03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چوری اور غیبت کاکفارہ
83862جائز و ناجائزامور کا بیانغیبت،جھوٹ اور خیانت کابیان

سوال

جس نے بچپن سے آج تک کافی ساری چوریاں کی ہو ں ،جن لوگوں سے چوریاں کی ہیں  ان میں سے کچھ جان پہچان والے ہیں، مگر کچھ ایسے لوگ ہیں جن سے ملنا ممکن نہیں ہے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟  پیسے یاوہی چیزیں کیسے واپس کی جائیں گی؟ اگر واپس  کرنے کے لئے  پیسے یا چیزیں نہ ہوں ،تو اللہ تعالیٰ کے سامنے اسکی معافی کیسے ہو گی؟کیا قیامت کے دن ا س  کے گناہوں کی بخشش ہوگی؟ابھی   اللہ تعالیٰ سے پکی توبہ کی ہے،اورگناہوں کو چھوڑ کر  نیکی کی راہ پر چل رہا ہوں۔

 اگر  کسی کی غیبت کی ہو، غیبت کی معافی کیسے مانگی جائیگی  اور بخشش کیسے ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی کامال چوری کرنے سے مال مالک کی ملکیت سے نہیں نکلتی،لہذااگر آپ  نےکسی  معلوم شخص سے چوری کی ہے تو مالک یا اس کے ورثاکو وہی چیز واپس کرنالازم ہےجب کہ وہ چیز صحیح حالت میں موجود ہو،ورنہ چوری کے دن کی قیمت لوٹانا ضروری ہے،اگر مالک معلوم نہ ہو تو وہی چیز یا اس کی بازاری قیمت مالک کی طرف سے صدقہ کرنا واجب ہے،اوراگرپوری رقم  یکمشت لوٹانا ممکن نہ ہو تو تھوڑا تھوڑا کرکے  لوٹاتے  ر ہیں،لیکن  اگر وہی چیز یا قیمت لوٹانےپر قادر نہیں ہےتو  یاد رہے کہ کسی کامال چوری کرنا حقوق العباد میں سےہے اور حقوق العباد صرف توبہ سے معاف نہیں ہوتے،جب تک وہ حق ادا نہ کیاجائے،مزید یہ کہ  چوری کرنے پر  اللہ تعالی کے حکم کی نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالی کے سامنے گڑگڑائے اور رجوع الی اللہ کرکے کثرت سے توبہ واستغفار کرے۔

اللہ تعالی نے قرآن مجید میں غیبت کرنے کو اپنے بھائی کاگوشت کھانے کے مترادف قرار دیاہےاور احادیث میں بھی غیبت کے بارے بہت سارے وعیدیں اور ان کی شناعت بیان کی گئی ہے،لہذاغیبت گناہ کبیرہ ہےاور ہرحال میں اس گناہ سے اجتناب واجب ہے،اگر آپ نے کسی کی غیبت کی ہو اور اس کے علم میں بھی ہو تواللہ تعالی سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ اسی شخص سے معافی مانگنا ضروری ہے، کیونکہ اس کاتعلق حقوق العباد سے ہے،البتہ یہ ضروری نہیں کہ پوری تفصیل بیان کی جائے، بلکہ عمومی انداز میں اس طرح کہاجائے کہ اگر کہیں آپ کی حق تلفی وغیرہ ہوئی ہو تو معاف کیجئے گا،الغرض جس طریقہ سے ہو ان سے دنیا میں ہی معافی مانگی جائے ،اگراس کے علم میں نہ ہو یا  اس کاانتقال ہواہو یا ان سے ملنامشکل ہےیا اس کو بتانےسےاس کو ذیادہ پریشانی اور تکلیف ہوتی ہو تو اللہ تعالی سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ ان کے حق میں کثرت سے استغفارکرے،امید ہے کہ اللہ تعالی آخرت میں اس پر گرفت نہیں فرمائیں گے۔ان شاءاللہ تعالی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 110):

( وترد السرقة إلى المسروق منه) لو قائمة (كما لو قامت عليه بينة بذلك) لكن (بشرط حضرة مولاه عند إقامتها) خلافا للثاني لا عند إقراره بحد اتفاقا. ( «ولا غرم على السارق بعدما قطعت يمينه» ) هذا لفظ الحديث درر وغيرها، ورواه الكمال «بعد قطع يمينه» (وترد العين لو قائمة) وإن باعها أو وهبها لبقائها على ملك مالكها (ولا فرق) في عدم الضمان (بين هلاك العين واستهلاكها في الظاهر) من الرواية، لكنه يفتى بأداء قيمتها ديانة، وسواء كان الاستهلاك (قبل القطع أو بعده) مجتبى.

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7/ 3057):

 - وعن أنس - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم: " «إن من كفارة الغيبة أن تستغفر لمن اغتبته، تقول: اللهم اغفر لنا وله» ". رواه البيهقي في " الدعوات الكبير ".

4877 - (وعن أنس - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم: " إن من كفارة الغيبة) أي: بعد تحقق التوبة (أن تستغفر) أي: أنت أيها المخاطب خطابا عاما (لمن اغتبته، تقول) : بدل أو بيان أو حال (اللهم اغفر لنا) أي: إذا كانوا جماعة، أو لنا معشر المسلمين عموما (وله) أي: لمن اغتبته خصوصا، والظاهر أن هذا إذا لم تصل الغيبة إليه، وأما إذا وصلت إليه فلا بد من الاستحلال بأن يخبر صاحبها بما قال فيه ويتحللها منه، فإن تعذر ذلك فليعزم على أنه متى وجده تحلل منه، فإذا حلله سقط عنه ما وجب عليه له من الحق، فإن عجز عن ذلك كله بأن كان صاحب الغيبة ميتا أو غائبا، فليستغفر الله تعالى، والمرجو من فضله وكرمه أن يرضي خصمه من إحسانه، فإنه جواد كريم رؤوف رحيم.

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

14/ ذیقعدہ/1445

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب