03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
 بیوی کی طرف سےطلاق کےمطالبہ پر شوہر نےکہا”ہاں ٹھیک ہے”
83734طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

 سوال:مسئلہ یہ ہےکہ ایک توانہوں نےخلع لیا تھا،جس کےبعد احتیاطا تجدید نکاح ہوا،دوسرایہ ہےکہ وہ لڑکی مجھ سےبہت بدتمیزی کرتی ہے،ہرچیز کی ناشکری کرتی ہے،کسی حال میں خوش نہیں،یہاں تک کہ الگ گھر بھی کرکےدےدیاپھربھی روزروزکےلڑائی جھگڑے،بدتمیزیاں  اوررشتہ داروں سےقطع تعلقی،ایک دفعہ ہنگامہ کیاتوگھرمیں پڑوس کےلوگ جمع ہوئے،جن کےسامنےبھی طلاق مانگی گئی ،تقربیا  کم وبیش وہ مجھ سے10 سے15 مرتبہ طلاق مانگ چکی ہے،اس کےبدلےمیں اگرمیں نےکہا کہ "ہاں ٹھیک ہے"یا"صحیح ہے جاؤ"ایسےکنائی الفاظ سے طلاق ہوگی یانہیں ؟

مجھےبالکل یادنہیں کہ کیا کہا ،لیکن یہ یاد پڑتاہےکہ غصےمیں اس کےمطالبہ پرشاید میں نےایسا کچھ کہاہوتواس میں کیاحکم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بیوی کی طرف سےطلاق کےمطالبہ کےبعدشوہر کے"ہاں ٹھیک ہے"کہنےسےطلاق واقع نہ ہوگی ،اگرچہ طلاق کی نیت ہو۔

البتہ اگرشوہرنےجواب میں کہا "صحیح ہےجاؤ"تواس صورت میں شوہرسےمعلوم کیاجائے،اگرطلاق کی نیت ہوتوایک طلاق بائنہ واقع ہوگی ورنہ نہیں ۔

صورت مسئولہ میں شوہرپرلازم ہوگاکہ امانت ودیانت کا خیال رکھتےہوئےاچھی طرح سوچ کر بتائےکہ لفظ کہا کیاتھا،اوراس وقت نیت کیاتھی ،جوبھی نیت ہوگی ،اسی کےمطابق فیصلہ ہوگا۔

حوالہ جات

"البحر الرائق شرح كنز الدقائق"8 / 245:

 وفي البزازية قالت له أنا طالق فقال نعم طلقت ولو قالت طلقني فقال نعم لا، وإن نوى۔

"الأشباه والنظائر - حنفي –" 1 / 178:

 القاعدة الحادية عشرة : السؤال معاد في الجواب۔۔۔۔

و فيها من كتاب الطلاق : قالت له : أنا طالق لا فقال : نعم تطلق ولو قالت : طلقني فقال : نعم لا وإن نوى

"غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر " 2 / 400:

( 5 ) قوله : قالت له أنا طالق فقال : نعم إلخ .

الفرق بين المسألتين أن معنى نعم بعد قولها أنا طالق نعم أنت طالق ومعناها بعد قولها طلقني نعم أطلقك فيكون وعدا بالطلاق لأنها لتقرير ما قبلها ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

26/شوال  1445ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب