03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حکومت کے خلاف مسلح جد و جہد کا حکم
83771حکومت امارت اور سیاستدارالاسلام اور دار الحرب اور ذمی کے احکام و مسائل

سوال

ہمارے شہر میں حکومتی مظالم کیخلاف تحریک چل رہی ہے۔ہماری معلومات کی حد تک حکومتی اراکین کو اسلام کا کچھ خاص علم بھی نہیں ہے اور لوگوں کے بنیادی حقوق بھی غصب کئے ہوئے ہیں اور کافی زیادہ کرپٹ اور بددیانت بھی ہیں۔ پچھلے دنوں اپنی ہی آرمی کے ساتھ جھڑپوں میں چند لوگ شہید بھی ہوئے ہیں۔ میں آپ سے چند معلومات حاصل کرنا چاہتا ہوں برائے مہربانی مدد کیجئے ۔

1- کیا اپنے حقوق کے لئے لڑتے ہوئے مارا جانا شہادت ہے جب یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ ہم جن لوگوں کے ساتھ مل کر لڑنا چاہتے ہیں ان کے بارے میں بھی یہ بات واضح نہیں کہ وہ حقیقتاً وہی جنگ لڑ رہے ہیں جو وہ بول رہے ہیں کہ "یہ حقوق کی جنگ ہے"۔

2- کچھ شہیدوں کو دیکھ کے میرے اندر بھی شہادت کا شوق پیدا ہوا ہے مگر ساتھ میں لوگوں نے ان شہدا ء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ویڈیوز بھی بناتے ہیں تو چاروناچار مجھے بھی یہ خیال آتا ہے کہ میں شہید ہوں گا تو لوگ ویڈیوز بنائیں گے لوگ کہیں گے کہ وہ شہید ہو گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ سب خیالات ریاکاری میں شامل ہیں اگر ہیں تو ان سے بچنے کے لئیے کیا کرنا چاہیے۔کوئی دعا وغیرہ ہو تو بتا دیں ۔

3- بعد ازاں لوگوں نے شہداء کے لئے بھاری رقم کا بھی انتظام کیا ہے تو چار و ناچار کبھی ایسا خیال بھی آ سکتا ہے۔ تو ایسی صورتحال میں کیا کرنا چاہیے ؟برائے مہربانی جواب دیجئے گا ۔


 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسلمان حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد احادیث کی رو سے جائز نہیں، لہذا آپ اس طرح کی تحریکوں میں شرکت سے اجتناب کریں۔حکومت کے ظلم اور نا انصافی روکنے کے لئے خونریزی کے علاوہ بھی بہت سے طریقے ہیں وہ اختیار کر سکتے ہیں۔

کسی نیک کام کو کرتے وقت بے اختیار ریاکاری کا خیال آجائے تو اس پر گناہ نہیں ہوتا، البتہ اس کو اپنے اختیار سے لانے اور اس بارے میں سوچتے رہنے سے ریاکاری کا گناہ ہوگا۔ریاکاری سے بچنے کیلئے احادیث میں منقول دعاؤں کا اہتمام کیا جائے۔ چند ایک دعائیں درج کی جاتی ہیں:

 «اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنَ النِّفَاقِ وَعَمَلِي مِنَ الرِّيَاءِ وَلِسَانِي مِنَ الْكَذِبِ وَعَيْنِي مِنَ الْخِيَانَةِ، فَإِنَّكَ تَعْلَمُ خَائِنَةَ الأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ»

اللهم إني أعوذ بك أن أُشرك بك شيئًا وأنا أعلم وأستغفرك لما لا أعلم۔

حوالہ جات

صحيح مسلم (6/ 23):

عن ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال انه يستعمل عليكم امراء فتعرفون وتنكرون فمن كره فقد برئ ومن انكر فقد سلم ولكن من رضى وتابع قالوا  يا رسول الله الا نقاتلهم قال لا ما صلوا (أي من كره بقلبه وانكر بقلبه)۔

سنن أبي داود للسجستاني (4/ 386):

حدثنا مسدد وسليمان بن داود - المعنى - قالا حدثنا حماد بن زيد عن المعلى بن زياد وهشام بن حسان عن الحسن عن ضبة بن محصن عن أم سلمة زوج النبى -صلى الله عليه وسلم- قالت قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- : « ستكون عليكم أئمة تعرفون منهم وتنكرون فمن أنكر ». قال أبو داود قال هشام : « بلسانه فقد برئ ومن كره بقلبه فقد سلم ولكن من رضى وتابع ». فقيل : يا رسول الله أفلا نقتلهم قال ابن داود : « أفلا نقاتلهم ». قال : « لا ما صلوا ».

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح(2397/6):

وعن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنكم سترون بعدي أثرة وأمورا تنكرونها قالوا: فما تأمرنا يا رسول الله، قال: أدوا إليهم حقهم وسلوا الله حقكم» ". متفق عليه.

اسامہ مدنی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

14/ ذیقعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسامہ بن محمد مدنی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب