189) :

ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسب.

الفتاوى البزازية (1/ 40):

 الوكيل بأداء الزكاة إذا صرفه إلى ولده الكبير أو الصغير أو امرأته وهم محاويج جاز ولا يمسك لنفسه شيئاً.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

۲١/١۰/۱۴۴۵ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب