| 83880 | سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان) | متفرّق مسائل |
سوال
جب لوگ جوتا اتارتےہیں اوراتارتےوقت جوتادوسرےجوتےپرچڑھ جائےتولوگوں میں مشہورہےکہ مستقبل میں سفرپیش آنےوالاہے،اوراگرجوتااتارتےوقت الٹاہوجائےتواسےنحوست سمجھتےہیں اوراس سےبرا شگون لیتےہیں کہ آج کادن اچھاثابت نہیں ہوگاشرعااس کی کیاحقیقت ہے؟،اسی طرح اگرجوتاالٹاہوجائےتو اسے لوگ بڑےاہتمام سےسیدھاکرتےہیں جوسیدھانہ کرےاسےملامت کرتےہیں،کیاچپل سیدھاکرناشرعاضروری ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جوتے پر جوتے کے آجانے کو سفر کے درپیش ہونے کی علامت قرار دینا اور جوتا الٹا ہونے کو نحوست سمجھنا بالکل غلط ہے، اس کا شریعت سے کہیں ثبوت نہیں ملتا۔البتہ جوتے کو سلیقہ سے اور سیدھا رکھنا آداب میں سے ہے، کیونکہ کسی بھی چیز کو وضعِ اصلی کے مطابق رکھنا دائرۂ ادب اورتہذیب میں داخل ہے، مزید یہ کہ چپل کی نچلی جانب پر مٹی لگنے کی وجہ سے عموماً میلی یا بسا اوقات گندگی بھی لگی ہوتی ہے، جس سے طبیعت میں کراہت ہوتی ہے، اس لیے اس کو سیدھا کرنے کا اہتمام کرنا درست ہے، بشرطیکہ اس کے سنت یا مستحب ہونے کا عقیدہ نہ رکھا جائے اور سیدھا نہ کرنے والے کو ملامت اور طعن کا نشانہ بھی نہ جائے۔
حوالہ جات
۔۔۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
15/ذوالقعدة 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


