| 83912 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میاں بیوی کا کسی بات پر جھگڑا ہوا ، تو شوہر نے کہا کہ" اگر میں فلاں کمرہ میں گیا تو میری بیوی کو تین پتھر سے طلاق"(یہ پشتو میں کہا ) پشتو کے الفاظ یہ ہیں"تا تہ پہ درے کانڑوں طلاق "۔اب اس نے ایک مولوی صاحب سے پوچھا اور مسئلہ کی صحیح وضاحت نہیں کی، جس کی وجہ سے مولوی صاحب نے ایک طلاق رجعی سمجھا اور اس شخص سے کہا کہ مسئلہ کی وضاحت کے لیے تم میرے ساتھ عورت کے پاس چلو، جب اس کمرے میں گئے اور بیوی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس نے تین پتھر طلاق کے الفاظ بولے ہیں تو مولوی صاحب نے فوراً اس شخص کو کمرےسے باہر نکالا، سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں اس شخص کے کمرے میں داخل ہونے سے کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ جبکہ اس کو مولوی صاحب نے ہاتھ سے پکڑ کر کمرہ میں داخل کیا ہو تو کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب کوئی شخص طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے تو اس شرط کے پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے، البتہ اگر وقوعِ طلاق کو کسی فعل کے پائے جانے کے ساتھ معلق کیا جائے تو جبرو اکراہ کی حالت میں وہ فعل پائے جانے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، [1]لیکن مذکورہ صورت میں زور وبردستی کی حالت معلوم نہیں ہوتی، بلکہ مولوی صاحب کے کہنے پر یہ شخص اپنے اختیار سے اس کمرے میں داخل ہوا ہے، لہذا شخصِ مذکور کے اس کمرے میں جانے سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب اسی حالت میں اس عورت سے رجوع یا دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا، البتہ اگر عورت عدت گزارنے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ شخص اس کے ساتھ ازدواجی تعلقات (ہمبستری)بھی قائم کرے، پھر وہ وفات پا جائے یا اس کو طلاق دیدے تو اس کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، ورنہ نہیں۔
[1] فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اصول یہ لکھا ہے کہ اگر حنث کی شرط عدمی ہو یعنی حانث ہوناعدم فعل پر معلق ہو جیسے" إن لم أخرج من البیت فأنت طالق" اس میں عدم خروج پر حنث کو معلق کیا گیا ہے، اس میں اکرہ موثر نہ ہو گا، لہذا آدمی بہر صورت حانث ہو گا اور بیوی کو طلاق ہو جائے گی۔ اور اگرحنث کی شرط وجود ی ہو یعنی حانث ہونا کسی فعل پر موقوف ہو جیسے" واللہ لا أسکن في هذا البیت" تو یہاں حنث کو سکنی یعنی فعل کے ساتھ معلق کیا گیا ہے۔ایسی صورت میں اکراہ موثر ہو گا اور آدمی حالتِ اکراہ میں حانث نہ ہو گا اور طلاق نہ ہو گی، بشرط کہ اکراہ حسی ہو ۔ کذا فی البحر والرد المحتار۔ مذکورہ سوال میں بھی حنث یعنی وقوعِ طلاق کو فعل یعنی کمرے میں داخل ہونے کے ساتھ معلق کیا گیا ہے، اس لیے یہاں بھی اگر اکراہ ہوتا تو وہ مؤثر ہوتا۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5264) دار طوق النجاة:
وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 22) دار الكتاب الإسلامي:
(قوله فالجواب أن قوله في القنية إلخ) قال في النهر نقل في عقد الفوائد عن التجنيس ما حاصله لا أسكن في هذا البيت فأغلق الباب أو قيد المختار أنه لا يحنث فيهما، ولو قال إن لم أخرج من هذا المنزل فكذا فقيد، ومنع أو قال لها في منزل أبيها إن لم تحضري الليلة إلى منزلي فأنت كذا فمنعها أبوها حنث فيهما هو المختار للفتوى، والفرق أن شرط الحنث في الأول الفعل، وهو السكنى والإكراه يؤثر فيه، وفي الثاني عدم الفعل والإكراه لا يؤثر قال في العقد قلت: وهذا معنى ما نقله بعض علمائنا الأصل في هذا الباب أن شرط الحنث إن كان عدميا، وعجز عن مباشرته فالمختار الحنث، وإن كان وجوديا، وعجز فالمختار عدم الحنث. اهـ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 382) دار الفكر-بيروت:
قوله لا يحنث في المختار) لأنه مسكن لا ساكن، وشرط الحنث هو السكنى، وإنما تكون السكنى بفعله إذا كان باختياره، بخلاف إن لم أخرج ونحوه لأن شرط الحنث عدم الفعل والعدم يتحقق بدون الاختيار أفاده في الذخيرة وأفاده أيضا أن الخلاف فيما إذا أغلق الباب لا فيما إذا منع بقيد، ومثله في البحر وصرح به في البزازية. وحاصله أنه لو كان المنع حسيا لا يحنث بلا خلاف ولو كان بغيره لا يحنث أيضا في المختار، وقيل لا يحنث.
مطلب الأصل أن شرط الحنث إن كان عدميا وعجز يحنث.
(قوله والأصل إلخ) عبارة ابن الشحنة والأصل أن شرط الحنث إن كان عدميا وعجز عن مباشرته فالمختار الحنث، وإن كان وجوديا وعجز فالمختار عدم الحنث. اهـ.
في أيمان البزازية من الخامس عشر إن لم تحضريني الليلة فكذا فقيدت ومنعت منعا حسيا، ذكر الفضلي أنه يحنث. والأصح أنه لا يحنث فقد صحح عدم الحنث في المنع الحسي، لكن ذكر في الذخيرة أن المختار الحنث ولم يقيد بكونها منعت منعا حسيا فالظاهر أنه ترجيح لقول الفضلي، وهو الموافق للأصل المار لأن الشرط هنا عدمي ويكون التفصيل بين المنع الحسي وغيره خاصا فيما إذا كان الشرط وجوديا، ويكون ما في القنية والبزازية مبنيا على إجرائه في العدمي أيضا والله أعلم.
النهر الفائق شرح كنز الدقائق (2/ 392) دار الكتب العلمية:
قال في (العقد): وهذا معنى ما نقله بعض علماؤنا الأصل في هذا الباب أن شرط الحنث إن كان عدما وعجز عن مباشرته فالمختار الحنث وإن كان وجوديا وعجز فالمختار عدم الحنث انتهى واعتبارها الأصل يفيد الحنث في مسألتنا إذ شرط الحنث فيها عدمي كما هو ظاهر والله الموفق، وهذا من المواضع المهملة فكن فيه على بصيرة.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
18/ذوالقعدة 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


