03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث کے مکان میں اپنا حصہ وصول کرنا
83706میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میری صرف ایک بیٹی ہے،جس کی شادی کردی ہے ،میری بہن کے تین بچے ہیں،دوبیٹے  ایک بیٹی،میری بہن نے بھی ایک بیٹے  اور ایک بیٹی کی شادی کردی ہے ،میں بہن کے ساتھ رہتی ہوں(ہم دونوں کے مشترکہ گھرمیں )،کونکہ ہم دونوں بہنوں کے شوہر نہیں ہیں،تو میں نے صرف اپنے استعمال کےلیے ایک کمرہ لیا ہواتھا،باقی گھر میری بہن اور اس کے بچوں کے استعمال میں تھا،میرا بھانجا جو شادی شدہ ہے ،اس نے اپنا ایک کمرہ اوپر بنوایا ہے،جس میں وہ رہتا ہے،میری بیٹی کی تین بچیاں ہیں،میرے ایک کمرے میں اب گزارہ مشکل سے ہوتا ہے،بچوں کی وجہ سے جب وہ میرے پاس رہنے آتی ہے،میں نے سوچا ایک کمرہ  اوپر بنا لیتی ہوں تو میرے بھانجے نے منع کردیا کہ آپ نہ بنوائیں،میں نے کوئی جھگڑا نہیں کیا،لیکن ایک سوچ میرے ذہن میں آگئی کہ میری حیات میں مجھے ایک کمرہ بنوانے سے منع کردیاہےتو میرے بعد تو یہ لوگ بالکل بھی میری بچی کو حصہ نہیں دیں گے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اس گھر میں آپ کا بھی حصہ ہے،بہتر یہ ہے کہ تقسیم کرکے اپنا حق متعین  کریں،اور بیٹی کوہدیہ کرکے ان کو قبضہ دیدیں، تاکہ بعد میں آپ کی اولاد کے لیے کوئٰی رکاوٹ نہ ہو۔

حوالہ جات

...

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

29/شوال1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب