03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہول سیل ڈراپ شپنگ کا حکم
83678خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

مجھے ای کامرس کے بارے میں سوال پوچھنا ہے۔ میں فی الحال ڈراپ شپنگ کے بارے میں سیکھ رہا ہوں اور بزنس شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہوں تو مندرجہ ذیل قسموں کے بارے میں رہنمائی فرماکر کاروبار کا جائز طریقہ بتائے،کیونکہ میں نے علما سے سنا ہے کہ اگرمبیع آپ کے قبضے میں نہ ہو تو آپ اسے نہیں بیچ سکتے ۔ ہول سیل ڈراپ شپنگ : ہول سیل ڈراپ شپنگ کی بزنس میں ہم ایک کمپنی کے ساتھ مفت میں رجسٹر ہوجاتے ہیں، کچھ کمپنیاں معمولی فیس کی مد میں ہمیں رجسٹرکرلیتی ہیں ،یہاں ہم ایسی کمپنی کو "ہول سیلر" کہہ لیتے ہیں۔ رجسٹر ہونے کے بعد ہم کمپنی کی آفر کرده مصنوعات میں سے کچھ یا سب کی سب اپنی ویب سائٹ یا مارکیٹ پليس یعنی ای بے (ebay) ، ایمازون(Amazon) وغیرہ پر لگا دیتے ہیں، اسے ہم اپنا "اسٹور" کہہ لیتے ہیں۔ جب بھی ہمارا خریدار ہمارے اسٹور سے کوئی شئے خریدتا ہے، ہم اس سے فوراً رقم وصول کر لیتے ہیں۔ رقم وصول کرنے کے بعد ہم اپنے ہول سیلر کو یا تو فوراً یا بعد میں اکھٹی رقم اد کرتے ہیں۔ہمارا ہول سیلر مطلوبہ شئے کو ہمارے خریدار کے پتہ پر روانہ کردیتا ہے۔بحیثیت دکاندار یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ہول سیلر کے پاس موجود اسٹاک کا ریکارڈ اپنے پاس رکھیں کہ اگر کوئی شئے فی الحال موجود نہیں ہے تو اس کو ہم اپنے "اسٹور" پر Out of Stock لکھ دیں ۔یہ عین ممکن ہے کہ ہم اپنے خریدار سے پیسے وصول کرلیں اور اپنی سستی ،کوتاہی یا ہول سیلرکی غلطی کی وجہ سے شئےاسٹاک میں موجود نہ ہو۔ اس صورت میں ہم اپنے خریدار سے معذرت کر لیتے ہیں۔اس شئے کو ہمارا امریکی،برطانوی، جرمن و غیره گاہک اپنے ملکی قانون کے اعتبار سےکسی بھی وقت واپس کر سکتا ہے۔ اس صورت میں ہمیں خریدا ہوا مال واپس لینا پڑتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہےتو چاہے ہول سیلر ہم سے خریدا ہوا مال واپس لے یا نہ لے، بہر حال ہم قانوناً اور اخلاقا اپنے خریدار کو رقم واپس کرنے کے پابند ہوجاتے ہیں۔ آخر میں یہ بھی تصدیق کرنا چاہتا ہوں کہ ایک شخص حافظ احمد کا دعوی ہے کہ انہوں نے جامعہ الرشید کے علماء سے مشاورت کی تھی کہ اگر ہم سپلائر (Supplier) سے معاہدہ (Contract) کریں کہ وہ ريٹرن قبول کریں تو ڈراپ شپنگ حلال ہے۔ چونکہ ایمازون (Amazon)، ای بے (Ebay)، والمارٹ (Walmart) کے پاس صارفین کی حفاظت سے متعلق قوانین ہیں اور ہم صرف معروف برانڈ کے مصنوعات ڈراپ شپنگ کرنے کوترجیح دیتے ہیں جو پوری دنیا بھر میں ایک جیسے ہیں، لہذا ہم ایمازون پر ڈراپ شپنگ کر سکتے ہیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت میں کسی چیز کو فروخت کرنے کا اصول یہ ہے کہ وہ چیز فروخت کنندہ کا مملوک ہو اور زمین کےعلاوہ کی بیع ہونے کی صورت میں اس کے قبضہ میں بھی ہو۔ ڈراپ شپنگ میں دکاندار غیر مملوک اور غیر مقبوض چیزکی بیع کرتا ہے،کیونکہ وہ خریدار سے رقم وصول کرکے اس کےساتھ عقد کر لیتا ہے، اس کے بعد وہ ہول سیلر سے چیز خرید کر اس پر قبضہ کیے بغیر ہول سیلر کے ذریعے وہ خریدار کو بھیج دیتا ہے اور ایسی بیع حدیث کی رو سے ممنوع ہے۔ اس کے متبادل جائز صورتیں درج ذیل ہیں: 1: دکاندار ہول سیلر کے ساتھ عقد وکالہ کرے ،جس کی صورت یہ ہے کہ دکاندار ہول سیلر کے وکیل کی حیثیت سے چیز بیچےاور اس کےبدلے میں وہ ہول سیلر سے طے شدہ وکالہ فیس لیتا رہے۔ واضح رہےکہ اس طر ح چیز بیچنے کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ چیز رقم وصول کرکے عقد کرنے کے وقت کم ازکم ہول سیلر کےپاس موجود ہو یعنی آوٹ آف اسٹاک نہ ہو۔اس صورت میں مروجہ قانون کے مطابق چیزواپس کرنےپر ہول سیلر اس کو قبول کرنے کا پابند ہوگا ۔ 2: دکاندار وعدہ بیع کرلے ، جس کی صورت یہ ہےکہ دکاندار خریدار سے رقم وصول کرکے اس کے ساتھ وعدہ بیع کرلے، اس کے بعد ہول سیلر سے وہ چیز خریدےپھر اس پر خود قبضہ کرکے یا مال لے جانےوالے ڈرائیور کو اس پر قبضہ کرنے کا وکیل بنا کر خریدار کو پہنچائے ،مال پہنچنے پر تعاطیا بیع مکمل ہو جائے گی۔ 3: بائع یا اس کا وکیل ہول سیلر کے پاس جاکر چیز خریدے ،پھر ہول سیلر کے دکان کا ایک مخصوص حصہ کرایہ پر لے کر اس میں مبیع کو رکھ دے، اس کے بعد آرڈر آنے پر ہول سیلر کو بطور وکیل اپنی طرف سے ڈیلیوری کا حکم دے دیں۔ نیز اس طرح کے معاملات میں درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے: :1جو اشیاء بطور سیمپل یا اشتہار میں دکھائی جاتی ہیں یا ویب سائٹ پر ان کی تفصیل لکھی گئی ہوتی ہے تو فروخت کی جانی والی دیگر چیزیں بھی ان صفات (qualities) کے مطابق ہونی چاہیے۔ :2جو مصنوعات فروخت کیے جائیں ان کی خرید وفرخت شریعت یا قانون کی رو سے منع نہ ہو، یعنی ان کی اجازت ہو۔ :3قیمتیں اور کمیشن سب طے اور واضح ہو، کسی قسم کا ابہام نہ ہو۔ اگر کسٹمر اس میں کوئی بھی ایسا عیب پائے، جس کی وجہ سے تاجروں کے ہاں اس کی قیمت پر اثر پڑ رہا ہو اور وہ عیب بوقت عقد یا قبضہ سے پہلے اس میں موجودہو، خریدار کو موصول ہونے سے پہلے اس عیب کا یا اس کے عیب ہونے کاعلم نہ ہو او ر وصولی کے بعد رضامندی کا اظہار نہ کیا ہو تو کسٹمر کو دو اختیا ر ہیں کہ یا تو اسی قیمت پر چیز کو اپنے پاس رکھ لے یا مکمل قیمت واپس لے کرچیز واپس کردے۔ عیب کے مذکورہ بالاضابطہ کے مطابق اگرچیز واپس کرنی پڑے، تو جواز کی پہلی صورت میں پہلا فروخت کنندہ اس کو واپس لینے کا پابند ہے۔ دوسری اور تیسری صورت میں وہ اس کو واپس لینے کا پابند نہیں ہوتا، البتہ باہمی رضامندی سے اس کی شرط لگائی جاسکتی ہے ۔ جامعہ الرشید کے علماء سے حافظ احمد کے مشورے کا علم نہیں ، البتہ ان کے حوالے سےجو بات لکھی ہے وہ دراصل اوپر ذکرکردہ جائز صورتوں میں سےپہلی صور ت کی طرف اشارہ ہے کہ اس صورت میں دکاندار ہول سیلر کے وکیل کی حیثیت سے چیز کو بیچتا ہے ، اس لیے چیز واپس ہونے پر اس کو واپس لینا ہول سیلر پر شرعا لازم ہوگا۔

حوالہ جات

المعجم الاوسط ( 2/154 ،رقم الحدیث:1554) حدثنا أحمد قال: نا عبد القدوس بن محمد الحبحابي قال: نا عمرو بن عاصم الكلابي قال: نا همام بن يحيى، عن عاصم الأحول، وابن جريج، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن سلف وبيع، وعن شرطين في بيع، وعن بيع ما لم يقبض، وربح ما لم يضمن بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 146) (ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده «، ونهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم» ، ... وهو الشرط فيما يبيعه بطريق الأصالة عن نفسه فأما ما يبيعه بطريق النيابة عن غيره ينظر إن كان البائع وكيلا وكفيلا فيكون المبيع مملوكا للبائع ليس بشرط، مجلة الأحكام العدلية (ص: 52) (المادة 353) للمشتري أن يبيع المبيع لآخر قبل قبضه إن كان عقارا وإلا فلا

نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

27/شوال/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب