| 83778 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
دو بندوں کے درمیان 18ہزار پر ایک مکان کے اجارے کی بات ہوئی۔ بعد میں مالکِ مکان کو پتا چلا کہ بازار میں کرایہ 22 ہزار چل رہا ہے، اب مالکِ مکان اس ایگریمنٹ کو ختم کرنا چاہتا ہے تو کیا اس کو یہ اختیار ہے؟ اور اگر مالکِ مکان کہے کہ آپ اپنی خوشی سے کچھ بڑھا دیں تو کیا یہ جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر کرایہ دار نے مالکِ مکان کو کسی قسم کا دھوکہ نہیں دیا تھا، بلکہ دونوں نے باہم رضامندی سے کرایہ مقرر کیا تھا تو اب مالکِ مکان کو یک طرفہ طور پر یہ معاملہ ختم کرنے یا کرایہ بڑھانے کا اختیار نہیں، البتہ وہ کرایہ دار سے کرایہ بڑھانے کی درخواست کر سکتا ہے، اگر وہ راضی ہوجائے اور کرایہ بڑھادے تو اس کے بعد مالکِ مکان نئے مقرر کردہ کرایہ کا حق دار ہوگا۔
حوالہ جات
المجلة (ص: 84):
مادة 439: لو تقاولا بعد العقد على تبديل البدل أو تزييده وتنزيله يعتبر العقد الثاني.
درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 406):
شرح المادة 439: ……….مثال : لو آجر حانوته بمائة قرش فضة وبعد ذلك اتفق مع المستأجر على أن تكون الأجرة أكثر، أو أقل، أو تكون ذهبا وعقدا العقد على صورة من هذه الصور انفسخ العقد الأول وكان العقد الثاني معتبرا .
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
07/ذو القعدۃ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


