03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لیڈیز فٹ ویئر (Footwear )کی تشہیر کے مختلف صورتوں کا حکم
83910جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ہمارا لیڈیز فٹ ویئر سے متعلق ایک آن لائن برینڈ ہے۔ اس کے متعلق درج ذیل معاملات میں رہنمائی درکار ہے:

1-        کیا ہم عورت کی شکل اپنے ویڈیو ایڈز میں  استعمال کر سکتے ہیں ؟ مطلب  یہ ہے کہ ہم جب ایڈ چلاتے ہیں تو اپنی پروڈکٹ  کے فیچرز کے بارے میں لوگوں کو بتانے کے لیے  سامنے ایک عورت کو بٹھا کے اس کی ویڈیو شوٹ کر سکتے ہیں ،جو ہماری پروڈکٹ کے بارے میں لوگوں کو آگاہی دے رہی ہو، جیسے کہ انفلوئنسر مارکیٹنگ وغیرہ؟ کیونکہ ہمارے کام میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر ایسا نہ کریں گے تو مارکیٹ میں پروڈکٹ بیچنا بہت مشکل ہے۔

2-       کیا ہم اپنے فٹ ویئر کا اس طرح شوٹ کروا سکتے ہیں کہ عورت کا چہرہ نظر نہ آرہا ہو ،صرف اس کے پاؤں  ٹخنوں تک نظر آرہے ہوں اور ہماری چپل پہنی ہوئی ہو اور اس کا شوٹ کرسکتے ہیں کیونکہ تقریبا تمام برانڈز ہی اس طرح کر رہے ہیں؟

3-      تیسرا سوال یہ ہے کہ جیسے آپ کو معلوم ہے کہ آج کل ارٹیفیشل انٹیلیجنس کا دور ہے ،تو کیا ہم ارٹیفیشل انٹیلیجنس کو یوز کرتے ہوئے اس کو یہ کمانڈ دیں کہ عورت بناؤ ،جو ہمارے چپل پہنی ہوئی ہو اور وہ  امیجینیشن میں ایک پکچر بنا دیتا ہے، تو کیا اس طرح عورت کی  تصویر بنا کر   ہم استعمال کر سکتے ہیں ؟ کیونکہ ارٹیفیشل انٹیلیجنس جو تصویر بناتا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

4-      کیا ہم اگر عورت کو استعمال نہیں کر سکتے تو عورت کی جگہ کسی مرد کے پیر  بیوٹی پارلر سے  صاف  کروا کے اس کا شوٹ کروا سکتے ہیں  جو پنڈلیوں تک ہمارے چپل پہن کر  ایسا لگے جیسے عورت پہنی ہوئی ہو؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  عام حالات میں   عورت پر چہر ہ کا پردہ لازم ہے، لہذا ویڈیو ایڈورٹائزنگ میں عور ت کا چہر ہ نظر آنامنع ہے ، مزید یہ کہ عورت کا پروڈکٹ کی فیچرز بتانےکےلیے زبانی  کمنٹری بھی ممنوع ہے۔ پھر جس طرح عورت کی حقیقی تصویر  کے ذریعے پروڈکٹ کی  تشہیر منع ہےاس طرح آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے عورت کی تصویر بنا کر اس کےذریعے پروڈکٹ کی تشہیر بھی منع ہے، مزید یہ کہ مرد  کے پاؤں پر بیوٹی پارلر لگا کر  اس کو  عورت کی طرح پیش کرنا عورت کےساتھ مشابہت کی وجہ سے منع ہے۔

  اگر  پاؤ ں پر اضافی  زیب و زینت  اختیار   نہ کی گئی  ہوتو عورت کا   چپل پہن کر ٹخنوں تک اس کے پاؤں دکھانا جائز ہے  ورنہ جائز  نہیں۔ ناجائز ہونےکی  صور ت میں چپل کی تصویر لگا کر ساتھ میں  لیڈیز کسٹمر ز کےتحریری کمنٹس  لگا دیئے جائیں۔ اس کے علاوہ  مارکیٹنگ کے ماہرین سے   متبادل اسٹریٹیجز پوچھ کرمفتیان کرام سے ان کا حکم معلوم کرنے کے بعد ان  کو اپنائیں ،مثلا مخصوص دنوں یا پروڈکٹ کی مخصوص تعداد خریدنے پر کسٹمرز کو   ڈسکاونٹ دینا، ریوارڈ سسٹم اپنانا، ای میل مارکیٹنگ ،  ایس ای او ( SEO   )  کو بہتر کرنا،  ویب سائٹ  اور اشتہاری پوسٹوں کو  شریعت کےحدود کےاندر رہ کر جاذب سے جاذب تر  بنانا ، برانڈ امیج ہی یوں بناناجس میں کسٹمرز کو عورتوں کی تصویر کی توقع ہی نہ ہو،وغیرہ۔ واضح رہے کہ شریعت کی خلاف ورزی کرکے  کمائی ہوئی رقم میں  برکت نہیں ہوتی ، اس طرح عورتوں کی تصاویر وغیرہ لگا کر  ایڈورٹائزنگ  کرنے پر  بے حیائی  پھیلانے  کا  گناہ بھی   ہوگا ،اس لیے اس سے احتراز لازم ہے۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (5/ 334)

وأما النظر إلى الأجنبيات: فنقول: يجوز النظر إلى مواضع الزينة الظاهرة منهن، وذلك الوجه والكف في ظاهر الرواية... وروى الحسن عن أبي حنيفة رضي الله عنهما: أنه يجوز النظر إلى قدمها أيضاً؛ لأنها تحتاج إلى إبداء قدمها إذا مشت حافية أو متنعلة، فإنها لا تجد الخف في كل وقت، وفي رواية أخرى عنه قال: لا يجوز النظر إلى قدمها... وذلك كله إذا لم يكن النظر عن شهوة، فإن كان يعلم أنه لو نظر  اشتهى، أو كان أكثر رأيه ذلك، فليجتنب... وإن كان عليها ثياب، فلا بأس بأن يتأمل جسدها؛ لأن نظره إلى ثيابها لا إلى جسدها، فهو كما لو كانت في بيت فنظر إلى جدارها، وهذا إذا لم تكن ثيابها ملتزقة بها بحيث تصف ما تحتهاولم يكن رقيقاً بحيث يصف ما تحته، وإن كانت بخلاف ذلك فينبغي له أن يغض بصره؛ لأن هذا الثوب من حيث إنه لا يسترها بمنزلة شبكة عليها

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 406)

 ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم

نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

14/ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب