03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دو بیٹیوں میں تقسیم میراث
83705میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

جناب عالی میرے والد کا مکان جو کہ 80 گز کا ہے، گلشن معمار میں ، ابو نے اپنی زندگی میں وہ گھر ہم دونوں بہنوں کے نام کر دیا تھا، ہم صرف دو بہنیں ہیں، بھائی کوئی نہیں ، والدین کا انتقال ہو گیا ہے، دو چچا تھے ،ان کا بھی ابو کی زندگی میں ہی انتقال ہو گیا تھا، اب ہم دونوں بہنیں چاہتی ہیں کہ اپنی زندگی میں اپنا اپنا حصہ بچوں کو دے دیں تاکہ ہمارے بعد ان بچوں میں گھر کی تقسیم پر کوئی جھگڑا نہ ہو ، شرعی طریقے سے کس طرح اس گھر کی تقسیم ہو گی ہتا کہ آئندہ ہماری زندگی کے بعد ان بچوں میں کوئی الجھاؤ نہ ہو۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والد اگر زندگی میں اپنے بچوں کو کچھ دیتا ہے تو وہ "ہبہ" یعنی گفٹ ہوتا ہے۔اگر وہ چیز قابلِ تقسیم ہو تو اس میں ہبہ مکمل ہونے کے لیے تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصے کا قبضہ دینا بھی ضروری ہے، لیکن اگر وہ چیز ناقابلِ تقسیم ہو تو پھر تقسیم ضروری نہیں۔ ہر وہ چیز جس سے تقسیم کے بعد وہی نفع اٹھایا جاسکے جو تقسیم سے پہلے اٹھایا جاتا ہو، وہ قابلِ تقسیم کہلائے گی، اور جو چیز ایسی نہ ہو، وہ ناقابلِ تقسیم کہلائے گی۔

اس اصول کی روشنی میں صورت مسؤلہ کا حکم یہ ہے کہ اگر گھر اتنا چھوٹا ہے کہ اس کو اس طرح دوحصوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا کہ ہر حصے کے ساتھ باتھ روم ،کچن وغیرہ ضروری چیزیں بنائی جاسکیں تو ایسے میں یہ ہبہ تام ہوگیا ہے ،لہذا یہ مکان صرف آپ دوبہنوں کا حصہ ہے۔

اگر یہ گھر قابل تقسیم  تھا،تو اس میں ہبہ کے درست ہونے کےلیے ضروری تھا کہ والد نے تقسیم کر کے آپ دونوں کو  اس کا قبضہ دیا ہو،قبضہ کا مطلب یہ ہے کہ اس گھر سےاپنے تصرفات ختم کرکے ، اس کے تمام حقوق اور سارے متعلقہ امور سے دستبردار ہوکرآپ کے حوالے کردیا ہو توگھر آپ دونوں بہنوں کی ملکیت میں آگیا ہے۔آدھا آدھا گھر ہر ایک کو اپنے حصے کے طور پر ملے گا۔

اگر صرف زبانی یا تحریری طور پر ہبہ کیا ہوتو ہبہ تام نہیں ہوا،لہذااس پلاٹ پر وراثت کے احکام جاری ہوں

گے،لہذا اگر ان کے ورثہ میں صرف آپ دوبہنیں ہی ہیں،دیگر ورثہ نہیں ہیں ،یعنی والد کی وفات کے وقت آپ کی والدہ حیات نہیں تھی،نیز آپ کے والدکے بھتیجے بھی نہیں ہیں،تو پھر یہ گھر آدھا آدھا تقسیم ہوگا،آپ میں سے ہر ایک کو نصف حصہ ملے گا۔باہمی رضامندی سے قیمت لگا کریا پھر عمارت کی تعیین کرکے پھر اپنے بچوں میں تقسیم کرسکتی ہیں۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع (5/ 244):

وأما تفسير التسليم والقبض فالتسليم والقبض عندنا هو التخلية والتخلي، وهو أن يخلي البايع بين المبيع وبين المشتري برفع الحائل بينهما على وجه يتمكن المشتري من التصرف فيه، فيجعل البايع مسلما للمبيع، والمشتري قابضا له

المجلة (ص: 54):

 مادة 263: تسليم المبيع يحصل بالتخلية، وهو أن يأذن البائع للمشتری بقبض المبیع مع عدم وجود مانع من تسلیم المشتری إیاه.

مادة 270: العقار  الذي له باب وقفل كالدار والكرم، إذا وجد المشتري  داخله وقال له البائع  "سلمته إليك" كان قوله ذلك تسليما، وإذا كان المشتري خارج ذلك العقار فإن كان قريبا منه بحيث يقدر على إغلاق بابه وقفله في الحال يكون قول البائع للمشتري "سلمتك إياه" تسلیما أیضا، وإن لم يكن منه قريبا بهذه المرتبة، فإذا مضى وقت يمكن فيه ذهاب المشتري إلى ذلك العقار و دخوله فیه یکون تسلیما.

المجلة (ص: 218):

 مادة 1131: قابل القسمة هو المال المشترك الصالح للتقسيم بحيث لا تفوت المنفعة المقصودة من ذلك المال بالقسمة.

شرح المجلة للعلامة الأتاسي (4/76):

شرح المادة 1131: وهي المنفعة التي کانت قبل القسمة، فلایقسم نحو الحمام، وإن کان ینتفع به بعد القسمة لربط الدواب ونحوه. قال في الدرر عازیاً للمجتبی: حانوت لهما یعملان فیه، طلب أحدهما القسمة، إن أمکن لکل أن یعمل فیه بعد القسمة ما کان یعمل فیه قبلها، قسم، وإلا، لا، اه، إلا إذا رضي الجمیع بقسمته، فإنها تصح. وهذا ظاهر في أن نحو الحمام والطاحون إذا کان کبیرا یمکن لکل من الشریکین الانتفاع به کما کان، بأن کان الحمام ذا خزانتین، والرحی ذا حجرین، یقسم. ولذا أفتی في الحامدیة بقسمة معصرة زیت لاثنین مناصفة وهي مشتملة علی عودین ومطحنین وبئرین للزیت قابلة للقسمة بلاضرر، مستدلا بما في خزانة الفتاوی: لایقسم الحمام والحایط والبیت الصغیر إذا کان بحال لو قسم،لایبقی لکل موضع یعمل فیه، اه

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

26/شوال1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب