| 83708 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
دبئی میں مقیم میرے ایک عزیز کا ذریعہ معاش وروزگار اس کی ایک لانچ ( کشتی) ہے، مذکورہ کشتی کے ذریعے وہ سیاحوں کوسمندر کی سیر کراتا ہےاورسواری فراہم کرنے کاکرایہ وصول کرتا ہے، سمندرکی سیر کےلیےآنے والے سیاحوں میں مسلم وغیر مسلم ہر طرح کے لوگ شامل ہوتے ہیں اور ان میں سےبہت سےلوگ سمندرکی سیر کےدوران اپنے ہمراہ شراب یاحرام خوراک وغیرہ بھی لے جاتے ہیں،جس سےوہ سیروتفریح کےدوران محظوظ ہوتےہیں۔واضح کرتا چلوں کہ مذکورہ حرام اشیاء کا انتظام اوربندوبست سیاح خود کرتے ہیں،اس کی فراہمی میں کشتی کےمالک کا کوئی کرداریا تعلق نہیں ہوتاہے،لیکن کشتی کےمالک کو ان حرام اشیاء کی موجود گی کابسا اوقات علم سفر کے آغازسےپہلےاور بسا اوقات دوران سفرہوجاتا ہے۔
مفتی صاحب!ایسی صورت حال میں میرےعزیز کا کشتی کا مذکورہ کام یا کاروباردینی نقطہ نظر سے درست ہےیا غلط؟نیزاس کام سےحاصل رقم رزق حلال ہےیاحرام؟اوراسےیہ کام جاری رکھنا چاہئےیانہیں؟کیونکہ اس کاموقف یہ ہے کہ میں توصرف سواری فراہم کرتاہوں جس کاکرایہ لیتا ہوں،اس کےعلاوہ میراسیاحوں کےکسی طرزعمل یافعل سےکوئی تعلق نہیں ہے،برائےکرم میری رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ سؤال میں مذکورصورت میں کشتی کرایہ پردینےکامعاملہ محض سیاحت اورسیروتفریح کےلیےہےاورشراب نوشی وغیرہ مسافروں کااپنا ذاتی عمل ہے،لہذا کرایہ داری کایہ معاملہ نہ توخود کسی گناہ کے کام پرہےاور نہ کسی گناہ کےکام میں براہ راست معاونت پر مشتمل ہے،لہذایہ معاملہ اور اس کی اجرت جائزاورحلال ہے،البتہ جہاں کرایہ داری کے معاملہ سےپہلے اس قسم کے ناجائز امورکے ارتکاب کا علم ہوجائے توایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ ایسےلوگوں سےکرایہ داری کا معاملہ نہ کیا جائےاور اگر کیاجائےتو بہتریہ ہےکہ اندازہ لگاکر کرایہ میں سےاتنی رقم صدقہ کرے،جتنی رقم ان ناجائز چیزوں کےاستعمال کےاوقات کی بنتی ہے۔
حوالہ جات
المبسوط لشمس الدين السرسخي (ج 9 / ص 75):
ولا بأس بان يؤاجر المسلم دارا من الذمي ليسكنها فان شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو دخل فيهاالخنازير لم يلحق المسلم اثم في شئ من ذلك لانه لم يؤاجرها لذلك والمعصية في فعل المستأجر وفعله دون قصد رب الدار فلا إثم على رب الدار في ذلك
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۸شوال۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


