03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“اگر میں نے اس لڑکی سے نکاح کیا تو اس کو طلاق” کہنے کا حکم
84004طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

ایک لڑکے کے والدین نے اس کے لیے چچا کی بیٹی اس کے نام کر دی، اس وقت لڑکے نے رضامندی کا اظہار بھی کیا، لیکن ابھی منگنی اور نکاح نہیں ہوا تھا کہ لڑکے نے اپنی پھوپھی سے کہا کہ اگر اس لڑکی سے میں نے نکاح کیا تو اس کو طلاق۔ برائے مہربانی اس مسئلہ کا حل بتائیں کہ کیا اس میں رجوع کی کوئی صورت ہو سکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں چونکہ اس لڑکے نے نکاح کی طرف نسبت کرتے ہوئے طلاق کو معلق کیا ہے اس لیے یہ طلاق مذکورہ لڑکی کے ساتھ  نکاح کرنے سے معلق ہو چکی ہے اور جب کوئی شخص طلاق کو کسی فعل کے ساتھ معلق کر دیتا ہے تو اس کے بعد شرعاً اس سے رجوع نہیں ہو سکتا، بلکہ اس فعل کے پائے جانے سے بہر صورت طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا مذکورہ صورت میں معلق طلاق سے رجوع ممکن نہیں، البتہ صورتِ مسئولہ میں چونکہ ایک ہی طلاق کو معلق کیا گیا ہے اس لیے مذکورہ لڑکی سے نکاح کرنے کی صورت میں صرف ایک ہی طلاق واقع ہو گی اور فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو جائے گا، البتہ اس صورت میں عدت واجب نہیں ہو گی،  پھر دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ ایک مرتبہ شرط پائے جانے کی وجہ سے یمین ختم ہو جاتی ہے۔

لہذا لوگوں کے سامنے نکاح کرنے سے پہلے اگر ایک نکاح گھر والوں کی موجودگی میں کرا دیا جائے اور پھر دوسرا نکاح دیگررشتہ داروں وغیرہ کو بلا کر کروا دیا جائے تو دوسرے نکاح سے طلاق نہ ہو گی۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 416) دار الفكر،بيروت:

فإن وجد الشرط في الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فدخلت وهي امرأته وقع الطلاق ولم تبق اليمين.

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 244) دار احياء التراث العربي – بيروت:

إن وجد الشرط في ملكه انحلت اليمين ووقع الطلاق " لأنه وجد الشرط والمحل قابل للجزاء فينزل الجزاء ولا تبقى اليمين لما قلنا " وإن وجد في غير الملك انحلت اليمين " لوجود الشرط " ولم يقع شيء " لانعدام المحلية.

 البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 23) دار الكتاب الإسلامي:

(قوله فإن وجد الشرط في الملك طلقت وانحلت اليمين) لأنه قد وجد الشرط، والمحل قابل للجزاء فينزل، ولم تبق اليمين لأن بقاءها ببقاء الشرط والجزاء، ولم يبق واحد منهما، وفي القنية قال لها إن خرجت من الدار إلا بإذني فأنت طالق فوقع فيها غرق أو حرق غالب فخرجت لا يحنث اھ.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

27/ذوالقعدة 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب