| 83672 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرانام انسہ تنویر ہے میرا اور میرے شوہر کا 2022 میں جھگڑا ہو اتو شوہر نے مجھے ایک طلاق دی تھی تو میں والدین کے گھر آ گئی تھی اس کے بعد 15 دنوں میں دونوں طرف سے خاندان والوں نے ہماری صلح کروا دی تھی تو میں واپس چلی گی پھر ایک سال بعد پھر ہماری لڑائی ہوئی تو مجھے اس نے کہا تم میری طرف سے فارغ ہو اور ساتھ یہ کہا کہ ابھی میں زبانی کہہ رہا ہوں صبح لکھ کر بھی دے دوں گا ۔قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ ہماری طلاق ہو گی ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کیے گئے الفاظ "تم میری طرف سے فارغ ہو" الفاظِ کنایات کی دوسری قسم سے تعلق رکھتے ہیں، جن سے طلاق کے کسی قرینہ کے پائے جانے کے وقت بغير نيت كے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں لڑائی جھگڑے کے دوران شوہر کے یہ الفاظ "تم میری طرف سے فارغ ہو " کہنے سے آپ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو چکی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ اب فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو چکا ہے اور اُسی دن سے عدت بھی شروع ہو چکی ہے، البتہ عدت کے دوران اور عدت کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 296) دار الفكر-بيروت:
باب الكنايات (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب،فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرامبائن) ومرادفها كبتة بتلة (يصلح سبا، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى.
وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقعبالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة ولذا تقبل بينتها على الدلالة لا على النية إلا أن تقام على إقراره بها عمادية، ثم في كل موضع تشترط النية فلو السؤال بهل يقع بقول نعم إن نويت، ولو بكم يقع بقول واحدة ولا يتعرض لاشتراط النية بزازية فليحفظ.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
25/شوال المکرم 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


