| 84009 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:میرے نانا )محمد شریف مرحوم (کی وراثت شریعت کے مطابق کیسے تقسیم ہوگی؟
میرے نانا کا ایک بیٹا اورتین بیٹیاں ہیں:
1۔بیٹا(محمدرمضان مرحوم)۔2۔بڑی بیٹی(کشورسلطانہ)3۔درمیانی بیٹی( جنت)4۔چھوٹی بیٹی( عشرت)
تنقیح:سائل نےوضاحت کی ہےکہ پہلےمیرےنانا کاانتقال ہوا،اس کےبعدنانی جان کااورنانی کےانتقال کےبعد ماموں جان فوت ہوئےتھے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نانامرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو (اداکیاجائےگا،پھر مرحوم کاقرضہ اداکیاجائےگا،تیسرے نمبر پر اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے لئے اپنے مال میں سے تہائی حصہ تک وصیت کی ہے تو اسےاداکیاجائے،اس کےبعدجوکچھ بچ جائےتواس وقت موجودورثہ (بیوہ،ایک بیٹےاورتین بیٹیوں )میں تقسیم کیاجائےگا۔
تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ بیوہ(آپ کی نانی جان)کوکل میراث کاآٹھواں حصہ ملےگا،بیوہ کاحصہ نکالنےکےبعدباقی میراث ایک بیٹےاورتین بیٹیوں میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ بیٹےکودوحصےملیں گےاور تین بیٹیوں میں سےہرایک کو ایک ایک حصہ دیاجائےگا۔
فیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتوکل میراث میں سے12.5%فیصدبیوہ کوملےگا،اس کےبعدباقی مال کا 35%فیصدحصہ بیٹےکاہوگااورتین بیٹیوں میں سےہرایک بیٹی کوالگ الگ 17.5%فیصدحصہ دیاجائےگا۔
حوالہ جات
"السراجی فی المیراث "5،6 :
الحقوق المتعلقہ بترکۃ المیت :قال علماؤنارحمہم اللہ تعالی تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبدأبتکفینہ وتجہیزہ من غیرتبذیرولاتقتیر،ثم تقصی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذوصایاہ من ثلث مابقی بعدالدین ،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ ۔
قال اللہ تعالی فی سورۃ النساء:
یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکرمثل حظ الانثیین۔
"سورۃ النساء" آیت 12:وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
27/ذیقعدہ 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


