03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ورثہ کوترکہ کےمکان میں بننے والے حصہ کی قیمت دینے کے بعدمالک کون ہے؟
83993میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے دادانے1962میں گھرتعمیرکیا،میرے داداکاانتقال1972میں ہوا اوردادی کاانتقال1983 میں ہوا،میرے دادانے ورثہ میں5 بیٹیاں اورایک بیٹا(میرے والد)کوچھوڑا،پھوپھیوں کے اصرارپر2002 میں ان کاحصہ میں نے اداکردیا اورمیں اپنی والدہ،چاربہنوں اورایک بھائی کے ساتھ اسی گھرمیں رہنے لگا،اب میں اپنی والدہ،بھائی اوربہنوں کووراثت میں حصہ دیناچاہتاہوں،اگرگھرکی مالیت10کروڑہو تواس گھرکی تقسیم کیسے ہوگی؟والدکے ورثہ میں میری والدہ،ہم دوبھائی اورچاربہنیں ہیں۔

وضاحت:مرحوم دادااوردادی کے ورثہ میں ایک بیٹااورپانچ بیٹیاں تھیں،دونوں کے والدین کاانتقال ان کی زندگی میں ہوگیاتھا،مرحوم داداکی وفات کے بعدمیرے والد،پھران کی پانچ بہنوں کاانتقال ہوا،داداکے مکان میں پانچ بہنوں کاجوحصہ بنتاتھا یعنی سات حصے کرکے پانچ حصہ کی جوقیمت بنتی تھی میں نے خود اپنی ذاتی رقم سے اداکردی تھی اوریہ کہہ کردی تھی کہ یہ آپ لوگوں کےمیراث میں جوحصہ بنتاہے اس کی رقم ہے،معلوم یہ کرناہے اس مکان میں سے میراکتناحصہ ہے اوردیگربہن بھائیوں کاکتناحصہ ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگرواقعی آپ نے مکان کی  حقیقی قیمت لگواکرذاتی رقم سےبہنوں(پھوپھیوں) کاجتناحصہ بنتاتھا اداکیاہےتومکان کے اتنے حصہ کے مالک آپ بن گئے ہیں،اتنی جگہ آپ کے والدکے ترکہ میں شامل نہیں،داداکے ترکہ میں سےآپ کے والدکے حصہ میں جتنی جگہ آرہی تھی توصرف اس جگہ میں وراثت جاری ہوگی،جیسےاگراس مکان کی قیمت دس کروڑ روپے ہے،توداداکے ترکہ میں سے ہربیٹی کے1.4285714 روپے اوربیٹے کے2.8571428 روپے بنتے ہیں،اگرآپ نے ہرپھوپھی کواتنی رقم اپنی جیب سے دی ہے تواس کامطلب ہے آپ نے وہ جگہ خریدلی ہے اورآپ اس  جگہ کے مالک بن گئے ہیں اورداداکے ترکہ میں سے جورقم آپ کے والدکے حصہ میں آرہی ہےوہ رقم آپ کی والدہ ،بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگی،بیوہ کوکل ترکہ کاآٹھواں حصہ دینے کے بعد کل ترکہ کے آٹھ حصے بنالیں،ایک ایک حصہ بہن کواوردوحصے ہربھائی کوملیں گے۔

حوالہ جات

۔۔۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

   ۲۷/ذی قعدہ ۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب