03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا اقامت کے دوران ہاتھ باندھنا تعظیم ہے؟
83877سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان)متفرّق مسائل

سوال

نمازکی اقامت کےوقت بعض لوگ ہاتھ باندھ لیتےہیں اوراس کوتعظیم سمجھتےہیں،ایساکرنادرست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اقامت کے دوران ہاتھ باندھنا اور اس کو تعظیم سمجھنا درست نہیں ہے، کیونکہ تکبیرتحریمہ سے قبل ہاتھ باندھنا کسی حدیث سے  ثابت نہیں، اسی لیے فتاوی رحیمیہ(93/4)میں ہے:"نماز شروع ہونے سے قبل قیام کی حالت میں ہاتھ باندھنا نہ مسنون ہے نہ مستحب" لہذا اقامت کے دوران اصل حکم یہ ہے کہ امت میں رائج طریقہ کے مطابق ہاتھوں کو کھلا چھوڑا جائے، تاکہ نماز سے پہلے نماز کی کیفیت کے ساتھ مشابہت لازم نہ آئے۔

حوالہ جات

تحفة الفقهاء (1/ 126) دار الكتب العلمية، بيروت:

فإذا فرغ المصلي من التكبير يضع يمينه على شماله تحت السرة.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

15/ذوالقعدة 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب