| 83890 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
جیسا کہ آج کل ہر کوئی چینل یا پیج مونیٹائز کروا کر ارننگ کرنے کے چکر میں ہے۔ایسا ایک کام ہے ،جس میں کرنا یہ ہے کہ انسٹاگرام سے cats کے پیج کی ویڈیو اٹھا کر اس میں تھوڑی بہت ایڈیٹنگ کر کے فیس بک پر اسی نام سے پیج بنا کر وہاں اپلوڈ کرنا،اس پیج کو پھر مونیٹائز کروانا اور چونکہ پاکستان میں ابھی فیس بک سے ارننگ سٹارٹ نہیں ہوئی تو اس لیے کسی باہر کے ملک کے رہنے والے کو ایڈمن بنا کر اس سے ارننگ کرنا۔ارننگ ہر ویڈیو کے ویوز کے حساب سے ہو گی۔ (چاہے جس ملک کے لوگ دیکھیں اور ویوز ملیں) بہت سے لوگ آج کل اس طریقے سے ارننگ کر رہے ہیں۔کیا یہ ارننگ جائز ہے ؟ اگر نہیں تو کس وجہ سے؟
اور اگر یہ پیج اپنا نہ ہو ،مثلا کسی اور نے ٹیم بنا کر کام کروانا ہو۔میرا کام اس ٹیم کی نگرانی اور انکو انسٹاگرام سے ویڈیو کا لنک دیناہو،باقی ایڈیٹنگ کر کے فیس بک پر اپلوڈنگ ٹیم نے خود کرنی ہواور میں نے صرف چیک کر لینا ہو کہ وقت پر اپلوڈ کی ہے یا نہیں ، اتنے سے کام کی سیلری مقرر کروا کر لیناجیسے کوئی بھی جاب ہوتو یہ کیسا ہے؟ کیا لے سکتے ہیں؟ کیوں کہ ڈائریکٹ پیج سے ارننگ تو مقرر نہیں ہے ،جتنے ویوز بڑھیں گے اتنی ارننگ زیادہ ہوگی ،دونوں صورتوں کی رہنمائی فرما دیجیے گا۔
تنقیح : سائلہ نے بتایا کہ انسٹا گرام پر پیج کے مالک کی اجازت کے بغیر ہم ویڈیو اٹھا کر ایڈیٹنگ کےبعد اس کو فیس بک پر شیئر کرتے ہیں ۔ اصل مالک عام طورپر اس پر راضی نہیں ہوتا اور پتہ چلنے پر ا س کو اختیار حاصل ہوتا ہے کہ ویڈیو کو اسٹرائیک کرے جس کےبعد وہ پیج ہمارے کسی کام کانہیں رہتا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
انسٹا گرام پر ویڈیو آپلوڈ کرنے سے ویڈیو کے مالک کو کاپی رائٹس حاصل ہوتے ہیں،جس کی وجہ سے ایک متعین مدت تک اس کی اجازت کے بغیر ا س ویڈیو کو نشر کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ لہذا صورت مسولہ میں انسٹا گرام سے آپ کا مالک کی اجازت کے بغیر ویڈیو اٹھا کر ا س کو فیس بک پر نشر کرنا اور پیج مونیٹائز کرنا ناجائز اور باعث گناہ ہے اور کمائی حرام ہوگی ، چاہے پیج آپ کا اپنا ہو یا کسی دوسرے کے بنائے ہوئے پیج کی نگرانی کرکے متعین کمیشن وصول کریں۔
درج ذیل شرائط کے ساتھ یہ کام جائز ہے :
1. اگر کاپی رائٹس کی مدت باقی ہو تو اصل مالک سے ویڈیو نشر کرنے کی اجازت لی گئی ہو۔
2. ویڈیو عورت کی تصاویر اور بیک گراؤنڈ میں لگی ہوئی موسیقی سے پاک ہو۔
3. بلی کو تکلیف دےکر اور اس پر ظلم کرکے اس کی منظر کشی نہ کی گئی ہو، مثلا گلے میں رسی ڈال کر لٹکانا ، یا بلی کودیوار پر چڑھتے ہوئے رسی کھینچ کر گرانا، شیشہ وغیرہ یو ں کھڑ ا کرنا کہ بلی کے ٹکرانے سے وہ اس پر گر جائے وغیرہ۔
4. بلی کو ڈرا کر اس کی منظر کشی نہ کی گئی ہو، مثلا اچانک سامنے آکر ڈرانا ، دم کے پیچھے کوئی چیز باندھ کر ڈرانا وغیرہ۔
5. انسٹاگرام او رفیس بک دونوں کے قوانین کی پابندی کی جائے، چاہے وہ ایڈمن سے متعلق ہو ں یا دیگر امور سے ۔
حوالہ جات
صحيح مسلم (4/ 1760):
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «عذبت امرأة في هرة، لم تطعمها، ولم تسقها، ولم تتركها تأكل من خشاش الأرض»۔
سنن أبي داود (3/ 55)
عن عبد الرحمن بن عبد الله، عن أبيه، قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، فانطلق لحاجته فرأينا حمرة معها فرخان فأخذنا فرخيها، فجاءت الحمرة فجعلت تفرش، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «من فجع هذه بولدها؟ ردوا ولدها إليها»
المستدرك على الصحيحين للحاكم (4/ 257)
عن عبد الله بن عباس، رضي الله عنهما أن رجلا أضجع شاة يريد أن يذبحها وهو يحد شفرته، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «أتريد أن تميتها موتات هلا حددت شفرتك قبل أن تضجعها» هذا حديث صحيح على شرط البخاري ولم يخرجاه "
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 405)
(وللحرة) ولو خنثى (جميع بدنها) حتى شعرها النازل في الأصح (خلا الوجه والكفين) فظهر الكف عورة على المذهب (والقدمين) على المعتمد، وصوتها على الراجح وذراعيها على المرجوح ۔
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
18/ذی قعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


