| 83747 | زکوة کابیان | صدقات واجبہ و نافلہ کا بیان |
سوال
اگر ایک بندہ دوسرے بندے کو 5,000 روپے دے کر کہے کہ تم اس سے کپڑے خریدلو تو کیا وہ اس سے کتاب خرید سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایسی صورت میں اصل چیز رقم کی تملیک ہوتی ہے، یعنی جس کو رقم دی جاتی ہے اس کو وہ رقم مالک بنا کر دی جاتی ہے، اور مالک کو اپنے مال میں ہر جائز تصرف کا حق حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا رقم وصول کرنے کے بعد وہ شخص جس ضرورت میں چاہے، اس کو خرچ کرنے کا مجاز ہوگا۔ رقم دینے والے کی طرف سے کوئی چیز خریدنے یا کسی کام میں خرچ کرنے کی تخصیص اور تعیین بطورِ مشورہ ہوتی ہے، جس کی پابندی شرعاً لازم نہیں۔ البتہ اس کے مشورے کا احترام کرتے ہوئے اس پر عمل کرنا یا اس کو بتا کر رقم کسی اور جائز کام (جس کی ضرورت متعین کردہ چیز سے زیادہ ہو) میں خرچ کرنا زیادہ بہتر ہے۔
اس کی ایک نظیر فقیر کو زکوۃ کی رقم مالک بنانے کے بعد کسی نیکی کے کام میں خرچ کرنے کا بتانا ہے کہ اس میں فقیر پر زکوۃ دینے والے کی بات ماننا لازم نہیں ہوتا، بلکہ وہ جیسے چاہتا ہے، اس طرح خرچ کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار (2/ 344):
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)…..لعدم التمليك وهو الركن. وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء، وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره، والظاهر نعم.
رد المحتار (2/ 345):
قوله ( والظاهر نعم ) البحث لصاحب النهر، وقال: لأنه مقتضى صحة التمليك. قال الرحمتي: والظاهرأنه لا شبهة؛ فيه لأنه ملكه إياه عن زكاة ماله وشرط عليه شرطا فاسدا، والهبة والصدقة لا يفسدان بالشرط الفاسد.
النهر الفائق (1/ 462):
والحيلة في هذا أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء، وهل له أن يخالف أمره؟ مقتضى صحة تمليكه أن له ذلك، ولم أره.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
02/ذو القعدۃ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


