03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹھیکہ داری کی زمین کاعشراور اس سے اخراجات منہا کرنے کاحکم
83938زکوة کابیانعشر اور خراج کے احکام

سوال

  آج کل کے مروجہ طریقہ میں  زمین ٹھیکہ پر  دی جاتی ہے،اب آیااس زمین کی پیدوارکاعشر ٹھیکہ دار ادا کرے گایا مالک ِزمین اداکرے گا؟نیزعشراخراجات نکال کریا پہلےاداکیاجائے؟

تنقیح:استفسارپر سائل نے وضاحت کی کہ ہمارے ہاں زمین کے ٹھیکہ میں مروجہ طریقہ اس طرح ہے کہ شروع میں ٹھیکہ پر زمین  لینے والامالکِ زمین سےکم از کم  ایک سال کی مدت کےلیے فی ایکڑ کے حساب  سے گندم کی مقدار طےکر لیتا ہے جو آج کل دس سے چودہ بوریاں ہوتی ہے،  اس دوران وہ دو سے تین مختلف فصلیں کاشت کرتا ہے اور سارا خرچہ بھی وہی کرتا ہے، جبکہ  مالکِ زمین صرف   گندم کی  فصل  تیار ہونے پرمقررہ بوریاں گندم  لیتا ہے ، باقی کم یا زیادہ جتنی گندم بچ جائے یا بعض اوقات نہ بھی بچے تو وہ ٹھیکہ دار کے  حصہ میں  شمار  ہوتی ہے۔ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 صورتِ مسولہ کےمطابق  زمین کے مروجہ ٹھیکے میں فصل کے تمام تر اخراجات ٹھیکہ لینے والا کرتا ہے اور کل پیداوار کا مالک بھی وہی ہوتا ہے،جبکہ مالکِ زمین  کو صرف زمین کی اجرت ملتی ہے  جو بظاہرٹھیکہ دار کی تینوں فصلوں کی کل بچت سے کم ہوتی ہے،اس لیے حضراتِ صاحبین رحمہمااللہ تعالیٰ کے قول کے مطابق عشر کی ادائیگی ٹھیکہ دار پر واجب ہوگی،اور یہ عشر فصل کے تیار ہونے تک کے اخراجات نکالنے سے پہلے ادا کیا جائے گا،نیزبہتر یہ ہے کہ ہر فصل کے تیار ہونے پر اس کا عشر ادا کردیا جائے ، ورنہ عشر کی ادائیگی کا عزم اور پکا ارادہ ہو تو کچھ تاخیر کی گنجائش بھی ہے۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ عشرخود  زمین کی ملکیت  پر نہیں بلکہ اس کی پیداوار پر واجب ہوتا ہے، امام ابوحنیفہ  رحمہ اللہ تعالیٰ    کے ہاں  زمین سے جو چیز بھی  باقاعدہ  طور پر اگائی جاتی ہےجیسے فصل،سبزیاں اور باغوں کےپھل وغیرہ چاہے وہ کم ہو یا زیادہ، ان  میں عشر واجب ہے، یعنی اگر زمین قدرتی  آبی وسائل جیسے بارش،دریا اور قدرتی چشمہ سے سیراب کی جاتی ہے تو عشر(کل پیداوارکا دسواں حصہ) اور اگرمصنوعی آلات ووسائل جیسے   کنواں،ٹیوب ویل،کاریزاور نہری پانی وغیرہ کے ذریعے سے سیراب کی جاتی ہے جس میں محنت ،قیمت اور آبیانہ کا خرچہ آتا ہے، تو نصف عشر (کل پیداوار کا بیسواں حصہ) فقراء و مساکین کو دینا ضروری ہے،اور اگرقدرتی و مصنوعی  دونوں طرح کے پانی سے سیراب ہوتی ہو توجس پانی سے سال کے اکثر حصہ میں سیراب کی جائے تو اسی کے حساب سے عشریا نصف عشر  واجب ہوگا ،جبکہ دونوں کا برابر استعمال ہو تو پھر نصف عشر یا عشر کا تہائی حصہ 10/3یعنی کل پیداوار کا40/3 حصہ دیا جائے گا۔

اور جب زمین ٹھیکہ پر دی گئی ہوتو اس کاعشر  مالکِ زمین پر ہوگا یا ٹھیکہ دارپر؟ اس بارے میں فقہائے حنفیہ رحمہم اللہ تعالیٰ     سے دونوں طرح کےاقوال اور ان کے مطابق فتاویٰ بھی منقول ہیں ،چنانچہ فتاویٰ شامیہ میں مذکور اقوال کے حوالے سے حکیم الامہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ   امدادالفتاویٰ( ج: 2ص: 59، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)  میں یوں لکھتے ہیں :

"اگر موجر پوری اجرت لے اور مستاجر کو بہت کم بچے تو عشر موجر کے ذمہ ہے اور اگر موجر اجرت کم لے اور مستاجر کے  پاس زیادہ بچے تو مستاجر کے ذمہ ہے، چونکہ ہمارے دیار میں اجرت کم لی جاتی ہے اس لیے میں وجوب عشر على المستاجر پر فتوی دیا کرتا ہوں، ہاں اگر کسی جگہ پوری اجرت لی جاوے جس میں زمیندار عشر بخوبی ادا کر سکتا ہو تو اس صورت میں وجوب عشر موجر پر ہو گا ۔"  

اسی طرح خیرالفتاویٰ (ج:4،ص:440) میں مالکِ زمین پر عشر واجب قرار دیا گیا ہے مگر اس کی وجہ اس کا مکمل ٹھیکہ وصول کرنا بھی مذکور ہےاور احسن الفتاویٰ (ج:4،ص:347)میں بھی  مذکورہ بالا تفصیل کے ساتھ حکم بتایا گیا، اس لیے ان فتاویٰ سےیہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اگرمروجہ ٹھیکہ میں دی جانے والی زمینوں کی مکمل اجرت ( ٹھیکہ ) وصول کی جاتی ہو اور مستاجر یعنی ٹھیکہ دار کو کم بچت ہوتی ہو تو اس صورت میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ    کے قول کے مطابق  عشر مالک ِ زمین پر واجب ہو گا، ورنہ حضراتِ صاحبین رحمہما اللہ تعالیٰ      کے قول کے مطابق مستاجر پر واجب ہو گا، اور مالک کےمکمل اجرت وصول کرنے  کی پہچان کا طریقہ یہ ہے کہ پیداواری اخراجات جیسے پانی، کھاد اور اسپرے وغیرہ نکالنے اور زمین کا ٹھیکہ ادا کرنے کے بعد کاشتکار کے پاس ٹھیکہ کی رقم سے کم بچت ہو تو اس صورت میں زمین کا عشر مالکِ زمین پر ہو گا، کیونکہ اس صورت میں زمین کی پیداوارسے زیادہ نفع  مالک نے حاصل کیا اور اگر پیداوار کے اخراجات اور زمین کی اجرت ادا کرنے کے بعد کاشتکار کے پاس زمین کی اجرت کے مقابلے میں  زیادہ بچے تو ایسی صورت میں عشر مستاجر یعنی کاشت کار کے ذمہ لازم ہو گا، کیونکہ اس صورت میں زیادہ نفع کاشتکار کو پہنچا ہے۔

یہ عشرفصل کی کاشت سےاس کےتیارہونے تک کےاخراجات نکالنے سے پہلےکل پیداوارپرواجب ہوتا ہے،یعنی  جب پیداوار پک کر کاٹنےاوراستعمال کےقابل ہوجائے تو عشر کا اصل تعلق اسی پیداوار سے ہوتا ہے، البتہ اگرمالکِ پیداوار چاہے تو اس کی مالیت وقیمت کے حساب سےبھی عشر ادا کرسکتا ہے۔ بہر حال پیداوار کے حصول سے پہلے زمین کو ہموار کرنے سےگندم کی کٹائی اور پھر اسے ایک جگہ ڈلوا کر تھریشر لگانے،جبکہ کپاس کی چُنائی اور گنےوغیرہ  کی کٹائی تک کے تمام اخراجات بمع آبیانہ ، انکم ٹیکس اور ٹھیکے کی اجرت کوعشر نکالنے سے پہلے وضع و منہا نہیں کیا جاسکتا ، البتہ جب فصل تیار ہو جائے  تو اس  کو گھر،منڈی  یا فیکٹری وغیرہ  تک لے جانے اور اسی طرح گنے کے زمین سے نکال کر لوڈنگ اور شوگرمِل تک لے جانے    کے تمام اخراجات    عشر سے پہلے منہا کیے جا سکتے ہیں۔ 

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 334):

والعشر على المؤجر كخراج موظف وقالا على المستأجر كمستعير مسلم: وفي الحاوي وبقولهما نأخذ ...(قوله: والعشر على المؤجر) أي لو أجر الأرض العشرية فالعشر عليه من الأجرة كما في التتارخانية وعندهما على المستأجر قال في فتح القدير: لهما أن العشر منوط بالخارج وهو للمستأجر وله أنها كما تستنمى بالزراعة تستنمى بالإجارة فكانت الأجرة مقصودة كالثمرة فكان النماء له معنى مع ملكه فكان أولى بالإيجاب عليه. اهـ. ..(قوله وبقولهما نأخذ) قلت: لكن أفتى بقول الإمام جماعة من المتأخرين كالخير الرملي في فتاواه وكذا...قلت: لكن في زماننا عامة الأوقاف من القرى والمزارع لرضا المستأجر بتحمل غراماتها ومؤنها يستأجرها بدون أجر المثل بحيث لا تفي الأجرة، ولا أضعافها بالعشر أو خراج المقاسمة، فلا ينبغي العدول عن الإفتاء بقولهما في ذلك؛ لأنهم في زماننا يقدرون أجرة المثل بناء على أن الأجرة سالمة لجهة الوقف ولا شيء عليه من عشر وغيره أما لو اعتبر دفع العشر من جهة الوقف وأن المستأجر ليس عليه سوى الأجرة فإن أجرة المثل تزيد أضعافا كثيرة كما لا يخفى فإن أمكن أخذ الأجرة كاملة يفتى بقول الإمام وإلا فبقولهما لما يلزم عليه من الضرر الواضح الذي لا يقول به أحد والله تعالى أعلم.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 328)

(و) يجب (نصفه في مسقي غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة وفي كتب الشافعية أو سقاه بماء اشتراه وقواعدنا لا تأباه ولو سقى سيحا وبآلة اعتبر الغالب ولو استويا فنصفه وقيل ثلاثة أرباعه (بلا رفع مؤن) أي كلف (الزرع) وبلا إخراج البذر؛ لتصريحهم بالعشر في كل الخارج ... (قوله: بلا رفع مؤن) أي يجب العشر في الأول ونصفه في الثاني بلا رفع أجرة العمال ونفقة البقر وكري الأنهار وأجرة الحافظ ونحو ذلك.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 332):

ولا يأكل من طعام العشر حتى يؤدي العشر وإن أكل ضمن عشره مجمع الفتاوى...قال ط في الواقعات عن البزازية لا يحل الأكل من الغلة قبل أداء الخراج وكذا قبل أداء العشر إلا إذا كان المالك عازما على أداء العشر اهـ وهو تقييد حسن.

 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 326):

(قوله: ووقف) أفاد أن ملك الأرض ليس بشرط لوجوب العشر وإنما الشرط ملك الخارج؛ لأنه يجب في الخارج لا في الأرض، فكان ملكه لها وعدمه سواء بدائع.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 325):

(قوله يجب العشر) ثبت ذلك بالكتاب والسنة والإجماع والمعقول: أي يفترض لقوله تعالى {وآتوا حقه يوم حصاده} [الأنعام: 141] فإن عامة المفسرين على أنه العشر أو نصفه وهو مجمل بينه قوله – صلى الله عليه وسلم - «ما سقت السماء ففيه العشر وما سقي بغرب أو دالية ففيه نصف العشر» واليوم ظرف للحق لا للإيتاء فلا يرد أنه لو كان المراد ذلك فزكاة الحبوب لا تخرج يوم الحصاد بل بعد التنقية و الكيل ليظهر مقدارها على أنه عند أبي حنيفة يجب العشر في الخضراوات، ويخرج حقها يوم الحصاد أي القطع بدائع ملخصا.

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 107):

قال أبو حنيفة رحمه الله في قليل ما أخرجته الأرض وكثيره العشر سواء سقى سيحا أو سقته السماء إلا الحطب والقصب والحشيش...ولأبي حنيفة رحمه الله قوله عليه الصلاة والسلام " ما أخرجت الأرض ففيه العشر من غير فصل  .

أحكام القرآن للطحاوي (1/ 333):

حدثنا فهد، قال: حدثنا عبد الله بن رجاء، قال: حدثنا سنان بن عبد الرحمن، عن منصور، عن مجاهد، {وآتوا حقه يوم حصاده} ، قال: إذا حضروا عند الحصاد أعطاهم السنبل، وإذا حضروا عند الكيل حثا لهم من الحنطة، وإذا علم كيله أخرج زكاته، وإذا حضروا عند الجذاذ أعطاهم من الثمر، وإذا حضروا عند الكيل خبا لهم منه، وإذا علم كيله عزل زكاته فهؤلاء كانوا يذهبون في الحق المذكور في هذه الآية أنه سوى الزكاة، كما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، أنه قال: " في المال حق سوى الزكاة "، وقد روينا ذلك فيما تقدم في كتابنا هذا وقد روي عن جابر بن عبد الله في هذه الآية أنها محكمة والمراد بالحق المذكور فيها الزكاة، والاستدلال على ذلك بقوله عز وجل: {ولا تسرفوا إنه لا يحب المسرفين}.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 332):

قلت: وفي البدائع أن الواجب في الخراج جزء من الخارج؛ لأنه عشر الخارج أو نصف عشره وذلك جزؤه إلا أنه واجب من حيث إنه مال لا من حيث إنه جزء عندنا حتى يجوز أداء قيمته.

 محمدعبدالمجید

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

19/ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب