| 83936 | خرید و فروخت کے احکام | زمین،باغات،کھیتی اور پھلوں کے احکام و مسائل |
سوال
میرے ایک عزیز "ح "نے ہماری برادری میں نادرن بائی پاس کے قریب رہائشی اسکیم بنام سکینہ فاطمہ کے پلاٹس اس طرح سے بیچے کہ صرف فائل دےکر فی پلا ٹ تین لاکھ کم و بیش روپے کےحساب سے برادری کےافراد کو فروخت کئےاور جگہ بتادی کہ نادرن بائی پاس پر فلا ں جگہ یہ پلاٹ ہیں اور جاکر دکھائی ،کچھ افراد نے جاکر جگہ بھی دیکھی کہ ایک ویران غیر آباد علاقہ تھا ،جس سے شک میں پڑ کر کچھ لوگوں نے تو اپنی فائلیں واپس دے کر "ح "سے اپنے پیسے وصول کر لیے ،پھر ایک سال کے اند ر دوبارہ نیا معاملہ کرکے تین لاکھ والے پلاٹ دوبارہ "ح "سے ڈھائی لاکھ میں خرید لیے۔ واضح رہے کہ پلا ٹ میں پوری فائل کے پیپر تھے جن کا بعد میں صحیح ہونا شک میں ہے ۔
اب باقی برادری کےافراد کے سامنے یہ مسئلہ ہے کہ بغیر دیکھے پلاٹ کی فائل خرید لی ، کئی سال بعد جاکر جگہ دیکھی تو بالکل غیر آباد ، نہ اسکیم کی چاردیواری ،نہ پلاٹو ں کی مارکنگ ، نہ دور دراز تک آبادی کا امکان ۔بہرحال اس جگہ کےمشاہدہ کےبعد اسکیم کےدفتر میں جاکر اصل کاغذات طلب کرنے پر بھی تسلی بخش جواب نہ ملا ، پھر سرکاری دفاتر سے معلوم ہوا کہ یہ اسکیم حکومت سے منظور نہیں ہے اور الٹا حکومت کی نا دہندہ ہے ، یہاں یہ بات واضح ہو کہ ہماری برادری کے افراد کے پاس جو فائلیں ہیں ان پر ایکسٹینشن لکھا ہوا ہےجس کا مطلب یہ ہواکہ نادرن بائی پاس کے علاوہ کہیں اور بھی یہ جگہ ہوسکتی ہے جس کو کسی نے بھی نہیں دیکھا ہے کہ یہ جگہ کہاں ہے ، اسکیم والے ایکسٹینشن کی جگہ کبھی بحریہ ٹاون کےبرابر میں بتلاتے ہیں ،کبھی نادرن بائی پاس کےقریب بتلاتے ہیں ۔ بعض افراد نے تو رعب دکھا کر اپنے پیسے اسکیم کے دفتر سے وصول کرلیے ہیں ۔
اس تمہید کےبعد برادری کےبعض نیک لوگو ں کی طرف سے یہ سوال ہےکہ ہم سے تو یہ گناہ ہوا کہ بغیر تحقیق کے صرف فائل خرید کر زمین پر قبضہ نہیں کیا اور بائع پر بھروسہ کر کے دھوکہ کا شکا ر ہوگئے ، بعض نے دھوکہ کے شکار ہونے کے بعد "ح"سے تین لاکھ میں خریدے گئے پلاٹ دوبارہ "ح" کو ڈھائی لاکھ میں فروخت کیے۔ تو صرف فائل کو دوبارہ فروخت کرنے اور اس لی گئی رقم کا کیا حکم ہے کہ حلا ل ہے یا حرام؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ جن کے پاس اب تک فائلیں موجود ہیں اور اکثر کے علم میں یہ بات آچکی ہے کہ یہ دھوکہ ہوسکتا ہے، کیونکہ پانچ سال بعد بھی اسکیم کی جگہ بالکل ایسی ہے جیسے پانچ سال پہلے تھی، تو ایسے افراد بھی رعب دکھا کر اپنے پیسے واپس" ح "سے لینا چاہ رہے ہیں ،کیونکہ شرافت سے تو ملنا مشکل ہے تو ان کےلیے اس طرح اپنے پیسے وصول کرنا جائز ہوگا؟
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسکیم والوں نے ایک بروکر "ف "کو فائلیں صرف پینتالیس ہزار میں فروخت کیں پھر"ح" اور" ف" نے مل کر یا صرف" ح "نے دوستوں اور عزیز اقارب میں تین لاکھ روپے فی فائل فروخت کیے۔ برادری کے افراد کے بقول انہوں نے صرف "ح "کی ظاہری دینداری کو دیکھ کر اعتماد کیا تھا اور خرید وفرخت اور مروجہ ترغیب جو کہ بروکر حضرات دیتے ہیں مثلا اتنے ماہ میں یہ پلاٹ اتنے کا بک جائے گا یا میں بکوا دوں گا وغیرہ کا بھی" ح" نے ہمارے ساتھ معاہدہ کیا تھا ،لہذا "ح" ہی ذمہ دار ہے، اس کو ہی رعب دکھا کر اپنے پیسے وصول کرنے کا ارادہ ہے ، برادری کے افراد چاہتے ہیں کہ متاثرہ افراد کے بڑوں کے پاس یہ معاملہ لےکر جائیں تاکہ وہ اصل قصوروار کو سامنے لا سکیں او ر آسانی سے فیصلہ ہو جائے ۔ متاثرین کی شرعی کوتاہی کے ساتھ قصور وار کو بھی شریعت کی روشنی میں ظاہر کیا جائے کہ متاثرین کس سے اپنا حق وصول کرسکتے ہیں؟
آخر میں وضاحت یہ ہےکہ برادری کے افراد جب اسکیم والوں کے دفتر جاتے ہیں تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم یہ فائلیں "ف" بروکر کو فروخت کرچکے ہیں اور رسیدیں فائلوں میں ہیں اور جب "ف" بروکر کے پاس جاتے ہیں تو وہ کہتا ہےکہ میرا ان پلاٹوں یا فائلوں سے کوئی واسطہ نہیں ، جس سے یہ فائلیں تم لوگو ں نے خریدی ہیں یعنی "ح "سے، اس سے رابطہ کر و ۔بروکر" ف" سے فائل میں موجو د پینتالیس ہزار کی پلاٹ کی خریداری کی رسید کے بارے میں معلوم کیا جاتا ہے تووہ بالکل تسلی بخش جواب نہیں دیتا ہے سوائے اس کے کہ تم لوگو ں نے جس سے پلاٹ لیا ہے، اسی سے رابطہ کر و ،مجھے معلوم نہیں ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پلاٹ کی بیع کےصحیح ہونے کےلیے یہ شرط ہے کہ پلاٹ کاسائز اور جگہ متعین ہو۔ صورت مسؤلہ میں پلاٹس کی جگہ شروع ہی سے معلوم نہیں، اس لیےاسکیم والوں کا " ف" بروکر اور" ح " کا رشتہ داروں کو پلاٹس کی فائلز بیچنا ناجائز ہے،جس کو فسخ کرنا فریقین پر لازم ہے، فسخ کرنےکےلیے فریقین کی رضامندی شرط نہیں، بلکہ ہر فریق دوسرے فریق کو اطلاع د ے کر یک طرفہ طورپر فسخ کرسکتا ہے۔ فسخ کرنے کے بعد ہر خریدار کو اس کی ادا کردہ قیمت لوٹا نا لازمی ہے، قیمت کے واپس نہ کرنے پر کورٹ میں اس کے خلاف دعوی دائر کیا جاسکتا ہے ۔جن رشتہ داروں نے پیسے وصول کرلیے ہیں ان کا پیسے لینا جائز ہے۔دوسرے لوگ بھی اپنے پیسے وصول کر سکتے ہیں۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية (ص: 43)
(المادة 214) : بيع حصة شائعة معلومة كالثلث والنصف والعشر من عقار مملوك قبل الإفراز صحيح.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 41)
(المادة 200) : يلزم أن يكون المبيع معلوما عند المشتري
(المادة 201) يصير المبيع معلوما ببيان أحواله وصفاته التي تميزه عن غيره مثلا لو باعه كذا مدا من الحنطة الحمراء أو باعه أرضا مع بيان حدودها صار المبيع معلوما وصح البيع.
فقہ البیوع(377/1)
فان بیع قطعۃ غیر معینۃ من جملۃ القطعات لایجوز عند الامام ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی،ویجوز عند صاحبیہ.والظاہر انہ ان کانت جھالۃ التعیین تفضی الی المنازعۃ،فالاخذ بقول الامام ابی حنیفۃ اولی،وان لم تکن مفضیۃ الی المنازعۃ،فقول الصاحبین اولی بالاخذ.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 73)
(المادة 372) لكل من المتعاقدين فسخ البيع الفاسد إلا أنه إذا هلك المبيع في يد المشتري , أو استهلكه , أو أخرجه من يده ببيع صحيح , أو بهبة من آخر أو زاد فيه المشتري شيئا من ماله كما لو كان المبيع دارا فعمرها , أو أرضا فغرس فيها أشجارا , أو تغير اسم المبيع بأن كان حنطة فطحنها وجعلها دقيقا ; بطل حق الفسخ في هذه الصور.
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
18/ذی قعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


