| 83875 | سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان) | متفرّق مسائل |
سوال
بعض مقامات پریہ مشہورہےکہ جب وہ نئی گاڑی لیتےہیں توایک جانورذبح کرتےہیں گاڑی کواس کےخون کے اوپرسےگزارتےہیں اوریہ خیال کرتےہیں کہ اس طرح کرنےسےگاڑی حادثات وغیرہ سےمحفوظ ہوجاتی ہے، پھر جانورکوصدقہ کردیتےہیں،یہ خیال شرعاکس حدتک درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
گاڑی کو جانور کے خون کے اوپر سے گزارنا اور اس کو حادثات سے بچنے کا ذریعہ سمجھنا بے بنیاد اور جاہلانہ رسم ہے، اس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں، البتہ اگر جانور ذبح کر کے اللہ کے راستے میں صدقہ کی نیت سے فقراء اور مساکین کو کھلا دیا جائے تو اس پر حوادث سے بچنے کا عقیدہ رکھنا درست ہے، کیونکہ حدیث پاک میں وارد ہے کہ صدقہ بلاؤں اور آفات کو دور کرتا ہے۔
حوالہ جات
سنن الترمذي ت شاكر (3/ 43) مطبعة مصطفى الحلبي – مصر:
عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الصدقة لتطفئ غضب الرب وتدفع ميتة السوء»: «هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه»
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
15/ذوالقعدة 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


