| 83943 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
خلاصہ سوال:
دادا نے 1965 میں دوسو روپے میں مکان خریداتھا۔2002میں والد اور چچا نے اس پر تعمیرات کیں، 2004 میں چوالیس لاکھ میں وہ مکان فروخت کردیاگیا۔
مکان کے پیسے دادا نے میرے والد کو دیے۔(یہ مشترکہ کاروبار کے لیے دیے تھے،)والد نے اس سے اپنے نام پر مزید پلاٹ خرید کر ان پر تعمیرات کیں،رقم کم پڑنے کی وجہ سے والدہ اور چچی سے دس دس تولہ سونا لیا کہ بعد میں اداکروں گا،مگر ادا نہیں کیا۔
2007میں دادا کا انتقال ہوا،ان کے نام کوئی جائیداد نہیں تھی،2015 میں چھوٹی پھوپھو میرے والد کے پاس آئی اور اپنے حصے کا مطالبہ کیا،لڑائی جھگڑے سے بچنے کےلیے میرے والد نے ان کو ساڑھے تین لاکھ روپے دیے کہ یہ تمہارا حصہ ہے۔
2022میں والد نے ایک اور شادی کی ،جس سے اولاد نہیں ،2023 میں تیسری شادی کی،اس سے ایک پانچ ماہ کا بیٹا ہے، مئی2024 میں والد کا انتقال ہوا،ان کے نام ایک گھر اور بینک میں انسٹھ لاکھ روپے تھے،ہم نے اس رقم سے آٹھ لاکھ روپے میں مکان والد کے نام سے اپنے نام کروایا۔والد کے انتقال پر قبر ،کھانےاور عام خرچے ہم نے اپنی جیب سے کروائے۔
راہنمائی کی جائے کہ میری تمام پھوپھیوں اور میرے والد کی تینوں بیویوں کا کتنا حق ہے؟
نوٹ:1۔دادا کے ورثہ میں دوبیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔
2۔والد کے ورثہ میں تین بیویاں،تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ دادا نے آپ کے والدکو رقم مشترکہ کاروبار کے لیے دی تھی،اس لیے اس سے خریدے گئے پلاٹ وغیرہ میں میں دادا کے تمام ورثہ شریک ہوں گے۔آپ کے والد صاحب نے اس کے لیے جو سونا قرض لیاتھا، میراث میں سے سب سے سے پہلے اس کی ادائیگی ہوگی،پھر بقیہ میراث دادا کے ورثہ ( دو بیٹے اور تین بیٹیاں )میں اس ترتیب سے تقسیم ہوگی:۔
1۔ ہربیٹے کا حصہ :28.57 فیصدہے۔دونوں بیٹوں کا مجموعی حصہ57.14فیصد ہوگا۔
2۔ہر بیٹی کا حصہ:14.2867فیصد ہے ۔تینوں بیٹیوں کا مجموعی حصہ42.86فیصد ہوگا۔
2۔مکان اور یہ رقم دونوں میراث کا حصہ تھے،لہذامیراث کی تقسیم سے پہلے مکان اپنے نام کرانا اور اس کےلیے ترکہ میں سے رقم لینے کی گنجائش تب ہوسکتی تھی جب تمام ورثہ نے اس کی اجازت دی ہو،اس سے پہلے مکان اپنے نام کرانا اوریہ رقم لینا درست نہیں تھا۔
3۔آپ کے والدکی میراث میں تینوں بیویوں کا حصہ ہے،ان کا مجموعی حصہ12.5 فیصد بنتاہے۔جن میں سے ہر بیوی کا حصہ4.1667بنے گا،بقیہ87.5 فیصد آپ بہن بھائیوں میں اس ترتیب کے ساتھ تقسیم ہوگا۔
1۔ ہربیٹے کا حصہ :25 فیصدہے۔ تینوں بیٹوں کا مجموعی حصہ75فیصد ہوگا۔
2۔ بیٹی کا حصہ:12.5فیصد ہے
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
19/ذیقعدہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


