| 83791 | روزے کا بیان | روزے کے مفسدات اور مکروھات کا بیان |
سوال
گذشتہ رمضان المبارک میں میرا ایک روزہ ٹوٹ گیا تھا، اس کا کفارہ مجھے معلوم تھا کہ60 روزے متواتر رکھنا ہیں ،احقر نے نومبر میں بفضلہ تعالی روزے شروع کئے ،مگر ابھی 40 روز ے مکمل ہوئے تھے کہ شدید بیمار ہو گیا اور باقی روزے نہ رکھ سکا ، اب دریافت یہ کرنا ہے کہ بقایا 20 روزے رکھوں یا دوبارہ 60 روزے رکھنا ہوں گے ۔
روزه جان بوجھ کر توڑنے کی صورت میں کیا فدیہ یا کفاره ہے؟ واضح طور پر آسان انداز میں سمجھا دیجئے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جب عمدا کوئی بندہ روزہ توڑ تاہے تو اس پر کفارہ اور قضاء دونوں واجب ہوجاتے ہیں،کفارہ یہ ہے کہ ساٹھ روزے مسلسل رکھیں ،اگر استطاعت نہیں ہے تو ساٹھ مسکینوں کو دووقت پیٹ بھر کھاناکھلائے،چونکہ کفارہ کی ادائیگی میں تسلسل برقرار رکھنا واجب تھا،تسلسل توڑنے کی صورت میں اگر چہ کسی عذر کی وجہ سے ہو دوبارہ نئے سرے سے شروع کرنالازم ہے ،اس لئے دوبارہ نئے سرے سےشروع کیجئے ۔نیز اسی توڑے ہوئے روزہ کی قضاء بھی لازمی ہے۔اللہ تعالی توفیق دے گا۔ان شاءاللہ تعالی۔
جان بوجھ کرروزہ توڑنے کی صورت میں کفارہ اور قضاءواجب ہے اور روزہ توڑنے کاکفارہ ساٹھ روزہ مسلسل بلا ناغہ رکھنالازم ہے،اگر کوئی شخص بہت ذیادہ عمر رسیدہ ہو یا ایسا دائمی مرض لاحق ہےکہ مرتے دم تک ختم ہونے کا بظاہر امکان نہ ہواور روزہ رکھنے سےاس مرض میں اضافہ ہوتاہو یا اس مرض کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنا ناممکن ہو توپھر ساٹھ مساکین کو دو وقت کامعمول کے مطابق کھاناکھلانالازم ہے۔نیز کفارے کے علاوہ جو روزہ توڑا ہے اور اسی کی قضاءبھی لازما کرےگا۔
حوالہ جات
شرح معاني الآثار (2/ 60)
3197 - بما حدثنا يونس , قال: أنا ابن وهب , قال: حدثني مالك , عن ابن شهاب , عن حميد بن عبد الرحمن , عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رجلا أفطر في رمضان , في زمن النبي صلى الله عليه وسلم فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يكفر بعتق رقبة , أو صيام شهرين متتابعين , أو إطعام ستين مسكينا , فقال: لا أجد فأتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرق فيه تمر , فقال: خذ هذا فتصدق به. فقال: يا رسول الله , إني لا أجد أحدا أحوج إليه مني , فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بدت أنيابه , ثم قال: كله " .
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 409):
(وإن جامع) المكلف آدميا مشتهى (في رمضان أداء) ...(عمدا) –راجع للكل... (فظن فطره به فأكل عمدا قضى) في الصور كلها (وكفر) لأنه ظن في غير محله ...(ككفارة المظاهر) الثابتة بالكتاب، وأما هذه فبالسنة ومن ثم شبهوها بها .مطلب في الكفارة (قوله: ككفارة المظاهر) مرتبط بقوله وكفر أي مثلها في الترتيب فيعتق أولا فإن لم يجد صام شهرين متتابعين فإن لم يستطع أطعم ستين مسكينا لحديث الأعرابي المعروف في الكتب الستة فلو أفطر ولو لعذر استأنف إلا لعذر الحيض .
عبدالعلی
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
06/ذیقعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


