| 83857 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
سُسر نے بہو کے ساتھ نازیبا حرکت کی جس کی عکاسی بھی موجود ہے، عکاسی میں سسر اپنی بہو کو اپنے پاس بلاتا ہے، اپنی بہوکے ہونٹوں کا بوس و کنار کرتا ہے اور اس کو اپنے سینے پر لٹا کر دباتا ہے، اس کے بعد سسر بہو کا ہاتھ پکڑ کر اپنی شرمگاہ (عضو تناسل) پر لگاتا ہے۔ اس کے بعد بہو اپنی چاہت سے چار مرتبہ سسر کی شرمگاہ (عضو) کو پکڑ کر سہلاتی ہے (بہو کا سسر کی شرمگاہ "عضو" کو سہلانے کے دوران کپڑا حائل نہیں ہے)، پھر بہو خود سسر کے اوپر لیٹ کر سسر کے ہونٹوں کو بوس و کنار کرتی ہے، پھر سسر بہو کی چھاتی میں ہاتھ ڈالتا ہے اور بہو کے پستان کو دباتا ہے، پھر کسی چیز کی آواز سے دونوں ڈر کر علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ اسی بہو نے دیور کو بھی گناہ کی طرف مائل کیا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس خاتون (بہو) اور اس کے شوہر (خاتون کے سسر کے بیٹے) کا نکاح ٹوٹ چکا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیل درست ہے تو مذکورہ لڑکی اور اس کے شوہر کے درمیان حرمتِ مصاہرت ثابت ہوچکی ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوچکے ہیں، شوہر پر لازم ہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر خود سے جدا کرلے، طلاق کے بعد لڑکی عدت گزارے گی، اس کے بعد وہ کسی اور جگہ نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 274):
وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا كذا في فتح القدير…….. وكما تثبت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمس والتقبيل والنظر إلى الفرج بشهوة كذا في الذخيرة، سواء كان بنكاح أو ملك أو فجور عندنا، كذا في الملتقط….….والمباشرة عن شهوة بمنزلة القبلة وكذا المعانقة، هكذا في فتاوى قاضي خان. وكذا لو عضها بشهوة، هكذا في الخلاصة.
الدر المختار (3/ 37):
وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح، حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة.
رد المحتار (3/ 37):
قوله ( وبحرمة المصاهرة الخ ) قال في الذخيرة ذكر محمد في نكاح الأصل أن النكاح لا يرتفع بحرمة المصاهرة والرضاع بل يفسد حتى لو وطئها الزوج قبل التفريق لا يجب عليه الحد اشتبه عليه أو لم يشتبه عليه اه. قوله ( إلا بعد المتاركة ) أي وإن مضى عليها سنون كما في ( البزازية ). وعبارة الحاوي: إلا بعد تفريق القاضي أو بعد المتاركة اه. وقد علمت أن النكاح لا يرتفع بل يفسد، وقد صرحوا في النكاح الفاسد بأن المتاركة لا تتحقق إلا بالقول إن كانت مدخولا بها، كتركتك أو خليت سبيلك، وأما غير المدخول بها فقيل تكون بالقول وبالترك على قصد عدم العود إليها، وقيل لا تكون إلا بالقول فيهما، حتى لو تركها ومضى على عدتها سنون لم يكن لها أن تتزوج بآخر، فافهم.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
14/ذو القعدۃ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


