| 83904 | روزے کا بیان | روزے کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میری عمر 85 سال ہے،میرے ذمے 75 روزوں کی قضالازم ہے،کیا میں ان روزوں کا فدیہ دے سکتا ہوں؟ اگر فدیہ دے سکتا ہوں تو 75 روزوں کا کل کتنا فدیہ بنے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر انسان بوڑھا ہوجائے اور کسی ایسے مرض میں مبتلا ہو کہ روزہ رکھنے کی بالکل طاقت نہ ہو اور نہ ہی اس مرض سے صحتیابی کی کوئی امید ہوتوایسے شخص کے لیے روزے رکھنے کے بجائے یا روزوں کی قضاکے بجائے فدیہ اداکرنا لازم
ہے،لہٰذا اگر آپ پیرانہ سالی کی وجہ سے اتنے کمزور ہوچکے ہیں کہ روزہ رکھنے کی بالکل بھی طاقت نہیں ہے تو آپ کے لیے روزوں کے فدیے کی ادائیگی لازم ہے اور اگر فدیہ ادا نہ کرسکیں تو بوقتِ انتقال ذمے میں باقی رہ جانے والے روزوں کے فدیے کی ادائیگی کی وصیت کرنا لازم ہے،جو ایک تہائی ترکہ میں سے پوری کی جائے گی۔
ایک روزے کا فدیہ ایک صدقۃ الفطر(سوا دو کلو گندم احتیاطاً یا ساڑھے تین کلو کھجوریاکشمش یاجو) کی مقدار کے برابر ہے ،جوکہ گندم کے حساب سے آج کل تقریبا ً327 روپے بنتا ہے،اس حساب سے 75 روزوں کا فدیہ 24525 روپے بنتا ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 427)
(وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي) وجوبا.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 427)
(قوله وللشيخ الفاني) أي الذي فنيت قوته أو أشرف على الفناء، ولذا عرفوه بأنه الذي كل يوم في نقص إلى أن يموت نهر، ومثله ما في القهستاني عن الكرماني: المريض إذا تحقق اليأس من الصحة فعليه الفدية لكل يوم من المرض اهـ وكذا ما في البحر لو نذر صوم الأبد فضعف عن الصوم لاشتغاله بالمعيشة له أن يطعم ويفطر لأنه استيقن أنه لا يقدر على القضاء (قوله العاجز عن الصوم) أي عجزا مستمرا كما يأتي، أما لو لم يقدر عليه لشدة الحر كان له أن يفطر ويقضيه في الشتاء فتح (قوله ويفدي وجوبا) لأن عذره ليس بعرضي للزوال حتى يصير إلى القضاء فوجبت الفدية نهر، ثم عبارة الكنز وهو يفدي إشارة إلى أنه ليس على غيره الفداء لأن نحو المرض والسفر في عرضة الزوال فيجب القضاء وعند العجز بالموت تجب الوصية بالفدية.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۱۴.ذو القعدہ۱۴۴۵ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


