03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مدیون کا زکوة وصول کرنا
83657زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

   زیدنے نومبر2022میں اپنے حالات بتاکردارالافتاء دارالعلوم کراچی سے سوال کیا،جواب میں دارالافتاء دارالعلوم کراچی نے دسمبر2022میں فتوی جاری کیا کہ زید زکوة لے سکتاہے (فتوی ساتھ لف ہے) اب مسئلہ یہ پیش آگیاہے کہ مارچ 2024میں زید اپنے کمرے کا درازچیک کررہاتھا،تواس کو درازکے آخرمیں کونے سے ایک پوٹلی ملی جس میں سونا نکل آیا،جس وقت نومبر2022میں زید نے دارالافتاء دارالعلوم کراچی سے فتوی لیاتھا  اس وقت زیدکے علم میں بالکل بھی نہیں تھاکہ زید کے پاس اس کی فوت شدہ والدہ کی طرف سے 2014میں ہدیہ کیاہواسونا پوٹلی میں پڑا ہے ،زید نے دارالافتاء دارالعلوم کراچی کے فتوی کے مطابق دوست احباب اوردیگرلوگوں سے دسمبر2022سے ماہانہ کی بنیاد پر زکوة وصول کرنی شروع کی اوراستعمال کی اورآج تک ہرماہ لوگوں کی طرف سے زکوة وصول کررہاہے اوراستعمال کررہاہے،اب تک لاکھوں روپے وصول کرچکاہے اوراستعمال کرچکاہے،زید نومبر2022میں دارالافتاء دارالعلوم کراچی کو حالات بیان کرتے ہوئے یہ بتانا بھول گیا تھا کہ زید نے لوگوں کا 49لاکھ کا قرضہ واپس کرناہے، زید کو جیسے ہی اس ماہ (مارچ 2024کو)اپنی ماں کی طرف سے دیا ہوا سونا درازسے ملاتو زید نے ساراسونا فوراًمارکیٹ جاکر9لاکھ کا فروخت کردیا،اس وقت زید کے پاس 9لاکھ موجود ہیں اورساتھ ہی مارچ 2024میں لوگوں کی طرف سے دیئے گئے زکوة کے پیسے بھی ،زید نے آج بھی (مارچ 2024کو)لوگوں کا 42لاکھ کاقرضہ واپس کرناہے ۔اب  درج ذیل باتوں میں رہنمائی مطلوب ہے:

  1. زیدنے دسمبر2022سے مارچ 2024تک لوگوں سے تقریباً8لاکھ زکوة وصول کرلی ہے اوراستعمال بھی کرلی ہے،کیا یہ ساری زکوة زید نے غلط وصول کی ہے یاصحیح؟
  2. کیا زید کو زکوة کے پیسے سب کو لوٹانے ہونگے؟ اگرہاں تو کیا  زیدیہ سارے پیسے لوگوں کو واپس لوٹانےکی بجائے اس وقت جو مستحق ِزکوة بندہ زید کو ملے اسے دے سکتاہے؟
  3. اگرزید نے زکوة کے پیسے صحیح وصول کیے ہیں تو کیا زیداس وقت 9لاکھ قبضے میں ہونے کے باوجودلوگوں سے مزیدزکوة وصول کرسکتاہے؟ کیونکہ زید نے اس وقت بھی لوگوں کا 42 لاکھ کا قرضہ واپس کرناہے ۔
  4. اگرزید نے لوگوں سے زکوة غلط وصول کی ہے تو کیا زید نے گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کیا ؟ زید نے اپنااوربیوی، بچوں کا پیٹ حرام مال سے پالا؟ اوراس حرام مال کی نحوست ساری زندگی رہے گی، جبکہ زید نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1. اگرواقعتاً زید کے وہ حالات تھے جو سوال میں مذکورہیں تو زید نے یہ زکوة صحیح وصول کی ہے،لہذا اس حوالےسے کسی شک وشبہہمیں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے،ویسےبھی بقول سائل کےزید پر42لاکھ کا قرضہ اب بھی ہے، اس میں سے 9لاکھ نکال بھی دیں توبھی 33لاکھ کےبقدرزیدمقروض بنتاہے اورمقروض مستحقِ زکوة ہوتاہے۔

2. اس میں سےکچھ بھی زیدکو واپس لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔

3. جب تک زید مقروض ہے وہ مستحقِ زکوة ہے ،لہذا وہ مزید زکوة بھی وصول کرسکتا ہے۔

4. جب زید مستحقِ زکوة تھا تو اس نے زکوة وصول کرکے صحیح کام کیا ہے، لہذااس میں گناہ ،حرام اورنحوست کی کوئی بات نہیں ہے۔

حوالہ جات

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 225):

(ولو دفع) المزكي (إلى من ظنه مصرفا فبان أنه غني أو هاشمي) على الصحيح عند الإمام (أو كافر) المراد بالكافر ما كان ذميا أما لو ظهر حربيا أو مستأمنا لا يجوز كما في الجوهرة والبحر (أو أبوه أو ابنه أجزأه) عند الطرفين (خلافا لأبي يوسف).

وفی رد المحتار( باب المصرف ج: ۲ ص: ۸۸):

وذکر فی الفتاویٰ فیمن لہ حوانیت ودور الغلۃ لکن غلتھا لا تکفیہ و وعیالہ انہ فقیرو یحل لہ اخذ الصدقۃ عند محمد وفیھا سئل محمد عمن لہ ارض یزرعھا او حافوت یستغلھا اودار غلتھا ثلاثۃ الا ف ولا تکفی لنفقتہ ونفقۃ عیالہ سنہ یحل لہ اخذ الزکوٰۃ وان کانت قیمتھاتبلغ الو فا وعلیہ الفتویٰ .

وفی الفتاوى الهندية (1/ 188) :

(ومنها الغارم) وهو من لزمه دين، ولا يملك نصابا فاضلا عن دينه أو كان له مال على الناس لا يمكنه أخذه كذا في التبيين. والدفع إلى من عليه الدين أولى من الدفع إلى الفقير كذا في المضمرات.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

۲١/١۰/۱۴۴۵ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب