03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“گاڈ سن ” نامی عیسائی آدمی کے نام لینے کا حکم
83954جائز و ناجائزامور کا بیانبچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل

سوال

 عیسائیوں میں ایک آدمی کا نام گاڈسن (Godson)ہے جس کا مطلب ہےاللہ کابیٹا ،جو کہ یہ لوگ حضرت عیسی کو کہتے ہیں، اس آدمی کے بارے میں بات کرتے ہوئے یہ کہنا کہ گاڈ سن نے جھوٹ بولا یا خود کلامی کرتے ہوئے کہنا کہ آج گاڈ سن سے کتاب خریدنی ہے،کیا ایسا کہنے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے،جبکہ نیت کفر کی نہ ہو ؟  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

   لفظ گاڈ سن کا ظاہری مطلب تویہی ہے جوسوال میں  مذکور ہے،مگرانگریزی لغات اورڈکشنریوں میں یہ لفظ  بطورنام درج ذیل تلفظ کے ساتھ لکھا گیا ہے اور اس کا معنی "اچھا بچہ" بتایا گیا:

 “godson noun [ C ]UK  /ˈɡɒd. sʌn/ US  /ˈɡɑːd.sʌn/:a male good child.”

مزید اس کی تعریف میں یہ لکھا گیا کہ  عیسائی رسومات و روایات میں ان کے مذہبی و روحانی سرپرستی کےتعلق کےلیے تین لفظ "گاڈسن،گاڈ ڈاٹر اور گاڈ پیرینٹ" استعمال ہوتے ہیں ، یعنی ان کےبچے مذہبی تربیت کے لیے گاڈ پیرنٹ  کے سپرد کیے جاتے ہیں،اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہےکہ عیسائیوں کے نزدیک  عام بول چال میں  ان لفظوں کا ظاہری مطلب نہیں لیا جاتا، لہٰذا ایسے نام سےغیرمسلم کو متوجہ کرنے یاخود کلامی میں اس کا نام لینے سے آدمی کافر نہ ہوگا،جبکہ اس کی نیت بھی کفر   کی نہ ہو۔نیزیہ کہ محض ایسا نام لینے میں (معاذ اللہ) کفر  کا ارتکاب مقصود نہیں ہوتا بلکہ "نقلِ کفر کفر نہ باشد " کی طرح  یہاں  ایسے  نام والے  آدمی کا نام لے کر اسے صرف متوجہ کیا  جاتا ہےیا اس کے بارے میں کوئی خبر دی جاتی ہے۔

تاہم  ان ناموں سے چونکہ بظاہر کفریہ مطلب ہی ذہن میں آتا ہےجبکہ ہمارے پیارے نبی ﷺ آدمیوں، چیزوں اور جگہوں کے برے ناموں سے بھی سخت کراہت اور تکلیف محسوس کرتے تھے ،اس لیے  ہمیں بھی ایسے نام والے غیر مسلم کو بوقتِ ضرورت متوجہ کرنے اور خود کلامی میں یہ نام لینے سے احتراز کرنا ضروری ہے،لہٰذا ایسے موقع پر ان کی جگہ کوئی اور مناسب لفظ استعمال کرلینا چاہیے ، جیسےیوں کہہ دیا کریں  کہ  اے بچے یااے بندے یا انسانی احترام کی وجہ سے محترم ،جناب،سر(Sir)،مِسٹر (Mister)اور بغیر دلی

 محبت کے دوست کہہ دینا  جبکہ خود  کلامی میں یوں کہیں کہ  فلاں بندے سے کام ہےوغیرہ ۔

حوالہ جات

تحفة المودود بأحكام المولود (ص:   115، 114):

أما قوله أنا ابن عبد المطلب فهذا ليس من باب إنشاء التسمية بذلك وإنما هو باب الإخبار بالاسم الذي عرف به المسمى دون غيره والأخبار بمثل ذلك على وجه تعريف المسمى لا يحرم، ولا وجه لتخصيص أبي محمد بن حزم ذلك بعبد المطلب خاصة، فقد كان الصحابة يسمون بني عبد شمس وبني عبد الدار بأسمائهم ولا ينكر عليهم النبي صلى الله عليه وسلم ،فباب الإخبار أوسع من باب الإنشاء فيجوز ما لا يجوز في الإنشاء ...ومن المحرم التسمية بملك الملوك وسلطان السلاطين وشاهنشاه فقد ثبت في الصحيحين من حديث أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إن أخنع اسم عند الله رجل تسمى ملك الأملاك ...وقال بعض العلماء وفي معنى ذلك كراهية التسمية بقاضي القضاء وحاكم الحكام فان حاكم الحكام في الحقيقة هو الله  .

 تحفة المودود بأحكام المولود (ص: 120):

وقد كان النبي صلى الله عليه وسلم يشتد عليه الاسم القبيح ويكرهه جدا من الأشخاص والأماكن والقبائل والجبال حتى انه مر في مسيرله بين جبلين فسأل عن اسمهما فقيل له فاضح ومخز فعدل عنهما ولم يمر بينهما.

 https://www.quora.com/What-does-it-mean-when someone-has-a-godson- :Definition: A godson or goddaughter is a person for whom someone has taken on a special religious or spiritual responsibility, often in the context of a Christian baptism or dedication ceremony. The godparent is usually chosen by the child's parents or guardians. SHABDKOSH® English Hindi Dictionary | अंग्रेज़ी हिन्दी शब्दकोश:Definitions and Meaning of godson in English:godson noun, a male godchild …A male godparent is a godfather, and a female godparent is a godmother. The child is a godchild.

محمدعبدالمجید

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

20 /ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب