03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کفریہ بات سے توبہ میں اُس بات کی تصریح ضروری ہے یا نہیں؟
83673ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

آج سے چار سال پہلے عمر سے ایک کفر یہ کلام صادر ہوا، پھر اس نے اس طرح توبہ کی "یا اللہ! جو کفریہ الفاظ مجھ سے صادر ہوئے ہیں، میں ان سے توبہ کرتا ہوں"، کلمہ طیبہ پڑھ لیا اور اس حال میں شادی کرلی۔ چار سال بعد کسی عالم دین کا بیان سنا کہ جس کفر سے توبہ کرنا ہو تو توبہ میں اس کا تذکرہ ضروری ہے، ورنہ تجدیدِ ایمان نہیں ہوتی۔ اس بناء پر عمرکو لگا کہ جب اس کی تجدیدِ ایمان درست نہیں ہوئی تھی تو نکاح کیسے درست ہے؟ اس لیے اس نے اپنی بیوی بچوں کو چھوڑ دیا۔ اب عمر کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا ان کفریہ الفاظ کو دوہرا کر توبہ اور تجدیدِ ایمان کرے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں جب عمر نے ان الفاظ "یا اللہ! جو کفریہ الفاظ مجھ سے صادر ہوئے ہیں، میں ان سے توبہ کرتا ہوں" کے ساتھ توبہ کی اور تجدیدِ ایمان کی تو اس کی توبہ درست، تجدیدِ ایمان معتبر اور اس کے بعد کیا گیا نکاح ٹھیک ہوا تھا۔ لہٰذا اب دوبارہ کفریہ الفاظ دوہرا کر ان سے توبہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اپنی توبہ سے متعلق غلط فہمی پیدا ہونے کے بعد بیوی کو چھوڑنے سے مراد اگر اس کے ساتھ تعلق کو موقوف کرنا ہے تو اس سے کچھ نہیں ہوا، ان دونوں کا نکاح قائم ہے اور وہ بدستور عمر کی بیوی ہے، کسی قسم کے شک شبہے کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اگر چھوڑنے سے مراد طلاق ہے تو پھر عمر نے اس وقت جو کچھ کہا  ہو، اس کی تفصیل لکھ کر دوبارہ مسئلہ معلوم کرلیں۔

حوالہ جات

۔

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

     27/ شوال المکرم/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب