| 83762 | پاکی کے مسائل | غسل واجب کرنے والی چیزوں، فرائض اور ،سنتوں کا بیان |
سوال
مسئلہ یہ ہے کہ وضو کے لیے یک ونیم من پانی ،غسل کے لیے چار من ہے ، چار من ایک صاح بنتا ہے، شرعی من کتنے سیر یا کلو کا ہوتا ہے؟ ایک وینم من کا حساب کلو سے کتنا بنے گا؟ ویسے تو وضو کے لیے دو کلو پانی کافی ہے اور غسل کے لیے چار کلو پانی ہوسکتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مدپانی سے وضو کرنا اور ایک صاع یعنی چار مد سے لے کر پانچ مد تک سےغسل کرنامنقول ہے۔
ایک صاع چارمدیعنی آٹھ رطل(باعتباروزن۳٫۵۳۸ کلو گرام /۵٫۸۸ لیٹرکےبرابرہوتاہےاورایک مددورطل یعنی(۱٫۴۷ لیٹر/۰٫۸۸۴۵ کلوگرام) کاہوتا ہے۔(احسن الفتاوی:ج۴،ص۴۱۶)
اس طرح وضو کےلیے ڈیڑھ لیٹراور غسل کے لیےپانچ لیٹرپانی استعمال کرنا ثابت ہے،نیز بعض روایتوں سے آپ کے لیے وضو کے پانی کی مقدار دوتہائی مد اور بعض روایتوں میں آدھا مد بھی منقول ہے، لہذا تطبیق یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر وبیشتر ایک ہی مد سے وضو فرماتے تھے، مگر کبھی کبھار اس سے کم مقدار سے بھی وضو فرمالیتےتھے۔ لیکن واضح رہے کہ شرعا وضو اور غسل کےلیے پانی کی کوئی خاص مقدار وجوب کے درجہ میں منقول نہیں، البتہ وضو اور غسل کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےمنقول مقداروں سے کم پانی استعمال نہ کرنا سنت ہےاوربلا ضرورت اس سے زائد مقدار استعمال کرنا اسراف میں آتا ہے۔
حوالہ جات
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (ج 2 / ص 361):
وعن أنس قال كان النبي يتوضأ بالمد ويغتسل بالصاع إلى خمسة أمداد قال الطيبي المد رطل وثلث بالبغدادي والصاع أربعة أمداد ا ه وهذا عند الشافعي وأما عند أبي حنيفة فالمد رطلان والصاع ثمانية أرطال لخبر النسائي بذلك ثم الإجماع على أنه لا يشترط قدر معين في ماء الوضوء والغسل ولكن يسن أن لا ينقص ماء الوضوء عن مد وماء الغسل عن صاع تقريبا كما دل عليه قوله خمسة أمداد والمراد بالمد والصاع وزنا لا كيلا متفق عليه قال ابن حجر وجاء بسند حسن أنه عليه الصلاة والسلام توضأ بإناء فيه قدر ثلثي مد وروى الطبراني بإناء فيه نصف مد ا ه فيحمل الحديث المتفق عليه على أنه غالب أحواله عليه الصلاة والسلام والله تعالى أعلم
رد المحتار - (ج 1 / ص 443)
( ثم يفيض الماء ) على كل بدنه ثلاثا مستوعبا من الماء المعهود في الشرع للوضوء والغسل وهو ثمانية أرطال ، وقيل : المقصود عدم الإسراف .
مطلب في تحرير الصاع والمد والرطل ( قوله : وهو ثمانية أرطال ) أي بالبغدادي ، وهي صاع عراقي ، وهو أربعة أمداد ، كل مد رطلان ، وبه أخذ أبو حنيفة .
والصاع الحجازي خمسة أرطال وثلث ، وبه أخذ الصاحبان والأئمة الثلاثة ، فالمد حينئذ رطل وثلث ، والرطل مائة وثلاثون درهما وقيل مائة وثمانية وعشرون درهما وأربعة أسباع درهم وتمامه في الحلية .
قلت : والصاع العراقي نحو نصف مد دمشقي ، فإذا توضأ واغتسل به فقد حصل السنة .
( قوله : وقيل المقصود إلخ ) الأصوب حذف قيل لما في الحلية أنه نقل غير واحد إجماع المسلمين على أن ما يجزئ في الوضوء والغسل غير مقدربمقدار .
وما في ظاهر الرواية من أن أدنى ما يكفي الغسل صاع ، وفي الوضوء مد للحديث المتفق عليه { كان صلى الله عليه وسلم يتوضأ بالمد ، ويغتسل بالصاع إلى خمسة أمداد } " ليس بتقدير لازم ، بل هو بيان أدنى القدر المسنون .ا هـ .
قال في البحر : حتى إن من أسبغ بدون ذلك أجزأه ، وإن لم يكفه زاد عليه ؛ لأن طباع الناس وأحوالهم مختلفة كذا في البدائع ا هـ وبه جزم في الإمداد وغيره .
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۵ذیقعدہ۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


