| 84043 | ذکر،دعاء اور تعویذات کے مسائل | رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے مسائل ) درود سلام کے ( |
سوال
میری بیوی گزشتہ پانچ سال سے کہہ رہی تھی کہ مجھ پر جنات کا اثر ہے، وہ اس کو مختلف طریقوں سے تنگ کرتے تھے۔ اب کچھ ماہ سے وہ دعویٰ کر رہی ہے کہ میں دم، تعویذ وغیرہ کرسکتی ہوں اور کرتی ہوں، اور حقیقت میں میں خود کچھ بھی نہیں کرتی، سارا کام جنات کرتے ہیں، میں صرف ایک آلہ ہوں۔
اس کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ اس نے کچھ کمانے کے لیے کپڑوں پر کڑھائی کا کام شروع کیا، ایک ہفتہ بعد اس نے مجھے بتایا کہ آپ یہ سب کچھ واپس کردیں، مجھے جنات نے بتایا کہ یہ مشکل کام ہے، آپ لوگوں کو دم کیا کریں، تعویذ کریں اور اس پر رقم لیا کریں، ہم آپ کی مدد کریں گے۔ میری بیوی کہتی ہے کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ یہ دم مجھے سکھادیں، تاکہ جب آپ نہ ہوں تو میں دم کرسکوں، انہوں نے کہا: نہیں، جب آپ دم کریں تو آخری تین قل اور ختم القرآن کی دعا پڑھ لیا کریں، ہم خود حاضر ہوں گے اور آگے سب کچھ ہم خود کریں گے۔
چنانچہ جب کوئی دم کے لیے آتا ہے تو وہ خود آخری تین قل اور ختم القرآن کی دعا پڑھتی ہے، اس کے بعد اس کے ہونٹ ہلتے ہیں، مختلف آیات پڑھتی ہیں، لیکن حقیقت میں وہ خود نہیں، جنات پڑھتے ہیں۔ میری بیوی کو لکھنا نہیں آتا، لیکن جب وہ تین قل اور ختم القرآن کی دعا پڑھ کر تعویذ (پانی میں گھول کر پینے کے لیے) لکھتی ہے تو قرآن کھولتی ہے، ورق پلٹتی ہے، کسی جگہ پر جا کر رک جاتی ہے اور آیت لکھنا شروع کردیتی ہے، اس وقت صحیح صحیح لکھ دیتی ہے، دوسرے وقت میں نہیں لکھ سکتی۔
میری بیوی دم اور تعویذ صرف قرآن سے کرتی ہے۔ نیز یہ جنات اس نے کسی عمل کے ذریعے مسخر نہیں کیے، بلکہ پانچ سال سے اس کے ساتھ تھے، اس کو تنگ کرتے تھے اور اب چند ماہ سے یہ سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جس کی تفصیل میں اوپر بتاچکا ہوں۔ ہمارے بعض رشتہ دار کہتے ہیں کہ اس کی بیوی دم اور تعویذ کرتی ہے، جوکہ جائز نہیں، اس لیے ہم ان کے گھر نہیں جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ:
(1)۔۔۔ عورت کے لیے دم، تعویذ وغیرہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کن حدود اور شرائط کے ساتھ؟
(2)۔۔۔ قمیص یا تصویر سے مرض کی تشخیص اور روحانی علاج کا کیا حکم ہے؟ وہ کہتی ہے کہ جب کوئی میرے پاس روحانی علاج کے لیے آئے تو میں قمیص یا تصویر دیکھ کر بتا سکتی ہوں کہ اس پر سحر اور جادو کا اثر ہے یا نہیں۔ اسی طرح بتی سے علاج کا حکم کیا ہے؟ جس کی صورت یہ ہے کہ کاغذ وغیرہ گول کر کے اس کی بتی بنالیتی ہے اور مریض کے اوپر اسے جلا کر دھواں اٹھاتی ہے۔
(3) ان کاموں پر وہ رقم متعین کر کے لے سکتی ہے یا نہیں؟ اگر لے سکتی ہے تو اس کی حدود و شرائط کیا ہیں؟ وہ گھر میں خرچ کرسکتے ہیں یا صدقہ کرنا ہوگا؟
میں یہ باتیں اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ اگر یہ کام جائز نہ ہو تو اپنی بیوی کو مستقل منع کردوں۔ اب بھی میں نے اس کو جنات کے مریضوں کو دم کرنے، تعویذ لکھنے اور باقی سب کاموں سے منع کیا ہے، صرف پانی یا چینی دم کرنے کی اجازت دی ہے۔ جب میں نے اس کو ان کاموں سے منع کیا تو اس کے بعد پانچ چھ دن تک بیمار رہی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ بالا سوالات کے جوابات جاننے سے قبل بطورِ تمہید یہ جاننا ضروری ہے کہ:
- جنات کو کسی عمل یا وظیفہ کے ذریعے مسخر کر کے ان کے ذریعے کمائی کرنا شرعاً جائز نہیں، لیکن اگر وہ از خود کسی کے ساتھ ہوجائیں اور کسی جائز کام میں تعاون کریں تو اس میں شرعاً قباحت نہیں۔
- دم اور تعویذ اگر جائز مقصد کے لیے ہو، جائز طریقے سے ہو، اس میں نجاست یا اور کسی ناجائز چیز اور عمل کا دخل نہ ہو، بلکہ قرآنِ کریم کی آیات، مسنون دعاؤں اور ایسے کلمات کے ساتھ ہوں جن کے معانی واضح، معلوم اور صحیح ہوں تو ایسا دم اور تعویذ جائز ہے اور اس پر متعین اجرت لینا بھی درست ہے۔
- کفریہ کلمات یا ایسے کلمات پر مشتمل دم پڑھنا یا تعویذ لکھنا جن کے معانی مبہم اور غیر معلوم ہوں، جائز نہیں۔ اسی طرح اگر مقصد ناجائز ہو یا اس میں کسی نجاست وغیرہ ناجائز کام کا ارتکاب کرنا پڑے تو ایسا دم اور تعویذ بھی جائز نہیں ہوگا۔
اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات درجِ ذیل ہیں:
(1)۔۔۔ تمہید میں ذکر کردہ شرائط کے ساتھ خاتون کے لیے دم اور تعویذ کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس میں کسی نامحرم کے ساتھ خلوت، بے تکلفی یا بے پردہ سامنے آنا نہ ہو۔
(2)۔۔۔ اگر اس فن کے دیندار ماہر افراد ان طریقوں سے جادو کی تشخیص کے قائل ہوں اور اس میں کوئی ناجائز کام نہ کرنا پڑتا ہو، نہ ہی اس کو بذاتِ خود مؤثر مانا جاتا ہو، بلکہ تدبیر اور سبب کے درجے میں اس کو اختیار کیا جاتا ہو تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
(3)۔۔۔ مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق جو دم اور تعویذ جائز ہو، نیز دھوکہ دہی پر مشتمل نہ ہو، بلکہ دم اور تعویذ کرنے والا صحیح دم اور تعویذ کرسکتا ہو تو اس پر مناسب اور متعین اجرت لینے اور اس کو اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے۔
حوالہ جات
معارف القرآن للمفتي محمد شفیع - رحمه الله تعالی - (267-265):
لیراجع تفسیر قوله تعالیٰ:"ومن الجن من يعمل بين يديه" (سورۃ السبأ، الآیة الرقم: 12) باستفادةٍ من "آکام المرجان في أحکام الجان" للقاضي بدر الدین أبي عبد الله محمد بن عبد الله الشبلي المتوفی 769ھ –رحمه الله تعالی -.
آكام المرجان فى أحكام الجان (ص: 107):
الباب الرابع والأربعون في تسخير الجن للإنس وطاعتهم لهم:
قال الله تعالى: ومن الشياطين من يغوصون له ويعملون عملا دون ذلك وكنا لهم حافظين (الأنبیاء:42) وقال تعالى: وحشر لسليمان جنوده من الجن والإنس والطير فهم يوزعون (النمل:17) ومن الجن من يعمل بين يديه بإذن ربه ومن يزغ منهم عن أمرنا نذقه من عذاب السعير. (السبأ: 12) يعملون له ما يشاء من محاريب وتماثيل وجفان كالجواب وقدور راسيات اعملوا آل داود شكرا. (السبأ: 13) وقال تعالى : والشياطين كل بناء وغواص وآخرين مقرنين في الأصفاد (ص:37) وقال تعالى : قال عفريت من الجن أنا آتيك به قبل أن تقوم من مقامك (النمل:39). وفيما قص الله تعالى من أعمال الجن لسليمان عليه السلام كفاية.
صحيح ابن خزيمة (4/ 91):
عن أبي هريرة قال: قال: أخبرني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أحفظ زكاة رمضان فأتاني آت في جوف الليل فجعل يحثو من الطعام فأخذته فقلت : لأرفعنك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال دعني : فإني محتاج فخليت سبيله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد ما صلى الغداة: يا أبا هريرة ما فعل أسيرك الليلة أو قال البارحة؟ قلت : يا رسول الله اشتكى حاجة فخليته و زعم أنه لا يعود فقال : أما أنه قد كذبك و سيعود قال : فرصدته و علمت أنه سيعود لقول رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فجاء فجعل يحثو من الطعام فقلت : لأرفعنك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فشكى حاجة فخليت عنه فأصبحت فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما فعل أسيرك الليلة أو البارحة ؟ قلت يا رسول الله : شكى حاجة فخليته و زعم أنه لا يعود فقال : أما أنه قد كذبك و سيعود و علمت أنه سيعود لقول رسول الله صلى الله عليه و سلم فجاء فجعل يحثو من الطعام فأخذته فقلت : لأرفعنك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : دعني حتى أعلمك كلمات ينفعك الله بهن ـ قال و كانوا أحرص شيء على الخير ـ قال: إذا أويت إلى فراشك فاقرأ آية الكرسي { الله لا إله إلا هو الحي القيوم } فإنه لن يزال معك من الله حافظا و لا يقربك الشيطان حتى تصبح فخليت سبيله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما فعل أسيرك يا أبا هريرة ؟ فأخبره، فقال: صدقك، و إنه لكاذب، تدري من تخاطب منذ ثلاث ليال؟ ذاك الشيطان.
صحيح البخاري (6/ 187):
عن أبي سعيد الخدري قال: كنا في مسير لنا، فنزلنا، فجاءت جارية، فقالت: إن سيد الحي سليم، وإن نفرنا غيب، فهل منكم راق؟ فقام معها رجل ما كنا نأبنه برقية، فرقاه، فبرأ، فأمر له بثلاثين شاة، وسقانا لبنا، فلما رجع، قلنا له: أكنت تحسن رقية؟ أو كنت ترقي؟ قال: لا، ما رقيت إلا بأم الكتاب، قلنا: لا تحدثوا شيئا حتى نأتي أو نسأل النبي صلى الله عليه وسلم، فلما قدمنا المدينة ذكرناه للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: وما كان يدريه أنها رقية، اقسموا واضربوا لي بسهم.
آكام المرجان فى أحكام الجان للشبلي (ص: 121):
الباب الثامن والأربعون في السبب الذي من أجله تنقاد الجن والشياطين للعزائم والطلاسم:
كفار الجن وشياطينهم يختارون الكفر والشرك ومعاصي الرب، وإبليس وجنوده من الشياطين يشتهون الشر ويكيدون به ويطلبونه ويحرصون عليه، يقتضى خبث أنفسهم وإن كان موجبا لعذابهم وعذاب من يغوونه……. والإنسان إذا فسدت نفسه أو مزاحه يشتهى ما يضره ويلتذ به، بل يعشق ذلك عشقا يفسد عقله ودينه وخلقه وبدنه وماله، والشيطان هو نفسه خبيث، فإذا تقرب صاحب العزائم والأقسام وكتب الروحانيات السحرية وأمثال ذلك إليهم بما يحبونه من الكفر والشرك صار ذلك كالرشوة والبرطيل لهم، فيقضون بعض أغراضه، كمن يعطى غيره مالا ليقتل له من يريد قتله أو يعينه على فاحشة أو ينال معه فاحشة، ولهذا كثير من هذه الأمور يكتبون فيها كلام الله تعالى بالنجاسة وقد يقلبون حروف "قل هو الله أحد" أو غيرها بنجاسة، إما دم وإما غيره، وإما بغير نجاسة ويكتبون غير ذلك مما يرضاه الشيطان، أو يتكلمون بذلك، فإذا قالوا أو كتبوا ما ترضاه الشياطين أعانتهم على بعض أغراضهم، إما تغوير ماء من المياه، وإما أن يحمل في الهواء إلى بعض الأمكنة، وإما أن يأتيه بمال من أموال بعض الناس كما تسرقه الشياطين من أموال الخائنين ومن لم يذكر اسم الله عليه ويأتى به وإما غير ذلك، ولو سقنا في كل نوع من هذه الأنواع من الأمور المعينة ومن وقعت له ممن عرفناه ومن لم نعرفه لطال ذلك جدا......... الخ
آكام المرجان فى أحكام الجان للشبلي (ص: 127):
فصل: يجوز أن يكتب للمصاب وغيره من المرضى شيء من كتاب الله عز وجل وذكره بالمداد المباح ويغسل ويسقي، كما نص ذلك الإمام أحمد وغيره. واحتج بما رواه بإسناده عن ابن عباس أنه كان يكتب لمن أصابها الطلق كلمات الكرب وآيتين من كتاب الله عز وجل تناسب الحال، يكتب: لا إله إلا الله العظيم الحليم، سبحان الله رب العرش العظيم، الحمد لله رب العالمين، كأنهم يوم يرونها لم يلبثوا إلا عشية أو ضحاها(النازعات:46). كأنهم يوم يرون ما يوعدون لم يلبثوا إلا ساعة من نهار، بلاغ فهل يهلك إلا القوم الفاسقون (الأحقاف:35).
قلت: قدمنا في الباب الأول استطرادا أن عامة ما بأيدي الناس من العزائم والطلاسم والرقي لا تفقه بالعربية معناها، ولهذا نهى علماء المسلمين عن الرقي غير المفهومة المعنى؛ لأنها مظنة الشرك، وإن لم يعرف الراقي أنها شرك، ومن رتع حول الحمى أو شك أن يقع فيه، وفي الصحيح عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه رخص في الرقي ما لم يكن شركا، وقال: من استطاع أن ينفع أخاه فليفعل.
وفي التطبب والاستشفاء بكتاب الله عز وجل غنى تام ومقنع عام، وهو النور والشفاء لما في الصدور، والوقاء الدافع لكل محذور، والرحمة للمؤمنين من الأحياء وأهل القبور، وفقنا الله لإدراك معانيه، وأوقفنا عند أوامره ونواهيه، ومن تدبر من آيات الكتاب من ذوي الألباب وقف على الدواء الشافي كل داء مواف سوى الموت الذي هوغاية كل حي، فإن الله تعالى يقول: ما فرطنا في الكتاب من شيء (الأنعام:38).
وخواص الآيات والأذكار لا ينكرها إلا من عقيدته واهية، ولكن لا يعقلها إلا العالمون؛ لأنه تذكرة وتعيها أذن واعية، والله الهادي للحق.
الفتاوى الهندية (5/ 356):
واختلف في الاسترقاء بالقرآن نحو أن يقرأ على المريض والملدوغ أو يكتب في ورق ويعلق أو يكتب في طست فيغسل ويسقى المريض، فأباحه عطاء ومجاهد وأبو قلابة، وكرهه النخعي والبصري، كذا في خزانة الفتاوى، فقد ثبت ذلك في المشاهير من غير إنكار.
رد المحتار (6/ 364-363):
قوله ( التميمة المكروهة ) أقول: الذي رأيته في المجتبى التميمة المكروهة ما كان بغير القرآن.
وقيل: هي الخرزة التي تعلقها الجاهلية اه، فلتراجع نسخة أخرى. وفي المغرب: وبعضهم يتوهم أن المعاذات هي التمائم، وليس كذلك، إنما التميمة الخرزة، ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن أو أسماء الله تعالى، ويقال: رقاه الراقي رقيا ورقية إذا عوذه ونفث في عوذته.
قالوا: وإنما تكره العوذة إذا كانت لغير لسان العرب ولا يدري ما هو؟ ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به اه.
قال الزيلعي: ثم الرتيمة قد تشتبه بالتميمة على بعض الناس، وهي خيط كان يربط في العنق أو في اليد في الجاهلية لدفع المضرة عن أنفسهم على زعمهم، وهو منهي عنه، وذكر في حدود الإيمان أنه كفر اه. وفي الشلبي عن ابن الأثير: التمائم جمع تميمة، وهي خرزات كانت العرب تعلقها على أولادهم، يتقون بها العين في زعمهم، فأبطلها الإسلام…………..وفي المجتبى: اختلف في الاستشفاء بالقرآن بأن يقرأ على المريض أو الملدوغ الفاتحة أو يكتب في ورق ويعلق عليه أو في طست ويغسل ويسقي، وعن النبي أنه كان يعوذ نفسه، قال رضي الله عنه: وعلى الجواز عمل الناس اليوم، وبه وردت الآثار، ولا بأس بأن يشد الجنب والحائض التعاويذ على العضد إذا كانت ملفوفة، اه.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
28/ذوالقعدۃ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


