03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بھائی کو وقف کی تو لیت سے برطرف کرنے کا حکم
83931وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

ایک بھائی نے ہم دو بھائیوں  کو مدرسہ ومسجد  کےلیے اٹھار ہ سو  گز زمین بطور وقف  کے حوالہ کر دیا ۔ کچھ زمانہ تک  دونوں  بھائیوں  نے مشورہ کےساتھ   مسجد ومدرسے   میں کام کیا ۔ پھر بڑے بھائی  کےتوسط سے  مخیر حضرات نے مدرسہ  و مسجد  کی تعمیر کردی ۔ تو بڑی بھائی  نے میرے ساتھ  مشورہ کرنا بھی چھوڑ دیا  ۔ اب مجھے پتہ چلا ہے  کہ بڑے بھائی  نے وہ مدرسہ  ومسجد اپنے  بیٹوں کے نام  کردیا ہےاور مجھے صاف لفظوں میں  کہہ دیا ہے کہ تیرا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔شریعت کی رو سے  فرمائیں  کہ اس مدرسہ و مسجد  میں مجھے  بھی تصرف  کا حق  حاصل ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 حلفیہ  اقرار نامہ کے مطابق  واقفین نے دونوں بھائیوں کو مل کر تولیت کی ذمہ داری سونپی ہے، لہذا  بڑے بھائی کا   دوسرے  بھائی  کو  بلا عذر شرعی  یک طرفہ طور پر  برطرف کرنااور عدالت سے اجازت لیے  بغیر بحالت صحت     اپنی اولاد کو  تولیت دینا  جائز نہیں، خاص کر اگر ان میں کوئی نابالغ ہو۔   اس لیےمسجد و مدرسہ میں  دونوں بھائیوں  کو تصرف کرنے  کا حق برقرار رہے  گا ۔

تاہم واضح رہے کہ اگر  مسجد و مدرسہ  میں تصرف کے حق کو استعمال کرنے کی وجہ سے فتنہ برپا ہونے اور لڑائی جھگڑے کا خدشہ ہو تو  آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ  واقفین کو اطلاع دے کر  تولیت کی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجائیں،  قوی امید ہےکہ آ پ کو اس کا ثواب برابر ملتا رہے گا اور جب ثواب ملےگا تو لڑائی جھگڑے کی ضرورت ہی نہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 425):

(أراد المتولي إقامة غيره مقامه في حياته) وصحته (إن كان التفويض له) بالشرط (عاما صح) ولا يملك عزله إلا إذا كان الواقف جعل له التفويض والعزل (وإلا) فإن فوض في صحته (لا) يصح وإن في مرض موته صح وينبغي أن يكون له العزل والتفويض إلى غيره كالإيصاء أشباه.... وبه ظهر أن قولهم هنا لا يصح إقامة المتولي غيره مقامه في حياته وصحته مقيد بما إذا لم يكن عند القاضي. وأما لو كان عند القاضي كان عزلا لنفسه وتقرير القاضي للغير نصب جديد وهي مسألة الفراغ بعينها۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 427)

وفي فتاوى الشيخ إسماعيل: التفويض المخالف لشرط الواقف لا يصح فإذا شرط للأرشد ففوض الأرشد في المرض لغير الأرشد وظهرت خيانته يولي القاضي الأرشد اهـ وقوله: وظهرت خيانته أي خيانة المفوض حيث خالف في تفويض ذلك شرط الواقف، وما اشتهر على الألسنة من أن مختار الأرشد أرشد قدمنا رده عند قوله وينزع لو غير مأمون إلخ وتمام ذلك في كتابنا تنقيح الفتاوى الحامدية۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 380):

(وينزع) وجوبا بزازية (لو) الواقف درر فغيره بالأولى (غير مأمون) أو عاجزا أو ظهر به فسق كشرب خمر ونحوه فتح، أو كان يصرف ماله في الكيمياء نهر بحثا (وإن شرط عدم نزعه) أو أن لا ينزعه قاض ولا سلطان لمخالفته لحكم الشرع فيبطل كالوصي فلو مأمونا لم تصح تولية غيره أشباه۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 381)

مطلب في تولية الصبي ويشترط للصحة بلوغه وعقله لا حريته وإسلامه لما في الإسعاف لو أوصى إلى الصبي تبطل في القياس مطلقا وفي الاستحسان هي باطلة ما دام صغيرا، فإذا كبر تكون الولاية له۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 428):

ولو عزل الناظر نفسه إن علم الواقف أو القاضي صح وإلا لا.

نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

19/ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب