03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ریٹیل آربیٹراج اور آن لائن آربیٹراج کا حکم
83679خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

ريٹیل آربيٹراج :اس طریقہ کاروبار کو عرف میں ڈراپ شپنگ کہا جاتا ہے، مگر اس کا خاص لفظ Retail Arbitrage ہےجو اس کو ڈراپ شپنگ سے ممتاز کرتا ہے۔اس طریقہ کار میں ہم بطور ریٹیلر اپنے ذاتی ویب سائٹ یا (eBay) ای بے یا (Amazon) ایمازون سے اپنے امریکی یا برطانوی و غیره گاہک کو مصنوعات بیچتے ہیں، اسے ہم اپنی سہولت کے لیئے اسٹور کہہ لیتے ہیں۔ ہم بجائے کسی ہول سیلر سے پیشگی معاہدے کے ایک دوسرے امریکی یا برطانوی ريٹیلر (Retailer) سے مال خریدتے ہیں، صرف اس وقت جب ہمیں ہمارا گاہک رقم ادا کرے۔ ہوتا یوں ہے کہ ہم کچھ مصنوعات اپنے اسٹور پر لگائیں، ہمارا امریکی یا برطانوی گاہک ہم سے اشیاء خریدتا ہے، ہم اس سے رقم لے لیتے ہیں۔اور پھر ہم چل کر کسی ریٹیل اسٹور پر جاتے ہیں، اس سے وہی چیزخریدتے ہیں، کچھ منافع کماتے ہیں، اور پھر خود اپنے گاہک کو اس کا مطلوبہ سامان روانہ کردیتے ہیں۔یہ عین ممکن ہے کہ ہمیں آرڈر ملے اور رقم وصول کرنے کے بعد معلوم ہوکہ خریدا ہوا مال ریٹیلر کی دکان پر عدم دستیاب ہو۔اس صورت میں ہم امریکی یا برطانوی قانون کے مطابق اپنے گاہک کو رقم واپس کرنے کے روادار ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر ہم نے خریدا ہوا مال اپنے گاہک کو بھیج دیا اور کچھ عرصہ بعد ہمارا گاہک کسی بھی وجہ سے وہ شئے ہمیں واپس بھیج دیتا ہے تو ہم امریکی اور برطانوی قانون کے مطابق اس کو پوری یا کچھ رقم واپس کرنے کے پابند ہیں، البتہ اگر ہمارے گاہک نے خود سے شئے کو خراب کیا یا توڑ ڈالا وغیره تو ہم اس سے بحث مباحثہ کر سکتے ہیں۔ آن لائن آربیٹراج :یہ بالکل ريٹيل اربیٹراج کی طرح ہے البتہ فرق یہ ہے کہ ریٹیل اسٹور آن لائن ہوتا ہے اور بحیثیت امریکی یا برطانوی دکاندار ہمیں اپنے ریٹیلر کے پاس چل کے نہیں جانا پڑتا۔ میں اپنی معلومات کو شامل کرنا چاہتا ہوں جو اوپر کے ماڈلز پر فتویٰ جاری کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے ۔ (Amazon) ایمازون کے اصول و قوانین کے مطابق کسٹمر کسی بھی وقت پروڈکٹ واپس کر سکتا ہے۔ میں یہ بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ ایمازون ہرپندره دن بعد ادائیگی کرتا ہے، یعنی اگر مجھے آرڈر ملتا ہے، کسٹمر مجھے رقم ادا کرتا ہے تو وہ رقم ایمازون کی طرف سے پندرہ دن کے لئے روک دی جاتی ہے، پندرہ دن کے بعد ایمازون ادائیگی کرتا ہے، اس دوران اگر کسٹمر پروڈکٹ واپس کرتا ہے تو ایمازون اس میں سے کٹوتی کرتا ہے۔ اسی طرح (EBAY) پرہم اپنے پروڈکٹ کی فہرست بناتے ہیں اور دوسری مارکیٹ پلیس مثلاً ایمازون سے سستی قیمت پر خریدنے کے لئے تلاش کرتے ہیں اور ای بے پر مہنگی قیمت پر بیچتے ہیں۔ ای بے کی بھی کسٹمر تحفظ پالیسی ہے جس کے مطابق ہمیں اس بات کو قبول کرنا ہوتا ہے کہ اگر پروڈکٹ وصف کے مطابق اچھی نہیں ہے تو ہمیں واپسی قبول کرنی ہوتی ہے۔ اگر ہم ای بے پر معیار قائم نہیں رکھتے، تو ہمارا اکاؤنٹ غیر فعال ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایسے ڈراپ شپنگ کے لئے ہم ہول سیل سپلائرز کے ساتھ معاہدے کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ریٹرنز کووصول کریں گے جو ہم کسٹمرز سے واپس پاتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہم پاکستان میں بیٹھے ہیں، اسے واپس بھیجنا مشکل ہوتا ہے، ہم ترجیح دیتے ہیں کہ کسٹمر سے درخواست کریں کہ وہ چیز رکھ لیں، ہم کسٹمرز کو رقم بھی واپس کرتے ہیں۔ تنقیح :ہماری معلومات کےمطابق آربیٹراج کی تعریف میں سائل کو غلط فہمی ہوئی ہےاس کودور کرنے کے لیے سائل سے کوشش کے باوجود رابطہ نہیں ہوسکا۔ گوگل پر دستیاب معلومات کےمطابق آربیٹراج اور ڈراپ شپنگ میں یہ فرق ہے کہ ڈراپ شپنگ میں آرڈر ملنے کے بعد دکاندار ہول سیلر سے وہ چیز خریدکر اس پر قبضہ کیے بغیر ہول سیلر کے ذریعے بھیجتاہےجبکہ آربیٹراج میں چیز پہلے آن لائن یا آف لائن اسٹورز سےخریدتا ہے ، آرڈر موصول ہونے پر اس کو بیچ دیا جاتا ہے مزید یہ کہ آربیٹراج میں کبھی کبھار دکاندار مبیع کو اپنے پاس رکھ کر آگے بیچنے کےبعد از خود بھیجتا ہےجس کو FBM کہا جاتا ہےاور کبھی کبھار ایمازون کے گودام میں رکھ کر آگے بیچنے کے بعد ایمازون کے واسطے سے ارسال کرتا ہےجس کو FBA کہا جاتا ہے۔ آن لائن اور ریٹیل آربیٹراج میں صرف یہ فرق ہےکہ آن لائن آربیٹراج میں آن لائن اسٹور سے چیز خرید کر اسٹور والااس کے پتہ پرایمازون کےگودام میں پہنچا دیتا ہے جبکہ ریٹیل آربیٹراج میں آف لائن اسٹورز سے چیز خرید کر اپنے پاس رکھ لیتا ہےاور آرڈر موصول ہونے پر خود بھیجتا ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت میں کسی چیز کو فروخت کرنے کا اصول یہ ہے کہ وہ چیز بائع کا مملوک ہو اور قابل نقل وحمل ہونے کی صورت میں اس کے قبضہ میں بھی ہو ۔ گوگل پر دستیاب معلوما ت کےمطابق آن لائن اور ریٹیل آربیٹراج شرعا جائز ہیں کیونکہ دونوں میں مملوک اور مقبوض چیز کی آگےبیع کی جاتی ہے۔ اگر کسٹمر اس میں کوئی بھی ایسا عیب پائے، جس کی وجہ سے تاجروں کے ہاں اس کی قیمت پر اثر پڑ رہا ہو اور وہ عیب بوقت عقد یا قبضہ سے پہلے اس میں موجودہو، خریدار کو موصول ہونے سے پہلے اس عیب کا یا اس کے عیب ہونے کاعلم نہ ہو او ر وصولی کے بعد رضامندی کا اظہار نہ کیا ہو اس طرح اگر چیزویب سائٹ پر لکھے ہوئے اوصاف کے مطابق نہیں پائی تو کسٹمر کو دو اختیا ر ہیں کہ یا تو اسی قیمت پر چیز کو اپنے پاس رکھ لے یا مکمل قیمت واپس لے کرچیز واپس کردے لیکن یہ جائز نہیں ہے کہ کسٹمر یک طرفہ طور پر چیز اپنے پاس رکھےاور کچھ رقم بھی واپس وصول کرے، چاہے دوری کی وجہ سے اس طرح کرنا پڑ رہا ہویا کسی اور وجہ سے۔البتہ یہ جائز ہے کہ دکاندار کی رضامندی سے کچھ رقم واپس وصول کرکے اس چیز کو اپنی پاس رکھ لے۔ اگر کسٹمر نے اس میں کوئی عیب پیدا کیا تو فرخت کنندہ اس کو واپس لینے کا پابند نہیں۔ عیب کے مذکورہ بالاضابطہ کے مطابق اگرچیز واپس کرنی پڑے، تو پہلا فروخت کنندہ اس کو واپس لینے کا پابند نہیں ہوتا، البتہ باہمی رضامندی سے اس کی شرط لگائی جاسکتی ہے۔ ایمازون اور ای بے کے ذکر کردہ پالیسیا ں درست ہیں۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 146): (ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده «، ونهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم» ، ... وهو الشرط فيما يبيعه بطريق الأصالة عن نفسه فأما ما يبيعه بطريق النيابة عن غيره ينظر إن كان البائع وكيلا وكفيلا فيكون المبيع مملوكا للبائع ليس بشرط، مجلة الأحكام العدلية (ص: 52): (المادة 353) للمشتري أن يبيع المبيع لآخر قبل قبضه إن كان عقارا وإلا فلا. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 5): (من وجد بمشريه ما ينقص الثمن) ولو يسيرا جوهرة (عند التجار)المراد أرباب المعرفة بكل تجارة وصنعة قاله المصنف (أخذه بكل الثمن أو رده) ما لم يتعين إمساكه ...والمراد به عيب كان عند البائع وقبضه المشتري من غير أن يعلم به ولم يوجد من المشتري ما يدل على الرضا به بعد العلم بالعيب، المبسوط للسرخسي (13/ 103): قال وإذا اشترى عبدا ثم باعه فرد عليه بعيب بغير قضاء قاض فليس له أن يرده على بائعه بالعيب؛ لأن هذا بمنزلة الإقالة فإنه حصل بتراضيهما والإقالة في حق البائع الأول بمنزلة بيع مبتدإ فلم يعد إليه الملك المستفاد من جهة البائع الأول في حقه فلهذا لا يخاصمه في عينه قال ولو قبله بقضاء قاض ببينة قامت عليه أو بإباء اليمين أو بإقرار عند القاضي أنه باعه والعيب به، وهو لا يعلم به كان له أن يرده على الأول إن كان له على العيب بينة وإلا استحلفه شرح المجلة للاتاسي(المادة:237): وليس له ان يمسك المبيع و يأخذ مما نقصه العيب ۔الا برضا بایعه ( ملتقى )وقول الملتقى «الا برضا بایعه » يعني اذا رضي البايع ان يدفع المشتري دراهم عن نقصان العيب ولا يرد عليه المبيع المعيب ، يجوز ، ويجعل حطاً من الثمن اما لو اصطلحا على ان يدفع المشتري دراهم إلى البائع ويرد عليه ، لا يصح ، از لا وجه له غير الرشوة - الا اذا كان حدث به عيب آخر عند المشتري او لم يقر البائع بالعيب القديم ( افاده في جامع الفصولين )

نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

27/شوال/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب