03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تنگ دستی اور غربت وجوب عشرسے مانع نہیں۔
83785زکوة کابیانعشر اور خراج کے احکام

سوال

زید اور اس کے اہل خانہ شہر میں رہتے ہیں ،لیکن گاؤں میں بھی انکی آباد شدہ زمین ہے اور وہاں ان کا ایک پلاٹ بھی ہے، جو تقریبا 7 لاکھ کی مالیت کا ہے ، نیز شہر میں رہائشی گھر کے علاوہ 15 لاکھ کی مالیت کا پلاٹ بھی ہے جو کہ گھر کی توسیع کے لیے خریدا ہوا ہے اور گاؤں کا پلاٹ قرضہ اداکرنے اور گھر کی تعمیرات کے لیے رکھا ہوا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ زید والوں پر اپنی زمین کا عشر نکالنا واجب ہے،جبکہ ظاہری طور پر وہ معاشی حالات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے تنگ دست ہیں، قرضہ  کے ساتھ ساتھ گھر کی بہت ساری ضروریات نے بھی آمدنی کم ہونے کی وجہ سے انہیں مفلس بنادیا ہے۔ تو کیا ان حالات میں ان پر عشر ادا کرنا واجب ہوگا؟ ساتھ میں ان کے لیے قربانی کا کیا حکم ہوگا؟ وضاحت فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عشر تو زمین کی پیداوار پر آتا ہے، لہذا شرعاقرض وغیرہ اس کے واجب ہونے اورادائیگی سے مانع نہیں، البتہ قربانی کےلیے قرض نصاب سے منہا کیا جائے گا،البتہ اس کے علاوہ سونا ،چاندی اورنقدی اورضرورت سے زائد سامان ایام قربانی میں اتنا ہو کہ اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کو پہنچے تو ایسے شخص پر قربانی لازم ہے،ورنہ نہیں۔

حوالہ جات

رد المحتار - (ج 6 / ص 455)

ولا يمنع الدين وجوب عشر وخراج

 ( قوله ولا يمنع الدين وجوب عشروخراج ) برفع الدين ونصب وجوب والكلام في موانع الزكاة ، لكن لما كان كل من العشر والخراج زكاة الزروع والثمار قد يتوهم أن الدين يمنع وجوبهما نبه على دفعه وذكر الكفارة استطرادا فافهم ( قوله لأنهما مؤنة الأرض النامية ) حتى يجب في الأرض الموقوفة وأرض المكاتب بدائع   ۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 ۶ذیقعدہ۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب