| 83795 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میں محمدفاروق ولدعبدالرحیم،حامل شناختی کارڈنمبر1-3257573-42401 جناب سے گزارش کرتا ہوں کہ میری مرحومہ بیوی عمرانہ ارم زوجہ محمد فاروق اور میرے نام پر ایک مشتر کہ مکان ہے جس کی پچاس فیصد کی ملکیت میری مرحومہ بیوی کے نام پر ہےاورپچاس فیصد ملکیت میرے نام پر ہے۔مرحومہ کے نام پر جو پچاس فیصد ملکیت ہےاس حوالے سےمیری مرحومہ بیوی عمرانہ ارم نے اپنی زندگی میں کوئی تحریری وصیت نہیں کی تھی،لیکن میری موجودگی اوراس کے علاوہ کئی رشتہ داروں کے سامنے یہ کہا تھا کہ میرے نام پر مکان کی جو پچاس فیصد ملکیت ہے وہ میری لے پالک بچی منیبہ فاروق بنت محمد فاروق کو دے دی جائے اور اس پچاس فیصد ملکیت میں سے میرے شوہر محمد فاروق ولد عبدالرحیم کے تمام گھر والوں اور میرے تمام بہن اور بھائیوں اس کے علاوہ میرے تمام رشتہ داروں کو اس میں سے کوئی بھی حصہ نہ دیا جائے۔میں محمد فاروق ولد عبد الرحیم حلفیہ اقرار کرتا ہوں اورتمام باتوں کی تصدیق کرتا ہوں،جو باتیں میرے علم میں تھیں تحریر کر دی ہیں اور کوئی امر پوشیدہ نہیں رکھا گیا ہے۔ اس کی شرعی طریقے سے تقسیم کیا ہوگی براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔مرحومہ کےلواحقین میں درج ذیل نام شامل ہیں:
1- مرحومہ کا شوہرمحمدفاروق بن عبدالرحیم
2 - مرحومہ کی ( ہماری ایک بیٹی ) منیبہ فاروق بنت محمد فاروق ( یہ بچی لے پالک ہے، جسے ہم دونوں میاں بیوی نے گود لیا تھا)
3 - مرحومہ کی بہن رضوانہ بیگم بنت سید کبیر علی ( مرحوم )
4۔ مرحومہ کا بھائی بھانجا جسے مرحومہ کی والدہ نے اپنے شوہر کے انتقال کے بعد گو دلیا تھا،یہ لے پالک بیٹا ہے اور یہ رضوانہ بیگم کا حقیقی بیٹا ہے۔
5۔ مرحومہ کی بہن مرحومہ عرفانہ بیگم جو میری زوجہ کی وفات کے وقت حیات تھی۔عرفانہ بیگم کی تین بیٹیاں ہیں (1) منزہ عشرت (2) ماه رخ عشرت (3) گل رخ عشرت، انتقال جولائی 2023 کو ہوا،شوہر کا انتقال زندگی میں ہوا ۔
6۔ مرحومہ کا بھائی مرحوم سید شکیل احمد میری زوجہ کی وفات کے وقت حیات تھا،شکیل احمد کا ایک بیٹا ہے اس کا نام سید عزیز علی ولد سید شکیل احمد ہے،شکیل احمد کا انتقال نومبر 2023 کو ہوا،اس کی بیوی کا انتقال زندگی میں ہی ہوا۔
تنقیح:سائل نے فون کال پر بتایا کہ مرحومہ کی خواہش کے مطابق ان کی زندگی میں کاغذات وغیرہ کے حوالے سے کوششیں شروع کردی تھیں، لیکن کاغذات کی تکمیل سے پہلے ہی مرحومہ کا انتقال ہوگیا ۔اسی طرح یہ وضاحت بھی کی کہ مرحومہ نے اپنا حصہ لے پالک بیٹی کو دینے والی بات مرض الوفات میں نہیں کی بلکہ ایسا کوئی مرض بوقت وفات لاحق ہی نہیں تھا اور یہ وضاحت بھی کی کہ لے پالک بیٹی کی عمر اکیس سال تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ لے پالک یعنی منہ بولے بیٹے یا بیٹی وراثت کے حقدار نہیں ہوتے،لہٰذا آپ کی لے پالک بیٹی بھی آپ کی زوجہ کی وراثت کی حقدار نہیں ہو گی،رہی بات آپ کی زوجہ کی اس خواہش کی کہ "میرے نام پر مکان کی جو پچاس فیصد ملکیت ہے، یہ میری لے پالک بچی منیبہ فاروق بنت محمد فاروق کو دے دی جائے…"اس حوالے سےجیسا کہ آپ نے فون کال پر بتایا کہ اگر کاغذات آپ کی زوجہ کی زندگی میں آجاتے تو وہ اپنی زندگی میں ہی اپنی لے پالک بیٹی کو مالک بنادیتیں،یہ بظاہر ہبہ یعنی گفٹ کرنے کے الفاظ ہیں،اور ہبہ کی تکمیل کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہبہ کرنے کے بعد اس چیز پر قبضہ بھی کروادیاجائے، جبکہ مذکورہ صورت میں ایسا کوئی اہتمام آپ کی زوجہ کی طرف سے نہیں کیا گیا تھا،لہٰذاہبہ مکمل نہیں ہوا،جب ہبہ مکمل نہیں ہوا تومکان میں موجود مرحومہ(عمرانہ ارم)کے حصے کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہوتواسےادا کرنےکےبعد،یامرحومہ نےکوئی جائزوصیت کی ہو تواسےایک تہائی ترکہ میں نافذکرنےکےبعد،باقی جائدادکوآٹھ حصوںمیں تقسیم کرکے چار حصےمرحومہ کے شوہرکواوردو حصےمرحومہ کےبھائی کواورایک ایک حصہ مرحومہ کی ہرایک بہن کوملےگا۔ فیصد کے اعتبار سے 50فیصد شوہر کو،اور 25 فیصد بھائی کو ،اور 12.5 فیصد ہر ایک بہن کو ملے گا۔
|
رشتہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
شوہر |
4/8 |
50 فیصد |
|
بھائی سید شکیل احمد |
2/8 |
25 فیصد |
|
بہن رضوانہ |
1/8 |
12.5 فیصد |
|
بہن عرفانہ |
1/8 |
12.5 فیصد |
اگر عرفانہ بیگم کے ورثاء میں صرف ان کی مذکورہ تین بیٹیاں ہی ہیں تو ان کی ہر ایک بیٹی کو ان کے حصے میں سے33.33 فیصد حصہ ملے گا۔اسی طرح اگر شکیل احمد کے ورثاء میں صرف ان کے ایک بیٹے ہی ہیں تو ان کا مکمل حصہ مذکورہ بیٹے سید عزیر علی کو ملے گا۔
مذکورہ تقسیم وراثت کے شرعی حصوں کے اعتبار سے کی گئی ہے،البتہ شریعت مطہرہ نے معاشرے کے کمزور لوگوں کا خیال رکھنے کی ترغیب دی ہے، اس لیے اگر مرحومہ(عمرانہ ارم) کے بالغ ورثاء اپنی رضامندی سے اپنا مکمل حصہ یا اپنے حصے میں سے کچھ حصہ مرحومہ کی لے پالک بیٹی کو دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 690)
(و) تصح الھبۃ (بقبض …).
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 770)
(والنصف له(الزوج) عند عدمهما(الولد أو ولد الابن) فللزوج حالتان النصف والربع.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 774)
(ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) وأما أبو الأم ففاسد من ذوي الأرحام (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين…
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 238)
(ثم الأخ لأب وأم ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم ثم ابن الأخ لأب) وإنما قدموا على الأعمام لأن الله تعالى جعل الإرث في الكلالة للإخوة عند عدم الولد والوالد بقوله تعالى {وهو يرثها إن لم يكن لها ولد} [النساء: 176] فعلم بذلك أنهم مقدمون على الأعمام، ولأن الإخوة جزء الأب فكانوا أقرب من الأعمام لأنهم جزء الجد، وإنما قدم الأخ لأب وأم لأنه أقوى لاتصاله من الجانبين فكان ذا قرابتين فترجح بذلك عند الاستواء في الدرجة، وقد قال - عليه الصلاة والسلام - «إن أعيان بني الأم يتوارثون دون بني العلات» وكذا الأخت لأب وأم تقدم إذا صارت عصبة على الأخت لأب لما ذكرنا، ولهذا تقدم في الفرض فكذا في العصوبة.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۰۶.ذوالقعدہ۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


