03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فضولی کی بیع کا حکم
83759خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جناب حاجی راج محمد نے اپنی زمین کا کچھ حصہ عبدالقیوم ولد حاجی شیر محمد پر فروخت کرکے حج ادا کیا،  پھر عبدالقیوم کے بیٹے محمد یونس نے اپنے والد  کی اجازت کے  اور اطلاع کے بغیر وہ زمین افراہیم نامی شخص پر فروخت کردی، جب اصل مالک عبدالقیوم کو پتہ چلا، تو اس پر سخت نکیر کی اور زمین واپس کرنے کا مطالبہ کیا(یعنی خریدار  اپنی رقم  واپس لیں اور زمین واپس کردیں)، جس پر افراہیم نے زمین واپس کرنے سے انکار کردیا۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ باپ کی اجازت کے بغیر اس بیع کا کیا حکم ہے؟ کیا عبدالقیوم کا تقاضا درست ہے اور افراہیم کا اس زمین کو استعمال کرنا کیسا ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی وضاحت مطلوب ہے۔

تنقیح: سائل سے زبانی بات کرکے معلوم ہوا کہ اصل مالک عبدالقیوم کا انتقال ہوچکا ہے، البتہ انہوں نے اپنی حیات میں اس معاملہ کو دیکھنے  کے لیے سائل (دل مراد ) کو اپنا نائب بنایا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت مطہرہ کا  اصول ہے کہ کسی دوسرے کی چیز کو اس کی اجازت کے بغیر بیچنا شرعا جائز نہیں ، اگر کوئی شخص  ایسی  چیز بیچے، تو اس کا حکم یہ ہے کہ ایسی  بیع منعقد ہوکر اصل مالک کی اجازت پر موقوف ہوگی، جب تک اصل مالک اجازت نہ دے، تب تک بیع  نافذ نہ ہوگی، لہذا  جب صورت مسئولہ میں اصل مالک  عبدالقیوم نے  بیع پر مطلع ہونےکے بعد نہ صرف  اس بیع کی اجازت دینے سے  سختی سے انکار کیا،بلکہ اپنی زمین واپس کرنے کا مطالبہ بھی   کیا، تو ایسی صورت میں یہ بیع  باطل ( کالعدم) ہوگئی  ہے، لہذا  خریدار افراہیم کے لیے شرعا یہ جائز نہیں کہ وہ اس زمین کو اپنے پاس رکھ کر اس سے نفع اٹھاتا رہے ، بلکہ اس پر لازم ہے کہ  وہ  اپنی ادا کردہ پوری  رقم  محمد یونس  سےوصول  کرکے زمین واپس کردے۔

حوالہ جات

   الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 106):

(من يتصرف في حق غيره) ... (بغير إذن شرعي) فصل خرج به نحو وكيل ووصي (كل تصرف صدر منه) تمليكا كان كبيع ... (وله مجيز) أي لهذا التصرف من يقدر على إجازته (حال وقوعه انعقد موقوفا) وما لا يجيز له حالة العقد لا ينعقد أصلا.

  فتح القدير للكمال ابن الهمام (6/ 248):

ومنها شرط النفاذ وهو الملك والولاية، حتى إذا باع ملك غيره توقف النفاذ على الإجازة ممن له الولاية۔

فقہ البیوع (941/2):

الشرط الثالث: أن یبقی العاقدان و المعقود علیہ والمالک  الی وقت الاجازۃ: فلو ھلک البائع أو الفضولی العاقد، بطل البیع.....و ان مات المالک لا ینتقل حق الاجازۃ الی وارثہ، بل یبطل البیع۔

صفی اللہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

06/ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صفی اللہ بن رحمت اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب