03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ساس کو شہوت کےساتھ چھونے کا جھوٹا اقرار کرنے کا حکم
84288نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

(1)میرا رشتہ میری پھُوپھی کی بیٹی فاطمہ سے طے تھا ۔پھُوپھی کو ڈاکٹر کے پاس جانا تھا،جن کو میں موٹرسائیکل پر بٹھاکر ڈاکٹر کے پاس لے گیا تھا ۔ وہ سہارے کے لئے میرے کندھے پر کپڑےکے اوپر  ہاتھ رکھی ہوئی تھی اور ہاتھ رکھنے کی جگہ پر دوہرا کپڑا تھا۔ میں نے وہ کپڑا دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کے مفتی اور ایک دوسرے مفتی صاحب کو دکھایا تھا،دونوں نے یہی جواب دیا کہ اس کپڑا پر سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوگی ،پھُوپھی کی بیٹی فاطمہ سے نکاح جائز ہے ۔بلکہ دارالعلوم دیوبند کے مفتیانِ کرام نے  مجھے یہاں تک فرمایا  تھا کہ اس طرح کے دوہرےکپڑےپر سے اگرشہوت سے بھی چھوا جائے تو بھی حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوگی ۔ پھر بھی میں نے پھُوپھی سے بعد  میں پوچھا اس کے  بقول اس کےاند ر شہوت نہیں تھی ۔ میرا غالب گمان اور میرا رجحان بھی اسی طرف  ہے کہ میرے اندر اس وقت شہوت نہیں تھی ۔وقت اور حالات سے بھی یہی لگتا ہے کیونکہ راستہ میں کافی بھیڑ تھا جس کی وجہ سے میرا پورا دھیان تو راستہ اور موٹرسائیکل چلانے پر تھا ۔یہ ہے اصل اور حقیقی صورت جو میرے ساتھ پیش آیا ،اصل اور حقیقی  صورت حال کے مطابق حرمتِ مصاہرت ثابت  ہوئی  یا نہیں؟

(2)  ہم سے بعد میں یہ مسئلہ پوچھنے میں دو طرح  غلط بیانی ہوئی ہے: پہلی غلط بیانی  یہ ہوئی کہ  میں نے  یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے  ایک دارالافتاء کوایک تحریری سوال لکھا ،جس میں یہ غلط اقرار کیا تھا  کہ میں نے شہوت سے چھوا۔حالانکہ مجھے پہلے بھی شہوت ہونے یا نہ ہونے کا بالکل بھی یقین نہیں تھا اور نہ اب ہے۔اس بات پر میں اللہ کی قسم کھا تا ہوں ۔محض شک و شبہ تھا۔ بس مسئلہ پوچھنے میں  غلط اقرار کر بیٹھے۔

(3) دوسری غلط بیانی یہ ہوئی   جو اب  سوال  نمبر تین میں  لکھ رہا ہوں ۔ ہوا یو ں کہ  ایک دن میں نے دارلعلوم دیوبند کا یہ فتوی پڑھا کہ کوئی شخص اگر بیوی کے سامنے مذاق میں یہ بولے کہ میں نے  تمہاری ماں کے ساتھ زنا کی تو اُس سے قضاءًحرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے ۔یہ فتوی پڑھنے کے بعد  یہ مسئلہ جاننے کی غرض سے ہم  نے ایک دارالافتاء کو یہ تحریر لکھ کر بھیجی جو کہ سوال  نمبرتین میں لکھ رہا ہوں۔( سوال 3)[حامد کی ساس کسی کام میں مشغول تھی اور حامد وہی پر تھا ، غلطی سے ساس کا ہاتھ حامدکے کندھے پر لگ گیا۔حامد نے بیوی سے  مذاق میں کہا کہ میں نے تیری ماں کو شہوت سےچھوا ،حالانکہ ہاتھ موٹے کپڑے پر سے لگا تھا ،مفتی بہ قول کے مطابق اس کپڑے پر سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی ہے۔ حامد کو شہوت کا یقین نہیں، غالب گمان کے مطابق بھی اس وقت شہوت نہیں تھی اور حامد کی ساس  کےبقول اس میں بھی   شہوت نہیں  تھی ۔دارالعلوم دیو بند کا فتوی ہے کہ اس طرح سے بیوی کے سامنے ساس سے زنا کے غلط اِقرار سے قضاءً حرمتِ مصاہرت ہوجاتی ہے۔ لیکِن میرے ساتھ جو مسئلہ پیش آیا ہے، مسئلہ پوچھنے میں یا مسئلہ جاننے کی غرض سے  جو غلط بیانی اورغلط اقرار کیے ،وہ اس سے مختلف ہے ،میرے مسئلہ  میں زنا کا اقرار نہیں  ہے بلکہ غلطی سے شہوت کا اقرار کرنا تھا اور  شہوت سے چھونے کے شرط بھی نہیں پائی گئ ہے، یعنی  کپڑا  موٹاتھا اور شہوت ہونے یا نہیں ہونے کا شک تھا]سوال نمبر تین میں جہاں سے جہاں تک ہم  نے نشاندہی کی ہیں اور جتنابھی لکھا ہے وہ دارالافتاء کو  بھیجا تھا  ۔  جو صورت حال مجھے اصل میں پیش آیا تھا ،اسی کے طرز پر مسئلہ پوچھنے کے غرض سے ہم  نےسوال لکھا۔بس فرق اتنا تھا کہ نہ تومیری ابھی شادی  ہوئی ہے ، نہ  ہی میری بیوی اور  ساس ہے ، نہ ہی میں نے ہونے والی بیوی کے سامنے مذاق میں ایسا بولا ہے اور نہ ہی میں نے ہونے والی ساس کو شہوت سے چھوا۔۔ہونے والی ساس کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتے وقت دہرا کپڑا کے اُوپر سے کندھے پر ہاتھ رکھنے کا واقعہ تو پیش آیا تھا جو کہ  سوال نمبر 1 میں اُوپر لکھ چکا ہُوں اور نہ ہی  میں نے اپنا نام لکھا بلکہ حامد نام کا استعمال کرکے سوال کیا تھا۔کیا ایسا سوال اور غلط بیانی و غلط اقرار کرنے سےشرعاً حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائیگی یا نہیں ؟یا پھر حرمتِ مصاہرت  نکاح کے بعد کے لئے  معلق ہو جائیگا؟مسئلہ جاننے کی غرض سے فرضی ، بے مقصد اور غلط بیانی والا سوال تو لکھ دیا۔جب احساس ہوا تواب بے چین ہوں ۔حقیقی صورت حال  کے مطابق میرا نکاح   فاطمہ سے جائز ہے  یا نہیں ؟

)  ( 4ہونے والی بیوی کو غلط بیانی کا پتا ہونے یا نہ ہونے سے کوئی  فرق پڑےگا یا نہیں؟

(5)جس طرح طلاق کے مسئلہ میں گواہ بنائے  بغیر جھوٹی طلاق کی خبر دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے،کیا اسی طرح مجھےبھی گواہ سے ثابت کرنا ہوگا ؟لیکن اس بات کی گواہ تو فاطمہ خود ہے، وہ بھی ساتھ گئی تھی اور اس نےیہ سب اپنے آنکھوں سے دیکھا تھا  کہ اُسکی ماں کا ہاتھ دہرے کپڑے کے اوپر  تھا۔اور کپڑا دکھانے کے بعد دارلعلوم دیوبند کے مفتی صاحب نے جو فتویٰ دیا تھا  کہ اِس دوہرےکپڑےپر سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوگی، نکاح جائز ہے، اس فتوی کا بھی فاطمہ کو پتا ہے۔

دارلعلوم دیوبند کا عبارت اور حوالہ

(سوال)اگر کوئی بیوی سے کہے مزاقاً کہ میں نے تیری ماں سے زنا کیاہے ، گواہ بھی موجود تھے حالانکہ حقیقت میں زنا نہیں کیا ہے تو کیا حرمت مصاحرت ہوگی؟

(جواب) مذاقاً بھی اگر کوئی اپنی بیوی کے سامنے ساس سے زنا کا اقرار کرے تو قضاءً حرمتِ مصاہرت کا ثبوت ہوجائے گا۔ درمختار میں خلاصہ سے منقول ہے:وفی الخلاصة قیل لہ ما فعلت بأم امرأتک فقال: جامعتہا تثبت الحرمة؛ ولا یصدق أنہ کذب ولو ہازلا.( الدر المختار) وفی ردالمحتار: (قولہ: ولا یصدق أنہ کذب إلخ) أی عند القاضی، أما بینہ وبین اللہ تعالی إن کان کاذبا فیما أقر لم تثبت الحرمة.( رد المحتار علی الدر المختار:4/ ،ط:زکریا دیوبند)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کو وسوسہ کا مرض ہے  ، آپ اس کا علاج کروائیں او راس سےمتعلق  مزید دارالافتاءوں سے رجوع  نہ کریں۔

حوالہ جات

...

نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

23/ذی قعدہ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب