03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کےلیےبیوی کاسامنےہونایااس کی طرف صریح نسبت ضروری نہیں۔
83760طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

سؤال یہ ہےکہ طلاق میں  عورت کا آمنے سامنے موجود ہونا شرط ہے یا نہیں؟ ایک شخص عورت کی غیر موجودگی  میں کہتا ہے کہ اگر میں نے فلاں کو ووٹ دیا تو مجھ پر عورت طلاق ثلاثہ سے مغلظہ ہے، شرط پائی گئی ،ایسے شخص کی  عورت کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق کےلیےبیوی کا سامنے ہوناضروری نہیں،بلکہ اس کی طرف طلاق کی نسبت واضافت اگرچہ حکما ہوکافی ہے،لہذااس طرح کہنے کے بعد شرط پائی جانے پر اس شخص کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔

حوالہ جات

حاشية رد المحتار - (ج 3 / ص 273)

 ولا يلزم كون الاضافة صريحة في كلامه لما في البحر لو قال: طالق، فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته اه.

۔۔۔۔ويؤيده ما في البحلو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعن امرأتي يصدق اه.

ويفهم منه أنه لو يقل ذلك تطلق امرأته، لان العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها، فقوله إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها لانه يحتمله كلامه،

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 ۵ذیقعدہ۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب