03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہرنےبیوی کو کہا” جاؤ میں نےتمہیں طلاق دی”توکیاحکم ہے؟
83735طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

 سوال:دراصل عید کےتیسرےدن بھی بات خراب ہوئی،بیوی کی طرف سےطوفان بدتمیزی برداشت کرتےکرتےمیں نےبڑامشکل فیصلہ کرکےاس کوطلاق کےالفاظ کہے"کہ جاؤ میں نےتمہیں طلاق دی"کیونکہ وہ باربار بول رہی تھی کہ مجھے چھوڑدو، میں چلی جاونگی ،طلاق دو ،چلی جاؤں گی ۔

اس کےبعد اس نےروڈ پربھی تماشاکیاکہ اپناعبایا بھی اتاردیا کہ تودفع ہو ورنہ کپڑےبھی اتاروں گی اورچلتی بنی ،اس طرح بابار منانےپر کپڑےاتارنےکی کوشش  بھی کی ،جس پرمیں وہاں سےچلاگیا کہ لڑکی کی عزت کامعاملہ ہے ۔اب میری دوبیٹیاں ہیں ایک تو ماں کےدودھ پر ہے،جوکہ اس کےپاس ہے،دوسری بڑی والی میرےپاس ہے۔میری راہنمائی فرمائیں کہ میری تینوں طلاق ہوگئی یاکوئی گنجائش بھی باقی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں  شوہرکابیوی کوصریح الفاظ"جاؤمیں نےتمہیں طلاق دی" کےساتھ  طلاق دینےسےبیوی پرایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے۔

مذکورہ بالاجواب کی روشنی میں موجودہ صورت  کا حکم یہ ہےکہ نہ عدالتی  خلع کےذریعہ طلاق ہوئی  ،نہ اس کےبعد بیوی کو جوابا" ہاں ٹھیک ہے"کہنےسےطلاق ہوئی ہے، صریح الفاظ کی وجہ سےصرف ایک طلاق رجعی واقع ہوئی  ہے،اس کےبعد دوبارہ رجوع ہوسکتاہے،ہاں اگر مذکورہ بالا صریح الفاظ کہنےکےبعد عدت بھی ختم ہوگئی ہوتوپھردوبارہ رجوع نہیں ہوسکتا،نکاح ضروری ہوگا۔ ہاں اگرشوہرکویقین ہوکہ اس نے"صحیح ہےجاؤ "کالفظ کہاتھااوراس وقت طلاق کی نیت بھی تھی توخاص اس صورت میں دوطلاق واقع ہوں  گی ورنہ ایک ہی  واقع ہوئی ہے۔

حوالہ جات

۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

26/شوال 1445ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب