| 83964 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر خنزیر کی چربی وغیرہ کسی چیز میں استعمال کی جائے (صابن وغیرہ میں) تو پھران چیزوں کا استعمال کرنا کیسا ہے؟ اگر فتویٰ کی صورت میں مل جائے تو شفقت ہوگی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جن اشیاء میں خنزیرکی چربی استعمال کی جاتی ہے ان کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگرکیمیائی طریقے سےخنزیرکی چربی کی ماہیت تبدیل کردی جاتی ہوتو ایسے اشیاء کا استعمال جائزہوگا جیسے کے صابن کہ اس میں ماہیت تبدیل ہوجاتی ہے اوراس میں عموم بلوی بھی ہےاوراگرخنزیرکی چربی کی ماہیت کوتبدیل نہیں کیا جاتا تو پھر ان شیاء کا استعمال جائزنہیں ہوگا،بشرطیکہ ان میں خنزیرکی چربی کی آمیزش کا یقین یاغلبہ ظن ہو،صرف شبہہ سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی،تاہم پھر بھی اگرکوئی اپنے طورپر بچناچاہے تو یہ اس کا تقوی ہوگا۔
حوالہ جات
وفی الدرالمختار مع الشامیة (ج: ۱ ص: ۳۰۱ کتاب الطہارۃ باب الانجاس):
(لا)یکون نجساً (رمادقدر)…(ولا ملح کان حماراً) او خنزیراً ولا قذر و قع فی بئر فصار حمأ ۃ لا نقلاب العین بہ یفتیٰ .
وفی الشامیۃ تحت (قولہ لانقلاب العین) :
علۃ للکل وھذا قول محمد… وکثیر من المشایخ اختاروہ ، وھو المختار لأن الشرع رتب وصف النجاسۃ علی تلک الحقیقۃ وتنتفی الحقیقۃ بانتفاء بعض أجزاء مفھومھا فکیف بالکل؟ فان الملح غیر العظم واللحم، فاذا صار ملحا ترتب حکم الملح، ونظیرہ فی الشرع النطفۃ نجسۃ وتصیر علقۃ وھی نجسۃ وتصیر مضغۃ فتطھر، والعصیر طاھر، فیصیر خمراً فینجس ویصیر خلا فیطھر، فعرفنا أن استحالۃ العین تستتبع زوال الوصف المرتب علیھا.
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 316):
هذه المسألة قد فرعوها على قول محمد بالطهارة بانقلاب العين الذي عليه الفتوى واختاره أكثر المشايخ خلافا لأبي يوسف كما في شرح المنية والفتح وغيرهما. وعبارة المجتبى: جعل الدهن النجس في صابون يفتى بطهارته؛ لأنه تغير والتغير يطهر عند محمد ويفتى به للبلوى. اهـ. وظاهره أن دهن الميتة كذلك لتعبيره بالنجس دون المتنجس إلا أن يقال هو خاص بالنجس؛ لأن العادة في الصابون وضع الزيت دون بقية الأدهان تأمل، ثم رأيت في شرح المنية ما يؤيد الأول حيث قال: وعليه يتفرع ما لو وقع إنسان أو كلب في قدر الصابون فصار صابونا يكون طاهرا لتبدل الحقيقة. اهـ.ثم اعلم أن العلة عند محمد هي التغير وانقلاب الحقيقة وأنه يفتى به للبلوى كما علم مما مر.
الفتاوى الكبرى لابن تيمية (1/ 252):
ان الله حرم الخبائث التي هي الدم والميتة ولحم الخنزير ونحو ذلك، فإذا وقعت هذه في الماء، أو غيره، واستهلكت، لم يبق هناك دم، ولا ميتة، ولا لحم خنزير أصلا كما أن الخمر إذا استهلكت في المائع لم يكن الشارب لها شاربا للخمر، والخمرة إذا استحالت بنفسها وصارت خلا، كانت طاهرة باتفاق العلماء، وهذا على أصل من يقول إن النجاسة إذا استحالت طهرت أقوى كما هو مذهب أبي حنيفة، وأهل الظاهر، وأحد القولين في مذهب مالك، وأحمد، فإن انقلاب النجاسة ملحا، ورمادا، ونحو ذلك: هو كانقلابها ماء، فلا فرق بين أن تستحيل رمادا، أو ملحا، أو ترابا، أو ماء، أو هواء، ونحو ذلك، والله تعالى قد أباح لنا الطيبات، وهذه الأدهان، والألبان، والأشربة: الحلوة، والحامضة، وغيرها من الطيبات، والخبيثة، قد استهلكت، واستحالت فيها، فكيف يحرم الطيب الذي أباحه الله تعالى؟ ومن الذي قال إنه إذا خالطه الخبيث، واستهلك فيه، واستحال قد حرم، وليس على ذلك دليل، لا من كتاب، ولا من سنة، ولا إجماع، ولا قياس.
وفی أحكام القرآن للجصاص (2/ 382):
وقوله تعالى: {ولحم الخنزير} فإنه قد تناول شحمه وعظمه وسائر أجزائه, ألا ترى أن الشحم المخالط للحم قد اقتضاه اللفظ; لأن اسم اللحم يتناوله؟ ولا خلاف بين الفقهاء في ذلك, وإنما ذكر اللحم; لأنه معظم منافعه; وأيضا فإن تحريم الخنزير لما كان مبهما اقتضى ذلك تحريم سائر أجزائه كالميتة والدم, وقد ذكرنا حكم شعره وعظمه فيما تقدم.
وفی مراتب الإجماع (ص: 23):
واتفقوا أن لحم الميتة وشحمها وودكها وغضروفها ومخها، وأن لحم الخنزير وشحمه وودكه وغضروفه ومخه وعصبه حرام كله: وكل ذلك نجس " انتهى.
قاعدة: اليقين لا يزول بالشك(درر الأحكام: 4/ 20، الأشباه للسيوطي: 50 ، ابن نجيم: 56)
إن غلبة الظن في الفروع تقوم مقام اليقين.(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح (ص: 215)
وفی نظام الفتاویٰ( ۱/۲۴):
مغربی ممالک سے آئے ہوئے صابون میں جب تک حرام چربی یا سور کی چربی کا ملا ہوا ہونا دلائل شرعیہ سے ثابت اور یقینی نہ ہوجائے اس وقت تک ان کے استعمال کو ناجائز نہیں کہہ سکتے، کیونکہ اصل اشیاء میں حلت اوراباحت ہے، البتہ اس کے استعمال سے ان حالات میں اجتناب کرنا تقویٰ اوراحتیاط کہا جاسکتا ہے۔ جعل الدہن النجس فی صابون یفتی بطہارتہ لانہ تغیر والتغیر یطہر عند محمد ویفتی بہ لعموم البلوی (
وفی جدید فقہی مسائل( ۱/۱۰۸-۱۱۵):
مغربی ممالک سے جو صابون آتے ہیں ان کے بارے میں کبھی کبھی اس قسم کی اطلاعات بھی سننے کو ملتی ہیں کہ ان میں ناپاک اجزاء سور کی چربی وغیرہ کا استعمال کیاجاتا ہے، اول تو یہ یقینی اور معتبر اطلاع نہیں ہوتی محض ظن و گمان کے درجہ کی چیز ہوتی ہے اور شریعت اس قسم کے اندیشہ ہائے دراز کو پسند نہیں کرتی۔
دوسرے فقہاء نے اسکو دو وجوہ سے پاک قرار دیا ہے ایک یہ کہ ایسے ناپاک اجزاء صابون میں مل کر اپنی حقیقت کھودیتے ہیں اور کوئی ناپاک شئے جب اس حدتک بدل جائے کہ اپنی اصل حقیقت ہی کھودے تو اس کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں،مثلاً منی ناپاک ہے وہ خون بن جائے تو بھی ناپاک ہے، اس کے بعد جب گوشت بن جائے تو اب پاک ہے کہ حقیقت بدل چکی ہے، مشک ناپاک خون ہے، لیکن جب مشک بن گیا تو پاک ہے، غیر ماکول اللحم جانوروں کی ہڈیاں بھی حرام ہیں، مگر جب ان کا نمک بنادیا گیا تو اب حلال ہیں۔
دوسرے اس کے استعمال کی اس قدر کثرت ہے کہ اس سے احتراز دشوار ہے، ایسی چیز کو فقہاء کی اصطلاح میں عموم بلوی سے تعبیر کیا جاتا ہے اس کی وجہ سے حکم میں ایک گنانرمی پیدا ہوجاتی ہے، اس کا تقاضا بھی ہے کہ ایسے صابونوں کا استعمال جائز اور درست ہو، علامہ شامی کا بیان ہےالخ
سیدحکیم شاہ عفی عن
دارالافتاء جامعۃ الرشید
24/11/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


