03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موبائل سروسز ادھار لینے پر اضافی اجرت کا حکم
83781سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

ہم موبائل کمپنی والوں سے بیلنس نہ ہونے کی صورت میں کبھی پندرہ روپے لیتے ہیں ،پھر جب ہم بیلنس ڈلواتے ہیں تو پندرہ روپے سے زیادہ کٹ جاتے ہیں،کیا  یہ لین دین  بھی سود ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

موبائل کمپنی والوں سے جو سہولت فون کال یا میسیجز وغیرہ کی آپ حاصل کرتے ہیں وہ کرنسی یا رقم نہیں ہوتی بلکہ ایک خدمت یا منفعت ہے جو آپ حاصل کرتے ہیں،اور  عام طور پر موبائل کمپنیز کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ ایڈوانس  رقم کے عوض جو سہولیات دیتی ہیں ان  کی اجرت کم لیتی ہیں اور ادھار رقم کے عوض جو سہولیات دیتی ہیں ان کی اجرت زیادہ لیتی ہیں،لہٰذا ادھار سہولت حاصل کرنے کی وجہ سے جو اضافی رقم آپ موبائل کمپنی کو ادا کرتے ہیں وہ سود نہیں ہے۔

حوالہ جات

الإجارة في اللغة بمعنى الأجرة وقد استعملت في معنى الإيجار أيضا وفي اصطلاح الفقهاء بمعنى بيع المنفعة المعلومة في مقابلة عوض معلوم….يعتبر ويراعى كل ما اشترطه العاقدان في تعجيل الأجرة وتأجيلها…إذا شرط تأجيل البدل يلزم على الآجر أولا تسليم المأجور وعلى الأجير إيفاء العمل. والأجرة لا تلزم إلا بعد انقضاء المدة التي شرطت….إن كانت الأجرة موقتة بوقت معين كالشهرية أو السنوية مثلا يلزم إيفاؤها عند انقضاء ذلك الوقت. (مجلة الأحكام العدلية :ص: 79 ،90)

 قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: وتجوز بمثل الأجرة أو بأكثر أو بأقل بما يتغابن فيه الناس لا بما لا يتغابن. (الدر المختار :6/ 27)

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

۰۷.ذو القعدہ۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب