03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کو طلاق دینے اور حق مہر کی ادائیگی کا حکم
83666طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

میرا نام عبدالولی ہے ، میں نے اپنے دوبھائیوں کی شادی کی ،ہر ایک کا حق مہر   چھ چھ لاکھ مقرر کیا جس میں ہم نے دونوں بھائیوں کا دو ، دو لاکھ مہر ادا کیا ۔ گھریلو ناچاقی کی وجہ سے میرے  ایک بھائی  عبدالواحد نے دوسری شادی کرلی  اور اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے ، اور دوسرے بھائی عبد الله اپنی بیوی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے، جبکہ عبداللہ کے ساتھ اس کی بیوی نہیں رہنا چاہتی اور خلع لینا چاہتی ہے ۔ دونوں عورتیں مسلسل تین سالوں سےمیکے میں رہ رہی ہے ۔

  اب عبد الواحد جو کہ اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے وہ حق مہر میں کتنی رقم ادا کریں ؟ عبد اللہ جو کہ اپنی بیوی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے مگر اس کی بیوی خلع  لیناچاہتی ہے۔ان دونوں صورتوں میں عبدالواحد اور عبد اللہ کے ذمہ کیا کیا فرائض ہوں گے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت اور عقل و دانش کا تقاضایہ ہےکہ انتہائی مجبوری کے بغیر طلاق دینے سے گریز کیا جائے۔ طلاق کو حضورﷺ نے حلال امور میں سب سے مبغوض اورناپسندیدہ  قرار دیا ہے ،مزید یہ کہ اس سے دونوں خاندانوں کےدرمیان جھگڑے کی نوبت آنے کا  قوی خدشہ  ہے جو کہ شریعت میں انتہائی مذموم ہے۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ  نکاح کے رشتہ میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ، ان میں سے اکثر مسائل کا حل بآسانی نکل سکتا ہےاور کم ہی مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کا حل نہ نکل سکے۔ایسے ہی مواقع  سے متعلق حضورﷺ نے فرمایا کہ عور ت  ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی  ہے ،اس کو اگر مکمل سیدھا کرنے لگو گے تو اس کو توڑ ڈالو گے۔

  لہذا آ پ کےبھائیوں کو چاہیےکہ وہ طلاق دینے سے گریز کریں اور اس کی جگہ میاں بیوی آپس میں بیٹھ کر اپنےمسائل کا حل نکالیں۔ اگرخود نہ نکال سکیں تو دونوں خاندانوں کےسمجھدار لوگ مل کر ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ان کی کوشش بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہو اور میاں بیوی  کا ان مسائل کےہوتے ہوئے ایک ساتھ چلنا  بھی ممکن  نہ ہو تو انتہائی مجبوری کےعالم میں طلاق  دینے کی گنجائش ہے۔مجبوری کی صورت میں  جس کی بیوی  خلع مانگ رہی ہےوہ مہر کےبدلے  خلع کے طور پر طلا ق دے سکتا ہے، اس کےذمے سے مہر ساقط ہوجائےگااور جواز خود بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے،اس کے ذمے پورے مہر کی ادائیگی  لازم ہے۔

 طلاق دینے  کاسب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ ماہواری سے پاک ہونے کے بعد  بلا کسی عوض کے صرف  ایک طلاق یہ الفاظ کہتے ہوئے دے کہ میں نے تمہیں طلاق دی۔ اس طرح طلاق دینے کا فائدہ یہ ہے کہ اگر عدت کےدوران  ان کو اپنے کیے پر ندامت ہوئی تو   شوہر کےطلاق سے رجوع کے بعد  تجدید نکاح اور حلالہ کے بغیر  دونوں نکاح کےرشتہ میں ازسرنو مل سکتے ہیں۔

آپ کے بھائیوں کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد اپنے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کریں۔ بصورت دیگر طلاق دے دیں تاکہ کسی دوسری جگہ شادی کرنی ہوتو کرسکے ۔ اس ظلم کی بالکل گنجائش نہیں کہ سالوں سال بیوی کو بھائیوں کے گھر  بٹھا کر خود ازدواجی تعلق بھی نہ   رکھے  اورنہ  طلاق  دے کر کسی دوسری جگہ انہیں شادی کرنےدے۔

حوالہ جات

القرآن الکریم(النساء:34 )  :

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا

صحيح البخاري (4/ 133)

 عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «استوصوا بالنساء، فإن المرأة خلقت من ضلع، وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه، فإن ذهبت تقيمه كسرته، وإن تركته لم يزل أعوج، فاستوصوا بالنساء»

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 229)

يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة غاية، ومفاده أن لا إثم بمعاشرة من لا تصلي ويجب لو فات الإمساك بالمعروف ويحرم لو بدعيا. (قوله لو مؤذية) أطلقه فشمل المؤذية له أو لغيره بقولها أو بفعلها ط (قوله أو تاركة صلاة) الظاهر أن ترك الفرائض غير الصلاة كالصلاة، وعن ابن مسعود لأن ألقى الله تعالى وصداقها بذمتي خير من أن أعاشر امرأة لا تصلي  (قوله لو فات الإمساك بالمعروف) ما لو كان خصيا أو مجبوبا أو عنينا أو شكازا أو مسحرا والشكاز: بفتح الشين المعجمة وتشديد الكاف وبالزاي هو الذي تنتشر آلته للمرأة قبل أن يخالطها ثم لا تنتشر آلته بعده لجماعها والمسحر بفتح الحاء المشددة وهو المسحور، ويسمى المربوط في زماننا ۔

نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

25/شوال/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب