03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر باربار خالہ کے گھر جانا
87416نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

میرا نام نور بادشاہ ہے، میرا بیٹا محمد علی ہے، جس کی ہم نے اس کی مرضی کے مطابق شادی کرائی، شادی کے شروع میں ان دونوں کا آپس میں صحیح وقت گزر رہا تھا اور اللہ کے فضل سے اس لڑکی کے پیٹ میں حمل بھی ٹھہر گیا تھا ،جو بعد میں ضائع ہوگیا ۔مسئلہ یہ ہے کہ اکثریہ لڑکی اپنے  والدین کے گھر جاتی اوررات کو دیر سے اپنے شوہر کے گھر آتی تھی، جس کی وجہ سے شوہر ناراض ہوتا تھا، بار بار اس طرح گھرجانے پر شوہر بالکل راضی نہ  تھا، لیکن اس لڑکی کی ساری توجہ اپنے میکے والوں  پر تھی،  ایک دفعہ سسر اور ساس کے منع کرنے کے باوجودمیکے گئی اور وہاں پورا ایک ماہ گزارا،  نہ ہم سے  اجازت لی اور نہ فون کیا۔

لڑکی کی یہ شکایت تھی کہ میرا شوہر مجھ سے زیادہ محبت کیوں نہیں کرتا ؟ لڑکی اپنے کمرے میں اپنے شوہر سے اکثر ضد کیا کرتی تھی۔ نہ زیادہ کوشش کرتی کہ شوہر کا دل جیت لے ، اکثر خاموش رہتی اور کمرے میں ایسا کام کرتی تھی کہ جس سے شوہر ناراض ہو جاتا ۔

ایک دفعہ معمولی بیماری سے اپنے میکے گئی اور پھر ایک ہفتہ گزارا،  نہ شوہر سے اور نہ ساس سسر سے اجازت لی، لڑکی نے شادی سے پہلے بھی شوہر پر ایک الزام لگایا تھا کہ یہ دوسری لڑکی کو چاہتا ہے، مگر یہ بالکل جھوٹ تھا۔یہ لڑکی جب گھر میں ساس سے بحث کر کے اپنے میکے جاتی تھی تو اپنے میکے والوں کو جھوٹ بولتی تھی کہ مجھ پر ظلم ہوتا ہے اور مجھ سے شوہر نفرت کرتا ہے اور مجھے ساس نے گھر سے نکال دیا، اس غلط بیانی کی وجہ سے شوہر کا دل بہت دکھتا تھا ۔ایک دفعہ تو اس لڑکی کے چچا نے کسی کے ذریعہ اس کے شوہر محمد علی کو دھمکی بھی دی تھی، اصل میں لڑکی چاہتی تھی کہ شوہر  میرا تابع ہو جائے اور میری ہر بات مانے، لیکن اپنے کمرے میں شوہر کا دل جیتنے کی کوئی کوشش نہیں کرتی تھی۔لڑکی جب اپنے میکے میں ہوتی ہے تو کہتی ہے کہ میں اب شوہر کے گھر صبر کروں گی ، گزارہ کروں گی، لیکن جب شوہر کے گھر آجاتی  تو شوہر کو بدلا سا پاتی تو پھر اپنے میکے چلے جاتی ۔ایک دفعہ محلہ کے معزز احباب کے اصرار پر شوہر نے کہا  کہ اب اس کے بعد آپ لوگوں کا لحاظ کر کے میں اس لڑکی کو چاہوں گا اور لڑکا اچھا بھی ہوا، بعد میں پھر معمولی سی بات پر یہ لڑکی اپنے میکے گئی اور اب آخری بار وہ ابھی تک  اپنے میکے میں ہے۔

نیزجب یہ لڑکی اپنے رشتہ داروں کے ہاں جاتی ہے تو شوہر کی ہر بات اپنے رشتہ داروں کو بتاتی ہے، بلکہ اپنے کمرے کی بھی ہر بات  اپنی  سہیلیوں کو بتاتی ہے، جبکہ شوہر  اس کو بہت برا مانتا ہے اور اس کا  دل دکھتا ہے ، اب لڑکا بالکل بھی اس کو منانے کے لیے تیار نہیں ہے، آپ حضرات ہمیں بتا ئیں کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں عورت کا باربار بغیر شوہر کی اجازت کے اپنے والدین کے گھر جانا شریعت کے حکم کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ شریعت نے عورت کو بغیر کسی معتبر عذر کے شوہر کی اجازت کے بغیر والدین کے گھر جانے سے منع کیا ہے، نیز شوہرسےاجازت لے کر جانے کی صورت میں بھی اس پر لازم ہے کہ شوہر کے کہنے کے مطابق وقتِ مقررہ پر واپس آئے، بغیر عذر کے تاخیر نہ کرے، کیونکہ شوہر کے جائز حکم کی تعمیل کرنا عورت پر لازم ہے، چنانچہ ایک حدیث میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اللہ تعالیٰ کے علاوہ اگر میں کسی کو سجدہ کی اجازت دیتا تو بیوی کو اپنے شوہر کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا۔ اس لیے جب شوہر کسی بات سے منع کرے تو بیوی کی ذمہ داری ہے کہ اس سے رک جائے اور جب وہ کسی جائزکام کا حکم کرے تو اس کے حکم پرعمل کرے۔لہذاعورت کا یہ مطالبہ کرنا یا اس کی کوشش کرنا کہ شوہر میرے تابع ہو جائے اور ہر بات میری مان کر چلے درست نہیں، کیونکہ رشتہٴنکاح میں شریعت نے عورت کو مرد کے تابع بنایا ہے اور اس کو مرد کی فرمانبرداری کا حکم دیا ہے، لہذا اس کو چاہیے کہ شوہر کے تابع ہو کر رہے اور اس کی خدمت اور طاعت کے ذریعہ اس کا دل جیتنے کی کوشش کرے۔نیزعورت پر یہ بھی لازم ہے کہ میاں بیوی کے درمیان آپس کی باتیں دوسروں لوگوں کے سامنے ہرگز ظاہر نہ کرے، اس سے حدیثِ پاک میں سختی سے منع فرمایا گیا ہے،یہاں تک کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے برے لوگوں میں سے ایسا مرداورعورت بھی ہو گی جو میاں بیوی کی راز کی باتیں دوسروں کے سامنے ظاہر کرے، اس لیے  ان باتوں کو آگے نقل کرنا کبیرہ گناہ ہے، جس سے بچنا ازحد  ضروری ہے۔

البتہ شوہر کی بھی ذمہ داری ہے کہ عورت کے ساتھ حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آئے، اس کی جائز ضروریات اور تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کرے، اس کو عزت واحترام اور محبت دے، کبھی کبھار اس کو ہدیہ بھی دے دیا کرے، اس سے فریقین کے درمیان محبت بڑھتی ہے۔ان چیزوں کا اہتمام کرنے سے امید ہے کہ فریقین کے درمیان تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔

نوٹ: یہ بھی یاد رہے کہ عام طور پر اس طرح کے مسائل زوجین کے ایک دوسرے کے ذمہ واجب شدہ حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔اس لیے  میاں بیوی کے ایک دوسرے کے ذمہ واجب حقوق جاننے کے لیے منسلکہ فتوی ملاحظہ فرمائیں۔

حوالہ جات

صحيح مسلم (2/ 1060) دار إحياء التراث العربي – بيروت:

عن عمر بن حمزة العمري، حدثنا عبد الرحمن بن سعد، قال: سمعت أبا سعيد الخدري، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن من أشر الناس عند الله منزلة يوم القيامة، الرجل يفضي إلى امرأته، وتفضي إليه، ثم ينشر سرها»

مسند أحمد مخرجا (36/ 312) الناشر: مؤسسة الرسالة:

 عن معاذ بن جبل: أنه لما رجع من اليمن، قال: يا رسول الله، رأيت رجالا باليمن يسجد بعضهم لبعض، أفلا نسجد لك؟ قال: «لو كنت آمرا بشرا يسجد لبشر، لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها»

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

12/ذوالقعدة 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب