| 84014 | خرید و فروخت کے احکام | بیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان |
سوال
میں کوئٹہ میں ایک حوالے والے(ہنڈی والے ) کو ایک ماہ کا چیک دوں گا، وہ مجھے درہم دیگا ،یہ درہم مجھے مارکیٹ ریٹ سے مہنگے دے گا ، چونکہ میں نے یہ دبئی بھیجنے ہیں تو وہ مجھے یہ درہم دبئی میں جس بندے کو دینے ہیں وہ اسے دےگا ، یہ اسی وقت بھی ہوسکتا ہے اور بعد میں بھی ہوسکتا ہے،یہ درہم میری امانت ہوں گے ، اور دبئی میں متعلقہ شخص کو موقع ملنے پر پہنچا دے گا۔کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حوالہ (ہنڈی/رقوم کی منتقلی) کا معاملہ درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے:
1۔کرنسی کا تبادلہ ثمنِ مثل پر کیا جائے، یعنی عام مارکیٹ میں معاملہ کے دن اس کرنسی کی جو قیمت ہوگی اسی قیمت کے مطابق تبادلہ کیاجائے،اس سے کم یا زیادہ مقرر نہ کیا جائےتاکہ سود کا اندیشہ نہ ہو۔
2۔ اگر معاملہ مختلف کرنسیوں میں ہو تو دونوں عوضوں میں سےکسی ایک پرمجلس عقد میں قبضہ کیا جائے،یعنی معاملہ کرتے وقت یا تو وہ شخص جو مثلاًدبئی میں درہم دےگا یعنی صراف اور(Money changer)وہ اسی مجلس میں دوسری کرنسی ( روپیہ وغیرہ) پر قبضہ کرے۔
3۔ اس طریقےسےہنڈی کے ذریعہ یا حوالہ کے ذریعہ رقم بھیجنےکی قانوناً اجازت ہو۔
مذکورہ بالا شرائط میں سے اگر پہلی دو شرائط کا لحاظ نہ رکھا گیا تو یہ معاملہ سرے سے ناجائز ہوگااور تیسری صورت میں قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگالیکن کمایا ہوا نفع حرام نہ ہوگا۔ لہٰذا مذکورہ تفصیل کی رُو سےصورتِ مسئولہ میں تینوں شرائط کا لحاظ نہیں رکھا گیا ہے ،کیونکہ درہم کو اس دن کی قیمت سے زائد پر لیا گیا ہے،اسی طرح چیک حوالہ کردینے سے اس پر لکھی گئی رقم کا قبضہ نہیں ہوا ،بالخصوص جب چیک ایک ماہ کے بعد کا ہے اور نہ ہی آپ نے درہم پر قبضہ کیا ہے، اور نہ ہی حوالہ کا کاروبار کرنے کی حکومت کی طرف سے کھلی اجازت ہے، لہذا آپ کا کیا گیا مذکورہ معاملہ جائز نہیں ہے۔ معاملہ کو شرعی اصولوں کے مطابق بنانے کے لئےاوپر ذکر کیا گیا طریقہ اپنایا جائے۔
حوالہ جات
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص: 169):
بيع العملات بدون التقابض:
ثم إن هذه الأوراق النقدية، وإن كان لا يجوز فيها التفاضل، ولكن بيعها ليس بصرف، فلا يشترط فيه التقابض في مجلس العقد، نعم يشترط قبض أحد البدلين عند الإمام أبي حنيفة وأصحابه؛ لأن الفلوس عندهم لا تتعين بالتعيين، فلو افترقا دون أن يقبض أحد البدلين، لزم الافتراق عن دين بدين۔
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص: 171):
ولكن جواز النسيئة في تبادل العملات المختلفة يمكن أن يتخذ حيلة لأكل الربا فمثلا إذا أراد المقرض أن يطالب بعشر ربيات على المائة المقرضة فإنه يبيع مئة ربية نسيئة بمقدار من الدولارات التي تساوي مئة وعشر ربيات وسدا لهذا الباب فإنه ينبغي أن يقيد جواز النسيئة في بيع العملات أن يقع ذلك على سعر سوق السائد عند العقد۔
اسامہ مدنی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
26/ ذیقعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسامہ بن محمد مدنی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


