03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایزی پیسہ یا جیزکیش اکاؤنٹ میں رقم منتقلی پر کٹوتی کا حکم
83780سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

ہم دکاندار کو ایزی پیسہ یا جیز کیش اکاؤنٹ میں پیسے بھیجنےکو کہتے ہیں،وہ ہزار روپے پر کچھ پیسے کاٹتے ہیں،یا پھر وہ کہتے ہیں کہ خود جیب سے دو گے یا اسی اکاؤنٹ سے ہم نکال لیں ؟یعنی الگ سے اضافی پیسے دو گے یا آپ کے اکاؤنٹ سے ہم اضافی پیسوں کی کٹوتی کرلیں؟اس طرح دوکاندار ہزار روپے نکلوانے پر بیس روپے کاٹتے ہیں،کیا یہ سودی لین دین ہے؟یعنی ان کا ہمارے ساتھ یہ معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہماری معلومات کے مطابق کمپنی ایزی پیسہ اور جاز کیش کے لیے دو قسم کے  اکاؤنٹس  کھولتی ہے اور دونوں قسموں  کے اکاؤنٹس کے ذریعے رقم  منتقل کرنےکا حکم علیحدہ علیحدہ ہے:

الف: ریٹیلر اکاؤنٹ(Retailer Account): ریٹیلر اکاؤنٹ میں کمپنی اور دکاندار کے درمیان شرعی اعتبار سے اجارة الاشخاص (اس میں دکاندار کمپنی کا ملازم اور کمیشن ایجنٹ ہوتا ہے) کا معاملہ منعقد ہوتا ہے اور کمپنی دکاندار کو اپنی کسی بھی قسم کی سروس (خدمت) فراہم کرنے پر ایک مخصوص مقدار میں کمیشن دیتی ہے اور کسٹمر سے اضافی رقم لینے کومنع کرتی ہے اور شرعی اعتبار سے اجارہ کے معاملہ میں طے شدہ جائز شرائط کی رعایت رکھنا فریقین کےذمہ لازم ہوتا ہے، لہذا کمپنی کے کمیشن ایجنٹ ہونے کی حیثیت سے دکاندار کا رقم ٹرانسفر(منتقل)کرنے پر کسٹمر سے اضافی رقم لینا جائز نہیں۔

 ب: پرسنل اکاؤنٹ(Personal Account): پرسنل اکاؤنٹ کھلوانے سے متعلق کمپنی  کی ویب سائٹ پر لکھے گئے اصول وضوابط کے مطالعہ اور بعض دکانداروں کے بتانے پر معلوم ہوا کہ اس اکاؤنٹ میں دکاندار کمپنی کا کمیشن ایجنٹ نہیں ہوتا، اسی لیے کمپنی پرسنل اکاؤنٹ کے ذریعہ رقم ٹرانسفر کرنے پراس کو کوئی کمیشن نہیں دیتی،البتہ کمپنی تبرعاً اپنا سسٹم استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے، نیز پرسنل اکاؤنٹ کے ذریعہ کسی دوسرے شخص کو خدمات فراہم کرنےسے بھی منع  نہیں کرتی، بلکہ پرسنل اکاؤنٹ کھلوانے والا شخص (Account Holder) اپنی طرف سے  کسی بھی شخص کو خدمات فراہم کرنے میں خود مختارہوتا ہے، لہذا جب دکاندار اپنے پرسنل اکاؤنٹ کے ذریعہ کسٹمر کی رقم ٹرانسفر کرتا ہےتو  دکاندار اور کسٹمر کے درمیان اجارة الاشخاص کا معاملہ منعقد ہوتا ہے، جس میں دکاندار کسٹمر کا اجیر(ملازم) بن کر اس کو اپنی خدمات فراہم کرتا ہے، اس لیے دکاندارکااپنے پرسنل اکاؤنٹ کے ذریعہ  رقم ٹرانسفرکرنےپر اپنی خدمت کے عوض کسٹمر سے بطورِ اجرت مناسب مقدار میں اضافی رقم لینا  فی نفسہ جائز ہے، بشرطیکہ کسٹمر کو اس بات کا علم ہو کہ یہ اضافی رقم دکاندار کی اپنی اجرت ہے۔(تبویب:78402)

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 560) دار الفكر-بيروت:

وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.

قال ابن عابدين: (قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين.

فقہ البیوع: (۲/۷۵۱) لشيخ الإسلام محمد تقي العثماني، مكتبة معارف القرآن كراتشي:

أن دائرة البرید تتقاضی عمولة من المرسل علی إجراء هذہ العملیة فالمدفوع إلی البرید أکثر مما یدفعہ البرید إلی المرسل إلیہ فکان فی معنی الربا ولهذالسبب أفتی بعض الفقهاء فی الماضی القریب بعدم جواز إرسال النقود بهذالطریق ولکن أفتی کثیر من العلماء المعاصرین بجوازهاعلی أساس أن العمولة التی یتقاضاهاالبرید عمولة مقابل الأعمال الإداریةمن دفع الاستمارة وتسجیل المبالغ وإرسال الاستمارة أوالبرقیة وغیرهاإلی مکتب البرید فی ید المرسل إلیہ وعلی هذ الأساس جوّز الإمام أشرف علی التهانوی رحمہ اللہ-إرسال المبالغ عن طریق الحوالة البریدیة. وعلى هذا مشى العلماء المعاصرون، مثل فضيلة الدكتور الشيخ وهبة الذحيلي حفظه الله.

والعادة أن عمولة الإرسال تكون مرتبطة بنسبة مئوية من المبلغ. وقد يجعل مكتب البريد شرائح لهذه العمولة، فمثلا: هناك مبلغ مقطوع لإرسال مبلغ أقل من ألف، ومبلغ مقطوع أزيد منه لإرسال ما يبلغ ألفاإلى خمسة الآف، وهكذا، وقد جرى عليه العمل في سائر البلدان من غير نكير، وليس هناك ما يبرر هذا الربط بين المبلغ والعمولة إلا ما ذكره ابن عابدين رحمه الله تعالى في أجرة كتابة الصك حيث جاء في الدرالمختار:

يستحق القاضي الأجر على كتب الوثائق والمحاضر والسجلات قدر ما يجوز لغيره كالمفتي، فإنه يستحق أجر المثل على كتابة الفتوى، لأن الواجب عليه الجواب باللسان  دون الكتابة بالبنان، ومع هذاالكف أولى.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

۰۷.ذو القعدہ۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب