03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بچے کے منہ میں صرف پستان دینے سے رضاعت کا ثبوت
83732نکاح کا بیانمحرمات کا بیان

سوال

میری ماں نے میری بھانجی کو اپنی پستان منہ میں دیے تھے،اس وقت میری بھانجی کی عمر 6 ماہ تھی،لیکن اس وقت میری ماں کی گود میں کوئی اولاد نہ تھی،بلکہ میری بھانجی اور میری سب سے چھوٹی بہن کے درمیان 15 سال کافرق ہے۔اب ہم اپنی اس بھانجی کا نکاح اپنے بھتیجے سے کروانا چاہتے ہیں،لیکن یہاں پر ہمارے ایک عالم کہتے ہیں کہ پستان منہ میں ڈالنے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے،تو یہ نکاح نہیں ہوسکتا،اور دوسرے علماء کرام کہتے ہیں کہ یہ نکاح ہوسکتاہے،ہمیں اس مسئلہ پر فتوی درکار ہے کہ محض پستان منہ میں ڈالنے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے یا نہیں ؟کیا ان دونوں کا نکاح ہوسکتاہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 شک کی بنا حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی،لہذا مذکورہ صورت میں  اگر واقعۃ صرف پستان  بچہ کے منہ میں دیا تھا،اور اس سے دودھ نہیں نکلا ،تو رضاعت ثابت نہیں ہوئی ،لہذا یہ رشتہ کرنا درست ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3 / 212):

"(ويثبت به) ولو بين الحربيين بزازية (وإن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير، فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم لأن في المانع شكًّا، ولوالجية.

(قوله: فلو التقم إلخ) تفريع على التقييد بقوله إن علم. وفي القنية: امرأة كانت تعطي ثديها صبية واشتهر ذلك بينهم ثم تقول لم يكن في ثديي لبن حين ألقمتها ثدي ولم يعلم ذلك إلا من جهتها جاز لابنها أن يتزوج بهذه الصبية. اهـ. ط. وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك."

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

02/ذیقعدہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب